BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی انخلاء کے مطالبے میں شدّت

انڈین فوج
’فوج کی محض موجودگی حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے‘
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں ہندوستانی افواج کی مبینہ زیادتیوں کے حالیہ واقعات اور ان پر شدید عوامی ردعمل سے سیاسی حلقوں میں فوجی انخلاء کے سوال پر زبردست بحث چھڑ گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے پائین شہر میں ایک معذور دکاندار کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ پچھلے پانچ روز سے جاری ہے اور مقامی پولیس نے جائے واردات پر تعینات ہندوستان کی مرکزی پولیس فورس کی بٹالین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے عوام کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے خانیار میں واقع اُس چار منزلہ ہوٹل کی عمارت کو بھی گھیرے میں لے لیا ہے جہاں مذکورہ بٹالین کا کیمپ پچھلے سولہ برسوں سے قائم ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران سرحدی ضلع کپواڑہ اور بارہ مولہ میں فوج کی فائرنگ سے دو طلباء اور ایک خاتون ہلاک ہو چکے ہیں۔ پہلا واقعہ کپوارہ کے زرہامہ گاؤں میں اس وقت ہوا جب مسجد کی بے حُرمتی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فوج نے گولی چلائی جس سے ایک طالب علم ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ بعد ازاں قریبی قصبہ پٹن میں دوشیزہ کے ساتھ فوج کی مبینہ دست درازی کے خلاف مظاہرے پر فوجی قافلے کے جوانوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جاوید احمد نامی طالب علم اور ایک خاتون ہلاک ہو گئیں۔ان واقعات کے خلاف کپواڑہ اور بارہ مولہ میں دو ہفتوں تک حالات کشیدہ رہے اور مشتعل آبادی کو قابو کرنے کے لیئے انتظامیہ نے کرفیو نافذ کیا۔

زیادتیوں کے ان واقعات سے لوگوں میں احساس عدم تحفظ بڑھ گیا ہے

اکثر علیحدگی پسند حلقے خانیار کے واقعہ کو کپواڑہ اور پٹن میں رونما ہونے والے واقعات کی روشنی میں ہی دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج کی محض موجودگی حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے لہٰذا امن عمل کو بچانے کے لیئے فوجی انخلاء کی پاکستانی تجویز پر عمل کیا جائے جبکہ ہند نواز حلقے ان واقعات کو’ کیئے کرائے پر پانی پھیرنے‘ کے مترادف سمجھتے ہیں۔

حکمران اتحاد کی اہم اکائی پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کے مطابق پچھلے سات ماہ کے دورران اندرونی سلامتی کا نظام حد درجہ بگڑ گیا ہے۔ محبوبہ کہتی ہیں کہ’اگر سکیورٹی دستوں کو پابند نہیں کیا گیا تو اعتماد سازی کی تمام کوششیں ضائع ہو جائیں گی اور ایسے تو کیئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے‘۔

حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے سے وابستہ نعیم احمد خان کہتے ہیں کہ’ کپواڑہ اور پٹن میں لوگوں کا سڑکوں پر نکل آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ڈی ملٹرائزیشن چاہتے ہیں اور اب تو ان کی بے چینی اور بڑھ رہی ہے۔عوامی مزاحمت کپواڑہ سے پٹن اور وہاں سے سرینگر پہنچ گئی ہے‘۔

کپواڑہ اور بارہ مولہ میں دو ہفتوں تک حالات کشیدہ رہے

علیحدگی پسند لیڈر سجاد غنی لون کا کہنا ہے کہ’ ڈی ملٹرائزیشن کی ضد ملٹرائزیشن ہوتی ہے۔اگر نئی دلّی ڈی ملٹرائزیشن کی تجویز کو مسترد کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کشمیر میں ملٹرائزیشن پر آمادہ ہے۔ کیا اس سے اعتماد بحال ہو سکے گا‘۔

مبصرین کا خیال ہے کہ فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جنگ میں جس قوّت کا پلڑا کمزور ہوجاتا ہے وہ دانستہ یا نادانستہ اپنی پستی کا نزلہ عوام پرگراتی ہے۔

حقوق انسانی کے لیئے سرگرم تنظیموں کے اتحاد’ کولیشن آف سول سوسائٹی‘ کے جاوید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ’ کم از کم آبادیوں سے فوج نکل جاتی تو لوگوں کو بھی احساس ہو جاتا کہ امن عمل ان کے لیئے ہے‘۔ جاوید مزید کہتے ہیں کہ زیادتیوں کے ان واقعات سے لوگوں میں احساس عدم تحفظ بڑھ گیا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ فوجی انخلا زندہ رہنے کا واحد راستہ ہے اور اسی لیئے لوگ اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد