ایس ڈی برمن ، موسیقی کی لیجنڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لوگ انہیں پیار سے برمن دا کہہ کر پکارتے تھے۔ بنگالی میں دادا یعنی بڑا بھائی۔ موسیقی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ایک گھرانے میں جنم لینے والے برمن دا یکم اکتوبر1906 کو بنگال کے ایک چھوٹے سےگاؤں میں پیدا ہوئے تھے اور آج ان کی سویں سالگرہ ہے۔ برمن دا کے والد نودیپ چندر دیو برمن بذات خود ستار نواز تھے اور دھروپد گلوکار بھی۔ انہوں نے ہی برمن دا کو ابتدائی تعلیم دی تھی۔ پھر استاد بادل خان نے برمن دا کے فن کو نکھارا۔ موسیقی برمن دا کے رگ و پے میں سمائی تھی اور انہوں نے اسے ہی اپنا کریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ کلکتہ ریڈیو پرانہوں نے بنگالی اور لوک گیت گانا شروع کیئے لیکن یہ تو ان کی منزل نہیں تھی۔ وہ موسیقی کی دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتے تھے۔ اس وقت بمبئی ایسے فنکاروں کی جنت کہلاتا تھا اس لئے وہ انیس سو چوالیس میں بمبئی چلے آئے۔ اپنی پہلی فلم ’یہودی کی لڑکی‘ میں انہوں نے پہلا گیت گایا لیکن وہ گیت پسند نہیں کیا گیا اس لئے اسے فلم سے نکال کر ان کی جگہ پہاڑی سانیال سے وہ گیت گوایا گیا۔ لیکن برمن دا مایوس نہیں ہوئے پھر انہیں ایک بنگالی فلم ملی اور اس کے بعد راستے کھلتے چلے گئے۔ یہاں پہلے انہوں نے چھوٹی فلموں میں میوزک دیا لیکن انہیں تب فلم ' دو بھائی ' ملی جس میں انہوں نے گیتا دت کی آواز میں ایک گیت ریکارڈ کیا 'میرا سندر سپنا ٹوٹ گیا'۔ اس گیت نے بہت شہرت حاصل کی اور دنیا نے برمن دا کی صلاحیت کو پہچانا۔
پھر ایک کے بعد ایک انہیں فلمیں ملتی گئیں۔ شمشماد بیگم ، گیتا دت ، منا ڈے ، محمد رفیع ، لتا منگیشکر ، آشا بھوسلے، کشور کمار کے ساتھ انہوں نے کئی یادگار گیت بنائے۔ کاغذ کے پھول کا وہ گیت ' وقت نے کیا کیا حسین ستم' یا پھر پیاسا کا 'جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہے' ایسے نغمے ہیں جنہیں شاید دنیا کبھی بھلا نہیں پائے۔ آج بھی پرانے نغموں کا انتخاب کرتے وقت لوگ ان گیتوں کو نہیں بھولتے۔ انیس سو پچاس میں ایک دور ایسا بھی آیا جب برمن دا بالی وڈ کی دنیا کی سیاست سے ناراض ہو کر کلکتہ جانے لگے لیکن کچھ ہمدردوں نے انہیں جانے نہیں دیا جس کا نتیجہ تھا کہ اس کے بعد کئی ہٹ فلمیں بنیں اور ان کے نغمے ایسے تھے جن کے بغیر موسیقی کی تاریخ ادھوری رہے گی ۔ ان میں فلم ٹیکسی ڈرائیور ، پیئینگ گیسٹ ، نو دو گیارہ ، کالا پانی ، منیم جی ، بمبئی کا بابو ، بازی ، امر پریم ، بندنی ، دیوداس ، پیاسا ، کاغذ کے پھول شامل ہیں۔ دیو آنند کے ساتھ ان کی جوڑی کافی کامیاب تھی۔ دیو آنند اپنی ہوم پروڈکشن نوکیتن میں فلمیں بناتے تھے اور برمن دا ہی ان کی فلموں میں موسیقی دیتے تھے۔بمبئی کا بابو ، تین دیویاں ، تیرے گھر کے سامنے ، گائیڈ ، جیول تھیف۔ فنکاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زود رنج اور بہت حساس ہوتے ہیں۔ برمن دا میں یہ 'خوبیاں' بدرجہ اتم تھیں۔ بمبئی چھوڑ کر جانے کا خیال دل سے نکالا تو ایک روز لتا منگیشکر سے ناراضگی ہوئی۔ بس کیا تھا ان سے گانا گوانے کے بجائے آشا بھوسلے کو موقع دیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ آشا جی کی آواز سجانے سنوارنے اور نکھارنے میں برمن دا اور او پی نیر کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ لیکن پھر فلم چھوٹے نواب میں ان کے درمیان صلح ہو گئی اور دونوں نے ایک ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔
برمن دا کی موسیقی کی وجہ سے کئی فلمیں کامیاب ہوئیں اور کئٰ فنکار بلندیوں پر پہنچے۔ ان میں کشور کمار کا نام سر فہرست ہے اس کے بعد مجروح سلطانپوری کے نغمے جنہیں برمن دا کے سر اور تال ملتے ہی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس ٹیم نے کافی فلموں میں اپنے دور کے سپر ہٹ نغمے دئے۔ انیس سو ستر کی دہائی میں فلم چپکے چپکے ، ملی ، شرمیلی ، ابھیمان کے نغمے بھی برمن دا نے ہی دیئے۔ اس دوران ان کے ہونہار بیٹے راہول دیو برمن نے بھی ان کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ فلم آرادھنا میں دونوں نے مل کر کام کیا تھا۔ برمن دا کو قدرت نے ایک اور حسین تحفہ دیا تھا اور وہ تھی ان کی دل میں اتر جانے والی آواز۔ انہوں نے کئی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور جو بھی گیت گائے وہ یاد گار گیت بنے۔ بندنی کا وہ گیت ' سن میرے بندھو رے ، سن میرے متوا‘ اور آرادھنا کا گیت 'سپھل ہو گی تیری آرادھنا ' ۔ برمن دا کی آواز میں جھرنے کے بہاؤ کا تیز شور اور پہاڑوں سی اٹھان تھی۔ آواز دل کو چھو جاتی تھی۔ برمن دا کی گائیکی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے بنگالی لوک گیتوں کے انداز کو اپنایا تھا اور اس کی سادگی کی وجہ سے گیت مقبول ہوئے۔ اس دور کی مشہور اداکارہ وحیدہ رحمان ایس ڈی برمن کویاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انکی مومسیقی میں ایک الگ مٹھاس تھی۔ انکا کہنا ہے کہ چالیس پچاس برس بعد آج بھی پیاسا اور کاغذ کے پھول جیسی فلموں کے نغمے پھیکے نہیں لگتےہیں۔
برمن دا کو آج سو سال پورے ہونے پرخراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ آج کے موسیقار پریتم نے جنہوں نے فلم گینگسٹر ، وہ لمحے جیسی فلموں میں موسیقی دی ، کہتے ہیں کہ وہ برمن دا اور پنچم دا کی موسیقی سن کر جوان ہوئے۔ وہ ان کے بہت پرستار ہیں۔ پریتم کے مطابق برمن دا کی موسیقی کی صحیح تعریف ہے یہ کہ وہ سیدھی اور سچی دھنیں بناتے تھے ان کی موسیقی دلوں کو چھو جاتی تھی۔ پریتم کہتے ہیں آج انسان ہی جب سیدھا اور سچا نہیں رہا تو موسیقی میں وہ سادگی کہاں سے آئے گی۔ پرانے کلاسیکی گیتوں کو نیا روپ دینے اور انہیں ری مکس کر کے نیا انداز دینے کا انڈسٹری میں چلن چل گیا ہے۔ سب سے زیادہ ایس ڈی برمن کے بیٹے راہول دیو برمن یعنی پنچم دا کے نغموں کا ری مکس کیا گیا لیکن برمن دا کے نغمے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ پریتم کا کہنا ہے کہ پرانے گیتوں کا ری مکس برا نہیں ہے کیونکہ اس سے کم سے کم نئی نسل جو تیز موسیقی کی دلدادہ ہے وہ ان پرانے نغموں سے روشناس ہو سکتی ہے۔ لیکن ان میں صرف ایک ہی خرابی ہے کہ ان نغموں کو ری مکس کرنے کے بعد دنیا کو بتایا جائے کہ ان کا اصلی خالق کون ہے۔ اسی کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رہے کہ اسے اچھے انداز میں فلمایا جائے تاکہ نغمے کی اصل روح باقی رہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||