ناپید ہوتی دھنیں اورعوامی شاعری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی آواز سے قریب ترین سمجھی جانے والی سارنگی کی روایتی دھنیں اور اس سے وابستہ عوامی شاعری اب ہندوستان کے دیہی علاقوں سے ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ موسیقی کے شعبہ میں پروفیشنلزم کے بڑھتے رحجان کے سبب سارنگی کے وجود کو شاید کوئی خطرہ نہ ہو لیکن طرز زندگی میں ہوتی تبدیلیوں نے سارنگی نواز خانہ بدوشوں اور ان سے وابستہ عوامی شاعری کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ فنکار اپنے وجود کو بچانے کی جدوجہد کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ گزشتہ 45 سالوں سے سارنگی بجانے والے رفیق رائے کی سارنگی کی آواز سننے کے لیے اب لوگوں کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود 65 سالہ رفیق اپنی سارنگی کو مرتے دم تک خاموش نہیں ہونے دینا چاہتے۔ وہ بہترین نعت گوئی کے ہنر سے اب بھی عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ ائیلن ائیلن ہو نبی جی روشن کیلن سگری آمنہ کے گھر پیدا بھیلن بہ حکم رحمان کوہ کے اوپرگھاس جمیلن، ایسن کے کری؟ کیلن چاند کے دو ٹکرا بتا کے انگوری رفیق کی زبان پر عوامی شاعری کی ایسی درجنوں نظمیں محفوظ ہیں جو مقامی ادب میں تحریری شکل میں محفوظ نہیں ہیں۔ بہار کے علاقے مشرقی چمپارن سے متصل نیپالی سرحد کے قریب چھوڑا دانوں سے تعلق رکھنے والے رفیق کو شدید افسوس ہے کہ سیر و تفریح کے بدلتے مزاج نے عوامی شاعری کے وجود کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں’علاقائی زبان کی شاعری جو اب تک ایک نسل سے دوسری نسل تک محض سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہی ہے وہ اب ناپید ہونے کو مجبور ہے کیونکہ اس ادب کی کوئی تحریری دستاویز موجود نہیں ہے۔
رفیق کو یہ بھی نہیں معلوم کہ مقامی زبان کے جو اشعار وہ سناتے ہیں وہ کن شاعروں کی تخلیق ہیں۔ ناخواندہ رفیق نے عوامی موسیقی جن میں بھرت ہری، گوپی چند اورشیو ویواہ کے علاوہ نعت اور حمد گانے اور سارنگی بجانے کی تعلیم اپنے استاد فضلیت رائے سے حاصل کی تھی، اب بدلتے دور نےاس عوامی موسیقی کو بے موت مار دیا ہے۔ رفیق کہتے ہیں کہ ’میرے استاد نے کوئی چار دہائی پہلے درجنوں شاگردوں کو اس پیشے کے لیے تیار کیا تھا لیکن اب عالم یہ ہے کہ نئی نسل کے لوگ نہیں اپنانا چاہتے۔ رفیق کو اس بات کا ملال بھی ہے کہ ان کے چند شاگرد وں کے بعد اس روایت کو آگے بڑھانے والا شاید کوئی نہ ہوگا۔ سارنگی کے سُروں کے ساتھ اسلامی تہذیب سے جڑی شاعری کے متعلق رفیق بتاتے ہیں کہ اس صنف کو مسلم سارنگی نوازوں نے پروان چڑھایا۔ اس سے پہلے گھومانتو (خانہ بدوش) سارنگی نواز ہندو بادشاہوں کی داستان محبت اور دیگر سماجی مسائل کو پیش کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں’جدید موسیقی کے اس دور میں اس روایتی موسیقی کو اب شاید ہی بچایا جا سکے‘۔ عوامی یا لوک گیتوں کو تجارتی شکل دینے میں اہم کردار نبھانے والی مشہور گلوکارہ شاردا سنہا کہتی ہیں’عوامی موسیقی اور عوامی نظموں کا ناپید ہونا نہ صرف ہندوستانی موسیقی بلکہ یہ ہماری تہذیبی پہچان کے لیے خطرناک ہے‘۔ بھوج پوری فلموں کی لتا منگیشکر کہی جانے والی شاردہ کہتی ہیں کہ ’حکومت اور دیگر ثقافتی تنظیموں کو عوامی موسیقی کو بچانے لیے ان کی ڈاکیومنٹیشن کرنا چاہیے‘۔ بھوجپوری عوامی گیتوں کے مشہور گلوکار اجیت کمار اکیلا کا کہنا ہے کہ ’گاؤں گاؤں گھوم کر گانے والے لوگوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ روزی روٹی کا ہے۔ پرانے زمانے میں گاؤں کے لوگ ایسے موسیقاروں کو دھن دولت کے علاوہ عزت سے بھی نوازتے تھے لیکن اب انہیں نہ تو وہ مرتبہ ملتا ہے اور نہ ہی اس پیشے سے ان کا پیٹ بھر پاتا ہے‘۔ اجیت کہتے ہیں کہ مشہور موسیقار ورندواسینی دیوی نے اپنے دور میں عوامی گیتوں کو محفوظ کرنے کی ایک کوشش کا آغاز کیا تھا لیکن ان کی موت کے بعد یہ کام پھر رک گیا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے اس سمت میں کچھ نہ کیا تو آنے والی نسلیں اس روایت سے محروم ہو جائیں گی‘۔ |
اسی بارے میں سبالکشمی: ایک سحرانگیز آواز12 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||