حارث خلیق، نظموں کا مجموعہ شائع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حارث خلیق کی منتخبہ نظموں کے مجموعے کی اشاعت سالِ گزشتہ کا آخری ادبی واقعہ تھا اور انگریزی، اُردو اور پنجابی کے اس جواں سال اور جواں ہمّت شاعر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اسلام آباد اور کراچی تک سے مداحین لاہور آئے ہوئے تھے۔ لاہور کے پریس کلب میں منعقدہ تقریبِ رونمائی سے گل باز آفاقی، یاسمین حمید، کشور ناہید اور ڈاکٹر نعمان الحق جیسے زعمائے علم و ادب نے خطاب کیا۔ گل باز آفاقی کا کہنا تھا کہ حارث خلیق نے اُردو شاعری میں نئی جہتوں کے امکانات روشن کیے ہیں اور’نامعلوم‘ کی اندھیری دنیا میں اپنی شعری آگہی کا چراغ جلایا ہے۔
محترمہ یاسمین حمید نے انگریزی میں خطاب کیا کیونکہ اُن کے مضمون کا دائرہ کار حارث کی انگریزی شاعری کو احاطے میں لیتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ حارث کی شاعری کا خمیر اپنے ارد گرد کی زندگی سے اُٹھتا ہے۔ وہ زندگی کی عام جہتوں کو خصوصی نظر سے دیکھتے ہیں اور پوری شعری قوت کے ساتھ اسے بیان کرتے ہیں۔ محترمہ یاسمین حمید نے حارث کی انگریزی شاعری سے مفصّل اقتباسات بھی سنائے۔
صدرِ محفل ڈاکٹر نعمان الحق نے حارث کی شاعری کا موازنہ میر، غالب اور اقبال سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح میر تقی میر روزمرہ کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو شعر میں سمو کر ایک بہت بڑا مضمون باندھ دیتے ہیں، اسی طرح حارث کی نظموں کا بنیادی مواد بھی گلی محلّے کے عام لوگوں اور اُن کی زندگی میں پیش آنے والے عام واقعات پر مبنی ہے۔ البتہ یہ بظاہر پیش پا افتادہ مضامین جب حارث کے شعر میں ڈھلتے ہیں تو اِن کی عمومیت ہی ایک خصوصیت بن جاتی ہے۔ محفل میں موجود دیگر حاضرین نے حارث خلیق کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کیا اور کشور ناہید نے اُن کی کچھ نظمیں بھی پڑھ کر سنائیں۔ ذیل کی نظم پر حاضرین نے کھُل کے داد دی۔ ۔۔۔ مجھے تو اس بات کا یقیں ہے محفل میں اس بات کا خوب ذکر رہا کہ حارث خلیق نے پاکستان کی علاقائی زبانوں سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور انگریزی کے راستے دنیا بھر کی بہترین شاعری کا رس نچوڑ کر اپنی نظموں پر چھڑکا ہے۔ ہندی شعر سے اُنکی رغبت کے ضمن میں یہ نظم پیش کی گئی۔۔۔ بھول کے سب کچھ سوہنی اسی طرح پنجابی شاعری سے اُنکے والہانہ لگاؤ کا ذکر ہوا تو یہ نظم مثال کے طور پر پیش کی گئی: اس کی آنکھیں نگار خانہ تھیں محفل میں موجود جن لوگوں نے وارث شاہ کی ہیر پڑھ رکھی تھی انھوں نے دِل کھول کے اس نظم کو داد دی۔ محفل کے اختتام پر تمام تر بحث کو سمیٹتے ہوئے کشور ناھید نے کہا کہ حارث خلیق کی شاعری ہمیں راشد اور مجید امجد جیسے عظیم شعراء کی یاد دلاتی ہے اور آج جبکہ ہر طرف بے تحاشہ لکھی جانے والی بُری شاعری کی بھرمار ہے، حارث خلیق جیسے شاعروں کا وجود غنیمت ہے، جن کی سنجیدہ مگر لطیف نظمیں ایک اجڑے ہوئے باغ میں کھِلی چند کلیوں کی طرح نمایاں ہیں۔ |
اسی بارے میں ایک گم شدہ ستارے کی بازیافت 02 September, 2005 | فن فنکار نصف صدی کا فلمی قصّہ18 December, 2006 | فن فنکار کرن دِسائی نے بُکر پرائز جیت لیا10 October, 2006 | فن فنکار درد و کرب، عزم و اُمید میں غرق25 February, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||