مسافر ساٹھ برسوں کے، ابھی تک ۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے ساٹھ برس پورے ہونے پر سنیچر کی شام دلی میں ایک مشاعرہ ہوا جس میں ہندوستان اور پاکستان کے کئی ممتاز شعراء نے حصہ لیا۔ مشاعرے میں دونوں ملکوں کو درپیش مسائل اور پریشانیوں کا بخوبی ذکر کیا گیا۔ دلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اس مشاعرے میں دونوں ملکوں کے شعراء نے اپنے کلام میں تقسیم کا درد اور دونوں ملکوں کی دوریوں کا اظہار کیا۔ ہندوستان کے مشہور شاعر زبیر رضوی نے پاک و ہند رشتوں کی نزاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رشتہ عجیب ہے۔ اس بات کو انہوں نے کچھ یوں بیان کیا: پاکستان کے شاعر اصغر ندیم سید نے اپنی نظم کے ذریعے یہ کہنے کی کوشش کی کہ دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہونے میں اب کچھ وقت اور باقی ہے۔ ابھی کچھ دن لگے گیں خواب کی تعبیر ہونے میں اصغر ندیم کی ایک اور نظم نے ماحول کو جذباتی بنا دیا: مسافر ساٹھ برسوں کے ابھی تک گھر نہیں پہنچے
جتنے لوگ آڈیٹوریم میں تھے اس سے دوگنے افراد باہر کھڑے سکرین پر مشاعرے سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور اصغر ندیم کو داد دے رہے تھے۔ یہ مشاعرہ کئی دوسرے مشاعروں سے مختلف تھا۔اس میں اردو زبان کی آبرو کہی جانے والی غزل سے زیادہ نظمیں پڑھی گئیں۔ اس مشاعرے میں شاعرات کی بڑی تعداد تھی اور ان سب کی شناخت بطور ادیبہ زیادہ ہے۔ پاکستان سے تشریف لانے والی شاعرہ کشور ناہید نے ایک غزل ہندوستان اور پاکستان کے نام نذر کی تو دوسری اردو کی معروف ادیبہ قرۃ العین حیدر یعنی ’عینی آپا‘ کو خراج عقیدت کے طور پر پیش کي۔ قرۃ العین حیدر کا حال ہی ميں دلی میں انتقال ہوا ہے اور وہ جہاں یہ مشاعرہ ہوا ہے اس سے چند میٹر کی دوری پر ہی دفن ہیں۔ ہم سے دشوار پرستاں کو ہوا ڈھونڈتی ہے مشاعرہ سنجیدہ شاعروں کا تھا اور سامعین ادبی ذوق رکھنے والے تھے۔ اردو کے معروف شاعر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انگریزی کی پروفیسر زاہدہ زیدی نے نظم پڑھی لیکن ان کی اس غزل کو بہت داد ملی۔ نہ قافلہ شوق، نہ منزل کو نشاں ہندوستان کے بزرگ شاعر رفعت سروش نے ہند پاک کے حوالے سے اپنی نظم پڑھی، اپنی اس نظم سے انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ دونوں طرف کے عوام یکساں طور پر امن چاہتے ہیں۔
کب تلک یہ تشنگی بیگانگی ہند و پاکستان کا دل ایک ہے ایک ہی چشمے کی دو نہریں ہیں یہ عظمت تاریخ پر دونوں کا ناز اور آزآدی کا جب سورج اگا دونوں جانب تھا اجالا داغدار پاکستان کی مشہور شاعرہ زہرہ نگار نے اپنی نظم ’گل بادشاہ‘ سے جنگ کی تباہی اور مشرق مغرب کے ٹکراؤ کو دیکھنے کی کوشش کی تو کشور ناہید نے عورت کے درد کو کچھ یوں پیش کیا: تم ہی سوامی رام بنے میرے زہرہ نگار نے مطالعہ اور روحانیت کے فرق کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا: ساتویں آسمان تک شعلہ علم و عقل تھا |
اسی بارے میں منیر نیازی کا آخری انٹرویو26 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی انتقال کر گئے26 December, 2006 | پاکستان مصّوری اور شاعری کا ملاپ11 May, 2007 | پاکستان حارث خلیق، نظموں کا مجموعہ شائع11 January, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||