قرۃ العین، ایک گھنا درخت: شہریار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شہریار اردو کے معروف شاعر ہيں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مظفر علی کی فلم ’امراؤ جان‘ کے علاوہ کئی فلموں کے لیے نغمے لکھے ہیں۔ قرۃالعین حیدر کے اس دنیا سے چلے جانے پر وہ ان کے ساتھ گزارے کچھ لمحات کا ذکر کر رہے ہيں۔ ان کے یہ الفاظ ٹیلیفونِک بات چیت پر مبنی ہیں۔ ’میں ان کو پچاس کی دہائی سے جانتا ہوں جب وہ پاکستان میں تھیں۔اس دوران وہ علی گڑھ ميں پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کے جلسہ میں شرکت کرنے آئیں تھیں۔ اس وقت وہ بہت خوبصوت ہوا کرتی تھیں۔ وہ جب لکچر دینے کھڑی ہوئيں تو ان کے ایک جملے نے پورے محفل میں کھلبلی مچا دی۔ قرۃالعین نے کہا کہ اردو میں تو ناول ہے ہی نہیں میں تقریر کیا کروں؟ ان کے اس جملے پر پروفیسر خلیل الرحمان اعظمی نے لمبی اور سخت تقریر کی۔ میرے خیال میں ’آگ کا دریا‘چھپنے کے بعد پاکستان نے ان کے ساتھ 'ہاسٹائل' رویہ اختیار کر لیا تھا، وہ ہندوستان واپس آگئيں۔ وہ کون سے اسباب تھے جس کے سبب وہ واپس آئيں اس کے بارے ميں انہوں نے کبھی روشنی نہيں ڈالی۔
وہ علی گڑھ آنے میں دلچسپی نہيں رکھتی تھیں۔ لیکن میں نے ان سے کہا کہ آپ آجائیے اگر اچھا نہ لگے تو چلی جائيےگا۔ لیکن جب وہ آئیں تو انہيں سب نے شیشے کی طرح رکھا اور وہ بہت خوش ہوگئیں۔ علی گڑھ میں میرے گھر ميں ان کا آنا جانا لگا رہتا تھا اور ان کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اگر ان کو کوئی پسند آجا تا تھا تو وہ بہت اچھا برتاؤ کرتیں تھیں، اس کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار رہتی تھی۔ جب وہ دلی آگئیں تب بھی جب بھی میں دلی جاتا تھا تو ان کے گھر ضرور جاتا۔ وہ کبھی بنا کھانا کھائے واپس آنے نہیں دیتی تھیں۔ وہ اپنے فن کے سلسلے ميں بہت محتاط تھیں۔ لیکن صرف ادب ہی نہيں بلکہ ان کو اس بات سے بھی پریشانی تھی کہ فلموں ميں مسلمانوں کو صرف پان کھاتے اور غربت میں جیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی ترقی حاصل کر رہے ہيں۔ انہوں نے فوٹوز کا ایک ایلبم شائع کروایا اور انہيں جن لوگوں نے خط لکھے ہیں ان کا بھی کلیکشن انہوں نے شائع کروایا ہے۔ ابھی میری پاکستان کے ادیب انتظار حسین سے بات ہو رہی تھی، ان سے بس میں نے یہی کہا کہ ہمارے سر پر ایک بہت بڑا گھنا درخت تھا اور آج ہم اس سے محروم ہوگئے ہیں اور یہ سب سے زيادہ تکلیف کی بات ہے۔ وہ بہت سوشل تھیں اور سب سے بہت پیار سے ملتی تھیں۔ ان کو دنیا سے کوئی شکایت نہیں تھی اور ان کو کسی طرح کی کوئی تکلیف نہیں تھی۔‘ | اسی بارے میں قرۃالعین حیدر انتقال کرگئیں21 August, 2007 | فن فنکار ’سورج کو جھونکا ہوا کا بجھا گيا‘21 August, 2007 | انڈیا ناول نگار قرۃ العین حیدر سپردِ خاک21 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||