BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 03:09 GMT 08:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک گم شدہ ستارے کی بازیافت

’گم شدہ ستارہ‘
’گم شدہ ستارہ‘ شبیر شاہد کی دستیاب شاعری
شبیر شاہد کا نام 1970 کے زمانے میں اُردو شاعری کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح نمودار ہوا لیکن جب اس اُبھرتے ہوئے ستارے سے لوگوں کی توقعات وابستہ ہو گئیں تو یہ اچانک گہرے بادلوں کی اوٹ میں چلا گیا۔

تیس برس پہلے ہونے والی شبیر شاہد کی اس گُم شدگی پر ابھی تک اسرار کا پردہ پڑا ہے۔ غالب خیال یہی ہے کہ اُس نے خود کشی کر لی تھی لیکن لاش کی عدم موجودگی میں لوگ اس بات پر بھی سو فیصد یقین نہ کر سکے۔

’مرنے‘ سے قبل شبیر شاہد نے وہ سارا کلام تو ضائع کر دیا تھا جو اسکی دسترس میں تھا لیکن رسائل و جرائد میں شائع شدہ کچھ نظمیں اور غزلیں محفوظ رہ گئیں۔ شبیر شاہد کے دوستوں اور مداحوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ اس کے بکھرے ہوئے کلام کو کسی طرح یک جا کیا جائے اور بالآخر یہ کام اورینٹل کالج لاہور کے اُستاد ضیاء الحسن نے انجام دے دیا ہے۔ شبیر شاہد نے بھی گم شدگی سے دو برس پہلے اسی کالج سے اُردو ادب میں ایم۔اے کیا تھا۔

’گم شدہ ستارہ‘ شبیر شاہد کی دستیاب شاعری کا مجموعہ ہے جو کہ شاعر کے لئے اِس خراجِ عقیدت سے شروع ہوتا ہے:

ستارے
تم کہاں ہو؟
کونسی دنیا میں رہتے ہو؟
کہاں پر جگمگاتے ہو؟
مری تاریک دنیا میں
بھلا کب لوٹ کے آؤ گے تم
کب جگمگاؤ گے؟
ستارے!
پھُُول کلیاں رنگ خوشبو تتلیاں پیاری
تمھارے ساتھ رخصت ہو گئیں ساری
ستارے
تم جو آؤ گے
تو موسم لوٹ آئے گا
ستارے!
تم کب آؤ گے؟

کتاب کی باقاعدہ ابتداء شبیر شاہد کے ان مصرعوں سے ہوتی ہے:

مگر یہ رات کہتی ہے
اندھیری رات کہتی ہے
یہ گہری رات کہتی ہے
یہ وہمی رات کہتی ہے
ستارہ ڈوب جائے گا۔

کتاب کے مُرتّب ضیاءالحسن کا کہنا ہے شبیر شاہد کی شعری تربیت دو شخصیتوں کے زیرِ اثر ہوئی: سجاد باقر رضوی اور ناصر کاظمی۔ یہ دونوں مختلف مزاج اور متضاد تخلیقی رویوں کے حامل شعراء تھے ۔ سجاد باقر غالب پسند تھے۔ وہ کلاسیکی رویوں کے پیروکار، ذہنی ٹھہراؤ، مستقل اور ٹھوس رویہ رکھنے والے انسان تھے جبکہ ناصر کاظمی مِیر پرست رومانوی مزاج اور مضطرب طبیعت کے انسان تھے…..

البتہ شبیر شاہد کے یہاں یہ دونوں متضاد رویّے یک جان ہو کر دو آتشے کی کیفیت اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ تلازمہ کاری میں سجاد باقر سے استفادہ کرتا ہے تو امیجری کا ہُنر ناصر کاظمی سے اخذ کرتا ہے:

نئے دنوں کے اُداس خوابوں کے جمگھٹوں میں
گئے دنوں کا خیال بھولا نہیں ہے مجھ کو
فضا میں لہرا رہے تھے افسردگی کے سائے
عجب گھڑی تھی کہ وقت بھی ہاتھ مل رہا تھا

مسرتوں کے الاؤ روشن ہیں وادیوں میں
شراب اور شعر کے شرارے ہیں اُس کنارے

شبیر شاہد کی شاعری کا بنیادی استعارہ ’ پانی‘ہے جو دراصل ’ وقت ‘ کی نمائندگی کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور کوہستانی اور میدانی منزلوں سے گزرتا ہوا آخر کار ابدیت کے سمندر میں ضم ہو جاتا ہے۔

سدا رہے گی یہی روانی رواں ہے پانی
بہاؤ اس کا ہے جاودانی رواں ہے پانی
سنو یہ آواز دُور کی لہر کی صدا ہے
اُٹھاؤ لنگر کہ پھرسمندر بُلا رہا ہے

عمرِ رواں بھی اِک دریا ہے
اک دریا صحرا جیسا ہے
عمرِ رواں ہے بہتا پانی
پانی کی سمتیں انجانی!

اور ہمارا شاعر بھی اچانک ایک دن اپنے پسندیدہ پانی کے ساتھ کسی انجانی سمت کو بہہ گیا۔ شبیر شاہد کی گم شدگی پر بے شمار قیاس آرائیاں ہوئیں۔ چونکہ آخری دنوں میں وہ ہرمن ہیس کا ناول ’ سدھارتھ‘ پڑھ رہا تھا۔ اس لئے قریبی دوستوں کا خیال تھا کہ وہ ناول کے مرکزی کردار کی طرح شہری زندگی تج کر کسی پتّن پر ملاّح بن گیا ہے۔ کچھ دوستوں کے خیال میں وہ بیرونِ ملک چلا گیا تھابلکہ غیر مصّدقہ اطلاعات کے مطابق وہ کئی لوگوں کو لندن، ناروے یا نیویارک میں گھومتا پھرتا نظر بھی آیا تھا___ لیکن ظاہر ہے کہ یہ اسکے دوستوں کی محض خواہشات کی تجیسم تھی ویسے بھی آخری دنوں میں جسطرح شبیر شاہد نے اپنا کلام ضائع کیا، اپنے قرضے اُتارے، دوستوں سے الوداعی ملاقاتیں کیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس دنیا سے کنارہ کش ہونے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا اور اسکا منظرِ عام سے غائب ہو جانا کوئی اتفاقی گم شدگی نہیں تھی۔

بہر حال اس خوش کلام شاعر کی تحریروں کو جمع کرنا اور پھر زیورِ طبع سے آراستہ کرنا ایک ایسا فریضہ تھا جو تیس برس سے ادائیگی کا منتظر تھا۔

ضیاءالحسن نے یہ فرض نباہ کر شبیر شاہد کے دوستوں اور مدّاحوں سے بجا طور پر داد وصول کی ہے۔ 125 صفحات پر مشتمل ’ گم شدہ ستارہ‘ میں شبیر شاہد کی نظموں اور غزلوں کے علاوہ اُن کے دو تنقیدی مضامین اور اپنے والد کے نام چند خطوط بھی شامل ہیں۔

یہاں انتخاب کے طور پر تین شعر درج کئے جا رہے ہیں۔

مئےفراغت کا آخری دور چل رہا تھا
سبو کنارے وصال کا چاند ڈھل رہا تھا

فضا میں لہرا رہے تھے افسردگی کے سائے
عجب گھڑی تھی کہ وقت بھی ہاتھ مل رہا تھا

سکوں سے محروم تھیں طرب گاہ کی نشستیں
کہ اک نیا اضطراب جسموں میں پل رہا تھا

شبیر شاہد کے مداحوں کو جہاں اُسکے کلام کی اشاعت پر خوشی ہوئی ہے وہاں ایک تشنگی کا بھی شدت سے احساس ہوا ہے کیونکہ شاعر کی بعض معروف نظمیں اس مجموعے میں شامل نہیں ہیں۔ راقم نے کتاب پاتے ہی اُس نظم کی تلاش شروع کی جو شاعر نے 1972 میں ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک مشاعرے میں پڑھی تھی لیکن کتاب میں یہ ناپید تھی۔
ذیل میں اُس نظم کامتن درج کیا جا رہا ہے۔ اُمید ہے کہ مرتبین آئندہ ایڈیشن میں اسے ضرور شامل کریں گے۔

رفتگان

دُور ہے وہ نیلگوں پانی کا منظر دور ہے
وہ سمندر دور ہے
دُوریوں پر لب کشا ہے اسکا ساحل دور تک
رفتگاں کے دِل سمندر دُور ہیں جن کے اُفق
آنکھ سے اوجھل ہیں وہ نیلاہٹیں
سرگراں جن کے تمّوج میں کئی گرداب ہیں
اِک جہانِ ماوراء کی ہمسری کے خواب ہیں
خواب ا ے دل دیکھتا ہوں میں یہاں
رفتگان کی یاد کے نیلے سمندر سے پرے
دُوریوں پر لب کُشا ساحل کے خواب
اک پرانے شہر کے خواب
اک نئی منزل کے خواب!

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد