ایک گم شدہ ستارے کی بازیافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شبیر شاہد کا نام 1970 کے زمانے میں اُردو شاعری کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح نمودار ہوا لیکن جب اس اُبھرتے ہوئے ستارے سے لوگوں کی توقعات وابستہ ہو گئیں تو یہ اچانک گہرے بادلوں کی اوٹ میں چلا گیا۔ تیس برس پہلے ہونے والی شبیر شاہد کی اس گُم شدگی پر ابھی تک اسرار کا پردہ پڑا ہے۔ غالب خیال یہی ہے کہ اُس نے خود کشی کر لی تھی لیکن لاش کی عدم موجودگی میں لوگ اس بات پر بھی سو فیصد یقین نہ کر سکے۔ ’مرنے‘ سے قبل شبیر شاہد نے وہ سارا کلام تو ضائع کر دیا تھا جو اسکی دسترس میں تھا لیکن رسائل و جرائد میں شائع شدہ کچھ نظمیں اور غزلیں محفوظ رہ گئیں۔ شبیر شاہد کے دوستوں اور مداحوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ اس کے بکھرے ہوئے کلام کو کسی طرح یک جا کیا جائے اور بالآخر یہ کام اورینٹل کالج لاہور کے اُستاد ضیاء الحسن نے انجام دے دیا ہے۔ شبیر شاہد نے بھی گم شدگی سے دو برس پہلے اسی کالج سے اُردو ادب میں ایم۔اے کیا تھا۔ ’گم شدہ ستارہ‘ شبیر شاہد کی دستیاب شاعری کا مجموعہ ہے جو کہ شاعر کے لئے اِس خراجِ عقیدت سے شروع ہوتا ہے: ستارے کتاب کی باقاعدہ ابتداء شبیر شاہد کے ان مصرعوں سے ہوتی ہے: مگر یہ رات کہتی ہے کتاب کے مُرتّب ضیاءالحسن کا کہنا ہے شبیر شاہد کی شعری تربیت دو شخصیتوں کے زیرِ اثر ہوئی: سجاد باقر رضوی اور ناصر کاظمی۔ یہ دونوں مختلف مزاج اور متضاد تخلیقی رویوں کے حامل شعراء تھے ۔ سجاد باقر غالب پسند تھے۔ وہ کلاسیکی رویوں کے پیروکار، ذہنی ٹھہراؤ، مستقل اور ٹھوس رویہ رکھنے والے انسان تھے جبکہ ناصر کاظمی مِیر پرست رومانوی مزاج اور مضطرب طبیعت کے انسان تھے….. البتہ شبیر شاہد کے یہاں یہ دونوں متضاد رویّے یک جان ہو کر دو آتشے کی کیفیت اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ تلازمہ کاری میں سجاد باقر سے استفادہ کرتا ہے تو امیجری کا ہُنر ناصر کاظمی سے اخذ کرتا ہے: نئے دنوں کے اُداس خوابوں کے جمگھٹوں میں مسرتوں کے الاؤ روشن ہیں وادیوں میں شبیر شاہد کی شاعری کا بنیادی استعارہ ’ پانی‘ہے جو دراصل ’ وقت ‘ کی نمائندگی کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور کوہستانی اور میدانی منزلوں سے گزرتا ہوا آخر کار ابدیت کے سمندر میں ضم ہو جاتا ہے۔ سدا رہے گی یہی روانی رواں ہے پانی عمرِ رواں بھی اِک دریا ہے اور ہمارا شاعر بھی اچانک ایک دن اپنے پسندیدہ پانی کے ساتھ کسی انجانی سمت کو بہہ گیا۔ شبیر شاہد کی گم شدگی پر بے شمار قیاس آرائیاں ہوئیں۔ چونکہ آخری دنوں میں وہ ہرمن ہیس کا ناول ’ سدھارتھ‘ پڑھ رہا تھا۔ اس لئے قریبی دوستوں کا خیال تھا کہ وہ ناول کے مرکزی کردار کی طرح شہری زندگی تج کر کسی پتّن پر ملاّح بن گیا ہے۔ کچھ دوستوں کے خیال میں وہ بیرونِ ملک چلا گیا تھابلکہ غیر مصّدقہ اطلاعات کے مطابق وہ کئی لوگوں کو لندن، ناروے یا نیویارک میں گھومتا پھرتا نظر بھی آیا تھا___ لیکن ظاہر ہے کہ یہ اسکے دوستوں کی محض خواہشات کی تجیسم تھی ویسے بھی آخری دنوں میں جسطرح شبیر شاہد نے اپنا کلام ضائع کیا، اپنے قرضے اُتارے، دوستوں سے الوداعی ملاقاتیں کیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس دنیا سے کنارہ کش ہونے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا اور اسکا منظرِ عام سے غائب ہو جانا کوئی اتفاقی گم شدگی نہیں تھی۔ بہر حال اس خوش کلام شاعر کی تحریروں کو جمع کرنا اور پھر زیورِ طبع سے آراستہ کرنا ایک ایسا فریضہ تھا جو تیس برس سے ادائیگی کا منتظر تھا۔ ضیاءالحسن نے یہ فرض نباہ کر شبیر شاہد کے دوستوں اور مدّاحوں سے بجا طور پر داد وصول کی ہے۔ 125 صفحات پر مشتمل ’ گم شدہ ستارہ‘ میں شبیر شاہد کی نظموں اور غزلوں کے علاوہ اُن کے دو تنقیدی مضامین اور اپنے والد کے نام چند خطوط بھی شامل ہیں۔ یہاں انتخاب کے طور پر تین شعر درج کئے جا رہے ہیں۔ مئےفراغت کا آخری دور چل رہا تھا فضا میں لہرا رہے تھے افسردگی کے سائے سکوں سے محروم تھیں طرب گاہ کی نشستیں شبیر شاہد کے مداحوں کو جہاں اُسکے کلام کی اشاعت پر خوشی ہوئی ہے وہاں ایک تشنگی کا بھی شدت سے احساس ہوا ہے کیونکہ شاعر کی بعض معروف نظمیں اس مجموعے میں شامل نہیں ہیں۔ راقم نے کتاب پاتے ہی اُس نظم کی تلاش شروع کی جو شاعر نے 1972 میں ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک مشاعرے میں پڑھی تھی لیکن کتاب میں یہ ناپید تھی۔ رفتگان دُور ہے وہ نیلگوں پانی کا منظر دور ہے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||