سبالکشمی: ایک سحرانگیز آواز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن 1953 کی بات ہے کرناٹک موسیقی کی مشہور گلوکارہ سًبا لکشمی نے جب اپنی سحرانگیز آواز میں ایک گیت گایا تو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے اس سے متاثر ہوکر بے ساختہ کہا تھا کہ ’میں کون ہوں؟ گیتوں کی اس ملکہ کے سامنے صرف ایک وزیر اعظم ہی تو۔‘ لیکن یہ بات نصف صدی پہلے کی تھی۔ایک وقت وہ آیا کہ موسیقی کی دنیا کی یہ رانی دیوی بن گئی جس کی موسیقی کے شیدائی پوجا کرتے ہیں۔ سًبالکشمی کا جنم سن 1916 میں جنوبی شہرمدراس میں ہوا تھا۔ اسکول میں استادوں کی پٹائی کے سبب انہوں نے بچپن میں تعلیم چھوڑ دی تھی لیکن اپنی ماں سے انہوں نے موسیقی کی تعلیم لی اور بچپن سے ریاض میں مشغول ہو گئیں۔ دس سال کی عمر میں انہوں نے پہلی بار اسٹیج پر پرفارم کیا اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ملک کی آزادی کی جد وجہد کے دوران ایک بار سُبالکشمی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے سامنے ان کا پسندیدہ بھجن ’ویسنو جانتو تیرے کہیۓ، پیر پرائے جانے رے‘ کا جب راگ الاپا تو گاندھی جی کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’گیت گانا الگ بات ہے لیکن آواز میں خدا کے تصورات کی جھلکیاں پیش کرنا بالکل مختلف ہے۔‘ گاندھی جی اکثر سبا لکشی سے بھجن سننے کی فرمائش کیا کرتے تھے۔ سبالکشمی کی آواز میں بلا کی تاثیر تھی اور اس کا جادو سر چڑھ کر بولتاتھا۔ موسیقی کے دیوانے انہیں سنگیت کی دیوی کہتے تھے۔انہوں نے کرناٹک موسیقی کو ان بلندیوں پر پہنچایا ہے کہ اس کا اب ایک خاص مقام ہے۔ وہ سحر انگیزآواز جس نے برسوں لوگوں کو محظوظ کیا اب ہمیشہ کیلیے خاموش ہوگئی ہے لیکن ان کے گیت لازوال ہیں۔ مشہور ادیبہ سروجنی نائیڈو نے سبا لکشمی کو بھارت کے بلبل کے خطاب سے نوازہ تھا۔ موسیقی کی دنیا کے بڑے بڑے فنکار، سیاست داں اور سماج کی عظیم شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام نے چیننئی پہنچ کر سبالکشمی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں پنڈت نہرو کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے سبالکشمی کو ایک عظیم فنکار بتایا ہے۔ گلوکارہ سبامدگل نے سبا لکشمی کے انتقال پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’موسیقی کے طالب علموں کے لیے ان کی آواز ایک محرک تھی جو اب نہیں رہی لیکن ان کی زندگی ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس دور میں کلاسیکل موسیقاروں کو بہت جلدی بھلا دیا جانے لگا ہے لیکن امید کی جانی چاہیۓ کہ انہوں نےموسیقی کا جو قیمتی سرمایا چھوڑا ہے ا س سے ہم سب سیکھتے رہیں گے۔ ایم ایس سبّا لکشمی چیننئی یعنی مدراس کے ایک ہسپتال میں سنیچر کو انتقال کر گئیں ۔ ان کی عمر اٹھاسی سال کی تھی۔ سبالکشمی نے اقوام متحدہ میں بھی اپنے گیت پیش کیے تھے اور انہوں نے تامل زبان کی کئی فلموں میں اداکاری بھی کی تھی۔ انہیں ان کی زندگی میں بہت سے ایوارڈ ملے۔ ان کی خدمات کے سبب انہیں میگسیسے اوارڈ بھی ملا لیکن انہوں نے تمام انعمات و اعزازات کی رقمیں فلاحی کاموں کے لیے خیرات کردی تھیں۔ سن |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||