کشمیری شاعر کے لیے ادب کا ایوارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کا معروف گیان پیٹھ ایوارڈ مشہور کشمیری شاعر اور نقاد عبدالرحمٰن راہی کو دیا گیا ہے۔ تیس سال قبل اپنے پہلے ہی شعری مجموعہ کو ’کشمیر کی تحریک آزادی‘ کے نام کرنے والے راہی کو یہ اعزاز کشمیری زبان میں اعلیٰ شاعری اور زبان کی ترویج میں ان کی خدمات کے صلے کے طور پر دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے صدر اے پی جے عبدالکلام انہیں یہ ایوارڈ خود دیں گے۔ تقریب کا تعین ابھی ہونا باقی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں یہ ایوارڈ اُردو کے زمرے میں فراق گورکھپوری اورعلی سردار جعفری کو دیا گیا ہے اور رحمٰن راہی یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے کشمیری ہیں۔ عبدالرحمٰن راہی چھ مارچ اُنیس سو پچیس کو سرینگر کے ایک متوسط کنبے میں پیدا ہوئے۔ وہ انگریزی، فارسی، اُردو اور کشمیری زبانوں کے ماہر ہیں، تاہم ان کا زیادہ تر تخلیقی کام کشمیری زبان میں ہی موجود ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی ایک کلرک اور بعد میں نامہ نگار کی حیثیت سے شروع کرنے والے رحمٰن راہی اُنیس سو ترپن میں لیکچرار تعینات ہوئے اور ترقی کرتے کرتے وہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ کشمیری کے سربراہ بن گئے۔ بیاسی سالہ راہی انیس سو پچاسی میں ریٹائر ہوگئے تھے تاہم وہ آج بھی شعر لکھتے اور مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ اپنی پہلی کتاب ’نوروز صبا‘ کو کشمیر کی تحریک آزادی سے منسوب کرنے کے پیچھے کیا فکر پنہاں تھی، تو راہی کاکہنا تھا: ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنی شناخت کے لیے صدیوں سے جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اور جب تک ہم کشمیری زبان کو اس کا مقام نہیں دیں گے تب تک ہمارے لیے بھی ایک مخصوص مقام حاصل کرنا محال ہے‘۔ ان سے پوچھا گیا کہ اُنیس سو تیس کے آس پاس جو تحریک آزادی کشمیر میں جاری تھی، کیا وہ اُنیس سو سینتالیس میں تقسیم ہند کے ساتھ ختم نہیں ہوئی تو راہی نے کہا ’تب سے تو نیا مرحلہ اور نئے مسائل پیدا ہوگئے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ جس تحریک کے نام انہوں نے اپنی پہلی کتاب منسوب کی ہے وہ آج بھی جاری ہے تاہم ان کا اصرار ہے کہ کشمریوں کو مادری زبان کی حفاظت اور ترویج پر دھیان دینا ہوگا۔ موجودہ حالات کے حوالے سے رحمٰن راہی کا کہنا ہے کہ ان کی شاعری پر روزانہ ہلاکتوں اور ’ظلم و ستم‘ کا کافی اثر رہا۔ انہوں نے چند شعر بیان کیے جو حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کُس اوس کیازِ سہُ مورُکھ؟ راہی نے متعدد کتابوں پر تنقیدی تبصرے لکھے ہیں۔ انہوں نے کشمیری زبان کے رسم الخط کی بہتری میں بھی کافی کام کیا۔ ان شعری مجموعوں پر مشتمل درجنوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔وہ ایسے پہلے کشمیری استاد ہیں جنہیں کشمیر یونیورسٹی نے پروفیسر ایماریٹس کا درجہ دیا۔ کشمیری زبان سے متعلق سرکاری سرد مہری پر اظہار افسوس کرتے ہوئے راہی نے کہا، ’اُنیس سو اکاون میں جب شیخ محمد عبداللہ ریاست کے وزیر اعظم تھے تو انہوں نے کشمیری زبان کو ریاست میں تدریس کا میڈیم بنانے کا اعلان کیا۔ دو سال بعد وہ جیل گئے تو ان کےساتھ کشمیری زبان بھی قید ہوگئی۔ وہ تو بائیس سال بعد رہا ہوگئے لیکن یہ زبان اب بھی مقید ہے‘۔ | اسی بارے میں فیض صاحب آچے میں02 December, 2006 | آس پاس ’میرے گیت میں کل کی آشا ہے‘11 December, 2006 | آس پاس دورِ حاضر کا بڑا شاعر27 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی نے ’شوق‘ پورا کرلیا27 December, 2006 | پاکستان ناپید ہوتی دھنیں اورعوامی شاعری05 March, 2007 | انڈیا خوشامد علمِ دریاؤ ہے07 March, 2007 | قلم اور کالم فروزندہ مہراد 08 March, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||