ڈبل روٹی کے پیسے مانگنے پر قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے معروف گلوکار عنایت اللہ بٹ کے والد نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو ڈبل روٹی کی قیمت وصول کرنے کے ’جرم‘ میں ہلاک کیا گیا ہے۔ ستائس سالہ گلوکار کو تیس جون کو انڈین فورسز کے اہلکاروں نے ان کے گھر کے سامنے ہی رات کے ساڑھے نو بجے شہر کے وسطی علاقہ منّورآباد میں واقع ہوٹل اخوان میں تعینات سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ رحمت اللہ کا مکان اور دوکان ہوٹل اخوان میں قائم فورسز کیمپ کے عین سامنے ہے۔ وہ گزشتہ اٹھارہ سال سے وہاں بیکری کی دوکان چلاتے ہیں۔ تاہم سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ترجمان دلیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’اخوان ہوٹل کیمپ میں تعینات گارڈز نے تیس جون کی شب سڑک کے دوسری طرف غیر معمولی سرگرمیاں دیکھیں۔ انہوں نے لڑکے کو رکنے کے لیئے کہا لیکن وہ کیمپ کی طرف بڑھتا گیا۔ حفاظتی عملے نے اُسے فدائی حملہ آور سمجھ کر گولی مار دی‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک سینیئر افسر اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف رحمت اللہ تیس جون کی آنکھوں دیکھی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ’پہلے صرف ایک فائر ہوا۔ پھر جب کئی گولیاں چلیں تو کسی نے آواز لگائی کہ عنایت کہاں ہے۔ میرے سیلزمین نے کہا وہ باہر ہے۔ گولیاں چل رہی تھیں کہ میں باہر آیا۔ میں نے دیکھا کہ سی آر پی ایف کے اہلکار عنایت کو گھسیٹ کر سڑک کے پار کیمپ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ میں ہوش کھو بیٹھا اور پاگلوں کی طرح چلانے لگا۔ ایک ہجوم جمع ہوا، پھر مجھے کچھ یاد نہیں‘۔
مقامی تھانیدار کے حوالے سے عنایت کے ماموں منظور احمد خان نے بتایا کہ ’فورسز نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ایک فدائی حملہ آور کو مار گرایا گیا ہے، اُس کی لاش یہاں سے لے جاؤ۔ خدا کا شکر ہے کہ عنایت کو سارا شہر جانتا اور پہچانتا تھا۔ ورنہ ہماری کون سنتا۔ سب لوگ یہاں تک کہ کیمپ سے وابستہ اہلکار بھی جانتے ہیں کہ عنایت کمر میں فریکچر کی وجہ سے پچھلے دو سال سے چلنے سے معذور تھا۔ اُس روز تو وہ بیساکھیوں کے سہارے اپنے گھر کے دروازے پر موجود تھا۔ کیمپ کی طرف بھاگنے کا سوال ہی نہیں‘۔ رحمت اللہ کے پڑسی محمد شفیع اور حمزہ واردات کے چشم دید گواہ ہیں۔ شفیع کہتے ہیں ’جب میں نے انہیں عنایت پر گولیاں برساتے دیکھا تو میں اپنے گھر کی کھڑکی پر جیسے منجمد ہو کر رہ گیا۔ ایک اہلکار نے میری طرف بندوق تان لی تو میں بھاگ گیا‘۔ مقتول عنایت کے والد رحمت اللہ کے مطابق ’اخوان کیمپ‘ سے وابستہ اہلکار اکثر اوقات بیکری اشیاء خریدنے پر یا تو پیسے نہیں دیتے یا پھر بہت کم دیتے تھے۔ ’دس روز پہلے بھی ایسا ہی ہوا لیکن اُس وقت عنایت دوکان پر تھا۔ اُس نے سامان کی قیمت کے لیئے ضد کی۔ بعد میں تو وہ لوگ روز ہراساں کرتے رہے اور آخر کار میری کمر ہی توڑ دی‘۔
عنایت اللّہ مقامی سطح پر اپنی آواز کے لیئے مقبول تھے۔ سینئر موسیقار شہزاد حسن کے مطابق عنایت نے صرف سترہ سال کی عمر میں فیض احمد فیض کی مشہور غزل ’تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے‘ گا کر شائقین کے دل میں جگہ کر لی تھی۔ رحمت اللہ اپنے کنبے کو لے کر منّور آباد سے ہجرت کرنے پر آمادہ ہیں۔ کمرے میں بے جان سے پڑے عنایت کے آلات موسیقی کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’اب تو میرا صرف ایک بیٹا بچا ہے۔ میں اسے نہیں کھونا چاہتا۔ ہم کہیں اور چلے جائینگے۔ کاروبار کا اللہ ضامن ہے‘۔ واضح رہے عنایت کی ہلاکت سے پورے سرینگر میں کہرام مچ گیا تھا اور چھ روز تک احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں دو درجن افراد زخمی ہوگئے جن میں کئی پولیس افسر اور اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس نے عنایت کے قتل میں ملوث دو سی آر پی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا ہے جبکہ مذکورہ فورس نے واردات کی جانچ کے لیئے کوٹ آف انکوئری قائم کی ہے۔ تاہم علاقے کے باشندوں میں فورسز کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ مسلسل کیمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر:4 عسکریت پسند ہلاک02 July, 2006 | انڈیا کشمیر: دو جھڑپوں میں گیارہ ہلاک30 June, 2006 | انڈیا کشمیر:چوبیس گھنٹےمیں 9 ہلاک 25 June, 2006 | انڈیا کشمیر، گرینیڈ حملہ میں دو ہلاک 22 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں دستی بم کا حملہ12 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||