BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رقص و موسیقی کے نئے نئے ریکارڈز

ادیتی گپتا
ادیتی نے مسلسل پچاسی گھنٹے رقص کر کے شہرت حاصل کر لی ہے
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے اندور شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آج کل نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ریکارڈ بنانے اور شہرت کمانے میں مصروف ہیں۔

اس کی شروعات ہوئي انوشکہ سنگھل سے، جنہوں نے مسلسل 18 گھنٹےگانا گیا۔اس کے بعد آکانشہ جایک نے 61 گنھٹے اور پھر نزدیکی شہر کھنڈیہ کی ثانیہ سید نے 65 گھنٹے گانے کا ریکارڈ بنا دیا۔

ملک کے جنوبی شہر کوئمبٹور میں جب دیپ گپتا نامی شخص نے 101 گھنٹے آلاپ لگانے کامظاہرہ کیا تو ثانیہ پھر اس ریکارڈ کو توڑنے کے پیچھے پڑ گئیں۔

وہ ریکارڈ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھیں اس لیے انہوں نے دوبارہ مسلسل 130 گھنٹے تک گانے کا ریکارڈ بنا ڈالا۔

گلوکاروں کے بعد رقاصوں کی باری تھی۔ سب کی نظروں میں ایک الگ شناخت بنانے کی کوشش میں ادیتی گپتا مسلسل 85 گھنٹے تک ڈانس کرتی رہیں۔

ادیتی کی والدہ کہتی ہیں ’ادیتی ابتدا سے ہی کچھ بڑا کرنے کی خواہش رکھتی تھیں اور آکانشہ نے جب ریکارڈ بنایا تو اس نے طے کیا کہ وہ بھی ڈانس میں نئی اونچائیوں کو چھوئیں گی۔‘

اس شہرت کو ’وقتی اور میڈیا اٹینشن‘ کی پیداوار سمجھنے والے دانشور راجیو شرما ریکارڈ بنانے کی سماجی اور معاشی اہمیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

’یہ کیسے ریکارڈز ہیں جہاں مسلسل گانے سے آواز بے اتنی بےسری ہو جاتی ہے کہ سننے والے کو مزا بھی نہ آئے، جسے ڈانس کہا جاتا ہے وہ ڈانس ہی نہ لگے۔ جس کتاب یعنی گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کرنے کی بھاگ دوڑ مچی ہے وہ کتاب کیا ہے؟ کسی نے مونچھے دو میٹر لمبی کر لیں تو کوئی بالوں سےگاڑی کھنچتا ہے۔‘

لیکن مشہور ہونے والے نئے نئے فنکار ان باتوں کو بھلا کر’سٹار اسٹیٹس‘ کا مزا لے رہے ہیں۔

اس قسم کے پروگرام منعقدکرنے والے لوگ شہر اندور کا نام مشہور ہونے سے کافی فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایسے پروگرام دیکھنے کے لیےکافی تعداد میں لوگ آتے ہیں

’فیوژن‘ نامی ایک تنظیم سے تعلق رکھنے والے دیو جوشی کہتے ہیں کہ ادیتی گپتا آج قومی سطح کی فنکار بن چکی ہیں اوراس سے اندور شہر کو بھی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

لیکن شہر کے بزرگوں کا کہنا ہے کا اندور کو پہلے ہی مقبولیت حاصل ہو چکی ہے۔ ان کے خیال میں لتا منگیشکر، راحت اندوری اور سلیم خان کا تعلق بھی اسی مٹی سے ہے۔

سماجیات کی ماہر نیلم ہنگرونی ان ریکارڈز کو چھوٹے شہروں میں ’پیج تھری کلچر، کے داخلہ کے طور پر دیکھتی ہیں۔ یعنی یہ اس تہذیب کا حصہ بننے جا رہے ہیں جس میں کچھ لوگوں کو یوں ہی شہرت حاصل ہو جاتی ہے۔

’ایسے پروگرامز سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک آسان طریقہ ہیں۔‘

نفسیات کے ماہر نریندر سنگھ اس طرح کے بغیر خوبی والے ریکارڈ بنانے کے مقابلے کو صحیح نہیں مانتے۔’ کم عمر کا بچے اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے ہیں اس میں والدین کا بھی ہاتھ ہوتا ہے کہ جو وہ خود نہیں کر سکے وہ اپنے بچوں سے کروانا چاہتے ہیں۔‘

نریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس سے بچّوں میں کئي طرح کی ذہنی خرابیاں پیدا ہو سکتیں ہیں۔

ریکارڈ بنانے کے میدان میں اترنے والوں میں سے بیشتر کے پاس مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔گلوکاروں کے پاس نہ تو ریاض کے لیے کوئی استاد ہے اور نہ ہی ڈانسرز کو باقائدہ رقص کی تعلیم دینے کے لیے کوئی استاد ہے۔

لیکن اس سے فرق بھی کیا پڑتا ہے۔ ادیتی کے 85 گھنٹے مسلسل ناچنے کا سلسلہ ختم ہوا ہی ہے کہ نو سال کی سمرن بھارتی 61 گانوں پر ڈانس کرنے کی بات کہہ رہی ہیں اور گیارہویں جماعت کے طالب علم دھیرج سین 91 گھنٹے ناچنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد