BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 September, 2004, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک شاعر، پوئٹِک جسٹس کے انتظار میں؟
News image
کرشنا نے دوست کے مویشی مارنے پر ایک شخص کو قتل کردیا تھا
بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں ایک شاعر نے جسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے، سیاست دانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی سزا پر عمل درآمد رکوائیں۔

چھتیس سالہ رادھا کرشنا کو انیس سو چورانوے میں عدالت میں ایک شخص کو قتل کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مرنے والے نے کرشنا کے دوست کے مویشی مار دیئے تھے۔

سیاست دانوں اور شاعروں نے ’قاتل‘شاعر کی کتاب کی جس کا نام ہے ’جیل سے موتی‘ ہے بہت تعریف کی ہے۔

کرشنا نے تامل ناڈو ریاست سے بھی رحم کی اپیل کی تھی جو مسترد ہوگئی۔ اب کرشنا صدر اے پی جے کلام سے رحم کی اپیل کر رہے ہیں جو خود ایک شاعر ہیں۔

پچپن روپے کی کتاب ’جیل سے موتی‘ سے حاصل ہونے والی آمدنی بے آسرا بچوں کو ملتی ہے۔

اپنی کتاب میں شاعر نے نظموں میں سیاست کو بھی موضوع بنایا ہےاور عراق کی جنگ پر بھی اپنے خیالات نظم کیے ہیں اور سری لنکا کے تامل باغیوں کے رہنما پربھاکرن کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

علاقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ حیران ہے کہ جذبات کا ایسا اظہار اس شخص نے کیا ہے جو جیل میں پھانسی کے انتظار میں ہے۔

سزائے موت پانے والے اس شاعر کے پاس ایم اے کی ڈگری ہے اور وہ آج کل کمپیوٹر کی تعلیم بھی حاصل کر رہا ہے۔

عام طور پر بھارت میں موتے کی سزا ختم کر دی جاتی ہے لیکن حال ہی میں بھارت کے صدر نے رحم کی ایک اپیل مسترد کر دی تھی اور مجرم کو چودہ اگست کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد