BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 September, 2007, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسافر ساٹھ برسوں کے، ابھی تک ۔۔۔

ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے ساٹھ برس پورے ہونے پر سنیچر کی شام دلی میں ایک مشاعرہ ہوا
پاکستان کی مشہور شاعرہ زہرہ نگار نے اپنی نظم ’گل بادشاہ‘ سے جنگ کی تباہی کو دیکھنے کی کوشش کی
ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے ساٹھ برس پورے ہونے پر سنیچر کی شام دلی میں ایک مشاعرہ ہوا جس میں ہندوستان اور پاکستان کے کئی ممتاز شعراء نے حصہ لیا۔ مشاعرے میں دونوں ملکوں کو درپیش مسائل اور پریشانیوں کا بخوبی ذکر کیا گیا۔

دلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اس مشاعرے میں دونوں ملکوں کے شعراء نے اپنے کلام میں تقسیم کا درد اور دونوں ملکوں کی دوریوں کا اظہار کیا۔

ہندوستان کے مشہور شاعر زبیر رضوی نے پاک و ہند رشتوں کی نزاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رشتہ عجیب ہے۔ اس بات کو انہوں نے کچھ یوں بیان کیا:
عجیب ہیں ہمارے رشتے
میں شب کے ماتھے پہ چاند دیکھوں
اور اس کی آنکھوں میں
دھوپ کھاتے سنہرے ساحل کی ریت چمکے۔۔۔۔
میں سوچتا ہوں
گلاب رت میں ہمارا اب کے
جب سامنا ہو
ہم اپنے ہاتھوں میں گرم جوشی کی دھوپ بھرلیں
سیاہ شب کی ہتھیلیوں پر چراغ رکھ دیں

پاکستان کے شاعر اصغر ندیم سید نے اپنی نظم کے ذریعے یہ کہنے کی کوشش کی کہ دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہونے میں اب کچھ وقت اور باقی ہے۔

ابھی کچھ دن لگے گیں خواب کی تعبیر ہونے میں
سفر کو منزلوں کی حد میں لانے میں
پرندے کو ہوا کے رخ پے آنے میں
ابھی کچھ دن لگے گیں، ابھی کچھ دن لگے گیں۔۔۔

اصغر ندیم کی ایک اور نظم نے ماحول کو جذباتی بنا دیا:

مسافر ساٹھ برسوں کے ابھی تک گھر نہیں پہنچے
کہیں پر راستے کی گھاس میں اپنی جڑوں کی کھوج میں
تاریخ کے گھر کا پتہ معلوم کرتے ہیں

کشور ناہید
کشور ناہید نے اردو کی معروف ادیبہ قرۃ العین حیدر یعنی ’عینی آپا‘ کو خراج عقیدت کے طور پر ایک غزل پیش کي

جتنے لوگ آڈیٹوریم میں تھے اس سے دوگنے افراد باہر کھڑے سکرین پر مشاعرے سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور اصغر ندیم کو داد دے رہے تھے۔

یہ مشاعرہ کئی دوسرے مشاعروں سے مختلف تھا۔اس میں اردو زبان کی آبرو کہی جانے والی غزل سے زیادہ نظمیں پڑھی گئیں۔

اس مشاعرے میں شاعرات کی بڑی تعداد تھی اور ان سب کی شناخت بطور ادیبہ زیادہ ہے۔

پاکستان سے تشریف لانے والی شاعرہ کشور ناہید نے ایک غزل ہندوستان اور پاکستان کے نام نذر کی تو دوسری اردو کی معروف ادیبہ قرۃ العین حیدر یعنی ’عینی آپا‘ کو خراج عقیدت کے طور پر پیش کي۔

قرۃ العین حیدر کا حال ہی ميں دلی میں انتقال ہوا ہے اور وہ جہاں یہ مشاعرہ ہوا ہے اس سے چند میٹر کی دوری پر ہی دفن ہیں۔

ہم سے دشوار پرستاں کو ہوا ڈھونڈتی ہے
جس جگہ جاؤ گے، دیکھو گے، قضا ڈھونڈتی ہے
یاد آ جائے تو بینائی جاں ایسی ہو
دل جدا ڈھونڈتا ہے، آنکھ جدا ڈھونڈ تی ہے

مشاعرہ سنجیدہ شاعروں کا تھا اور سامعین ادبی ذوق رکھنے والے تھے۔

اردو کے معروف شاعر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انگریزی کی پروفیسر زاہدہ زیدی نے نظم پڑھی لیکن ان کی اس غزل کو بہت داد ملی۔

نہ قافلہ شوق، نہ منزل کو نشاں
دور تک رگ رواں، رگ رواں، رگ رواں
ساعت وصل تو شاید تھی کسی خواب کا عکس
پھر وہی کاوش جاں، کاوش جاں، کاوش جاں
شب فرقت میں خاموشی کی سنو سرگوشی
گل کرو شعلہ جاں، شعلہ جاں، شعلہ جاں
زندگی ہے تو بحر طور گزر جائے گي
ہاں مگر درد نہاں، درد نہاں، درد نہاں

ہندوستان کے بزرگ شاعر رفعت سروش نے ہند پاک کے حوالے سے اپنی نظم پڑھی، اپنی اس نظم سے انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ دونوں طرف کے عوام یکساں طور پر امن چاہتے ہیں۔

قرۃ العین حیدر
اردو کی معروف ادیبہ قرۃ العین حیدر کا حال ہی ميں دلی میں انتقال ہوا ہے

کب تلک یہ تشنگی بیگانگی
ہند و پاکستان کا دل ایک ہے
ایک ہی چشمے کی دو نہریں ہیں یہ
عظمت تاریخ پر دونوں کا ناز
اور آزآدی کا جب سورج اگا
دونوں جانب تھا اجالا داغدار

پاکستان کی مشہور شاعرہ زہرہ نگار نے اپنی نظم ’گل بادشاہ‘ سے جنگ کی تباہی اور مشرق مغرب کے ٹکراؤ کو دیکھنے کی کوشش کی تو کشور ناہید نے عورت کے درد کو کچھ یوں پیش کیا:

تم ہی سوامی رام بنے میرے
تم ہی مجنوں کیے بنے میرے

زہرہ نگار نے مطالعہ اور روحانیت کے فرق کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا:

ساتویں آسمان تک شعلہ علم و عقل تھا
پھر زمیں اہل دل کیسی ہری بھری رہی
آب ہوا ہے مندمل گل بہار کی نہیں
شہرت دست چارگاہ زخم ہی ڈھونڈتی رہیں

گیان پیٹھ ایوارڈ
کشمیری شاعر کیلیے انڈیا کا اعلٰی ترین اعزاز
 قرۃالعین حیدر قرۃ العین حیدر
ایک گھنےدرخت سے محروم ہوگئے: شہریار
شاعر حارث خلیق’عشق کی تقویم۔۔۔‘
حارث خلیق کی نظموں کا مجموعہ شائع
احمد فرازاحمدفراز کہتے ہیں:
پاکستان میں احتجاج کی شاعری دم توڑ چکی ہے
اسی بارے میں
منیر نیازی کا آخری انٹرویو
26 December, 2006 | پاکستان
منیر نیازی انتقال کر گئے
26 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد