فیض صاحب آچے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بند آچے چھوٹا سا شہر ہے، شاید سیالکوٹ سے بھی چھوٹا ہوگا لیکن یہاں کی زمین میں شاعری اور موسیقیت کی بہتات ہے۔ پچھلی اتوار کو کسی نے بتایا کہ بڑی مسجد کے ساتھ والے بازار میں آج شام مشاعرہ ہوگا۔ شام کو فرصت تھی اور آچوی مشاعرہ دیکھنے کا اشتیاق بھی، سو کچھ دوستوں کے ہمراہ نکل کھڑے ہوئے۔ جاکر دیکھا تو مشاعرہ کتابوں کی ایک دکان میں جاری تھا اور شاعر حضرات اپنا کلام ایسے سنا رہے تھے جیسے پانی پت کی لڑائی ہورہی ہو۔ یہاں اچھے شاعر کے لیے ضروری ے کہ وہ کلام سنانے کے ساتھ ساتھ شاعری کوپرفارم کرنا بھی جانتا ہو۔ لہٰذا شاعر کے گیسو و ابرو کی جنبش اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں کی حرکت بھی عنوان باندھنے میں مدد کررہے تھے۔ مشاعرہ گاہ کا سائز اپنے مال روڈ والے پاک ٹی ہاؤس کی نچلی منزل جتنا تو ہوگا ہی۔ کتابوں کی اس دکان میں دیواروں کے ساتھ چند الماریاں کھڑی ہیں، باقی دیواروں پر کسی مصور نے سلواڈور ڈالی کے اسلوب میں سریلسٹک فن پارے تخلیق کر نے کی کوشش کی ہوئی ہے۔ سامنے والی دیوار کے ساتھ کوئی آٹھ دس فٹ جگہ پر سٹیج بنا یا گیا ہے، چند روشنیوں، کچھ پوسٹروں اور ایک سائیکل کے ساتھ ایک خاص طرح کا ماحول اجاگر کرنے کی کوشش کافی کامیاب ہے۔ جب ہم پہنچے تو ایک مقامی شاعر بڑی ترنگ میں لہرا لہرا کر کلام سناتے ہوئے داد سمیٹنے میں مصروف تھے۔اس مشاعرہ میں روایت ہے کہ ہر ہفتے مقامی شعراء کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے کسی شاعر کو مدعو کیا جاتا ہے اور یا پھر کسی دوسرے ملک کے کسی بڑے شاعر کا کلام پڑھا جاتا ہے۔مروج طریقہ کے مطابق غیر ملکی شاعر کا کلام اسکی اپنی زبان میں سننے کے ساتھ ساتھ آچوی زبان میں ترجمہ کر کے مقامی شاعرپرفارم کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک خاتون شستہ انگریزی میں ترجمہ بھی کرتی جاتی ہے۔ مشاعرے کے آخر میں سنائی گئی شاعری پر گفتگو کی جاتی ہے جس میں سامعین کی شمولیت بھرپور رہتی ہے۔
پچھلے اتوار ایک جرمن شاعر اپنے کلام کا تجربہ کررہے تھے۔ تجربہ اس لیے کہ موصوف کی ایکسپیریمنٹل شاعری پرفارم ہو رہی تھی جو شاعر کے ایک سالہ انڈونیشیا کی سیاحت کے تجربات پر مشتمل تھی۔مشاعرہ گاہ میں تین عدد مائک بمعہ جاندار ساؤنڈ سسٹم کے موجود تھے۔ ایک مائیک پر شاعر جرمن زبان میں اپنا کلام سناتے، دوسرے مائیک کے سامنے مقامی زبان میں ترجمہ کے ساتھ ایک شاعر پر فارم کرتا اور تیسرے مائیک سے انگریزی میں ترجمہ سنایا جاتا۔ پرفارمنس کے دوران تینوں زبانوں کی ادائیگی میں توازن اس قدر بڑھیا تھا کہ کہیں جھول نہ محسوس ہوا۔ کہنے کو تو یہ کتابوں کی دکان میں شام ڈھلے سجایا گیاایک چھوٹاسا مشاعرہ تھا لیکن سچی بات یہ ہے کہ مقامی شاعروں کے کلام کے ساتھ ساتھ بیرونی شاعری پرمقامی شاعروں کی پرفارمنس نے سماں باندھ دیا۔ میں شاید پہلا پاکستانی تھا جو اس مشاعرہ میں شریک ہوا۔ مجھ سے فرمائش کی گئی کہ میں بھی کچھ سناؤں تو میں عرض کی کہ میرا شاعری سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور یار لوگ تو ویسے بھی مجھے شاعری کے دشمنوں کی صف میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن جب اصرار بہت بڑھا تو میں نے دس منٹ کی مہلت چاہی کہ میں برابر والے انٹرنیٹ کیفے سے پاکستانی شاعری ڈاؤن لوڈ کرلاتا ہوں۔گویا اس طرح میں فیض صاحب کی ’دعا‘ کا انگریزی ترجمہ انٹرنیٹ سے نکال لایا جو کہ تھوڑی ہی دیر میں ہی ایک مقامی شاعر نے آچوی زبان میں ترجمہ کرلیا۔ ’دعا‘ سے پہلے میں نے فیض صاحب کا مختصر تعارف بھی سامعین کے گوش گزار کیا۔اب میں فیض صاحب کی نظم اردو میں سنا رہا تھا، ایک آچوی شاعر اسے مقامی زبان میں زبردست اتارچڑھاؤ کے ساتھ پرفارم کر رہا تھا اور ایک لڑکی ’دعا‘ کا انگریزی ترجمہ پڑھتی جا رہی تھی۔ اردو والی دعا کو آچے کی زبان میں بھی دعا ہی کہتے ہیں۔
’آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی کہ ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں‘ نے سماں باندھ دیا۔انتظامیہ مشاعرہ نے فرمائش کی کہ اگر میں اگلے اتوار تک فیض کی آٹھ دس نظمیں اورغزلیں انگریزی زبان میں مشاعرہ انتطامیہ کو فراہم کر سکوں تو اگلے اتوارکا مشاعرہ فیض کے نام ہوگا۔ بھلا ہو انٹرنیٹ کا، میراکونسا زورلگنا تھا، میں نے اگلے روز ہی درجن بھر نظمیں ڈاؤن لوڈ کرکے مشاعرہ انتطامیہ کو ای میل کردیں۔ ساتھ ہی میں انٹر نیٹ سے فیض کی کچھ تصاویر نکال کر ایک پوسٹر بھی بنا کر بھیج دیا۔ اگلی اتور یعنی مشاعرے کی شام جب میں وہاں پہنچا تویہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ سٹیج پر فیض کا بڑے سائز کا بلیک اینڈ وائٹ پوسٹر لگا ہوا ہے۔ مشاعرے کی انتظامیہ نے انٹر نیٹ سے فیض کا تفصیلی تعارف نکال کر ایک پمفلٹ کی شکل میں فوٹو سٹیٹ کرواکرتمام سامعین کو دیدیا ہوا ہے۔ شرکائے مشاعرہ کی تعداد سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس مشاعرہ کی پبلسٹی بھی خوب کی گئی ہے۔ شاعر اور شاعری کے زمان و مقام سے اگرسامعین کو بھی کچھ شدھ بدھ ہو تومزا دوبالا ہی نہیں بلکہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ مشاعرے میں صورتحال اس وقت کافی مضحکہ خیز ہو گئی جب ایک شاعر نے صحرا میں ہولے سے چلے بادِ نسیم والی لائن پڑھی تو اسے شاید کچھ مزا نہ آیاہوگا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کے پاس صحرا کا تصور کافی دھندلا ہے۔ آچے اور سماٹرا چاروں طرف سے سمندر میں گرے جزیرے ہیں اور لینڈ سکیپ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر مشتمل۔ میں نے صحرا، اسکی حدت ، صحرا کی رات اوراور اس میں چلنے والی ہوا کو سمجھانے کی کوشش تو بہت کی مگرشاید بات نہ بنی تو پرفارم کرنے والے شاعر نے سامعین
فیض کی بارہ نظموں کے علاوہ مقامی شعراءنے جو کلام پڑھا یا پرفارم کیا انکے عنوان بھی خوب تھے۔ مثلاََ: آچے میں شریعت نافذ ہے، خلوت اور جلوت کے شرعی قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ شراب پر مکمل پابندی ہے، مسلح اسلامی شدت پسندوں کی مہم جوئی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس مشاعرہ میں اکٹھا ہونے والے لوگ ایک طرح سے مذہبی جبر کے باغی بھی تھے۔ ایک صاحب گھر میں کشید کی ہوئی رمبوتان (ایک طرح کا پھل) کی شراب کی ایک چھوٹی سی بوتل لائے ہوئے تھے جو تمام سامعین نے کوک میں ایک ایک قطرہ شامل کر کے جبری پابندیاں نہ ماننے ک علامتی اظہار کے طور پر پی۔ اتوار ، چھبیس نومبر کو بارش میں بھیگی اس شام میں کتابوں کی اس دکان میں فیض کو آچے میں شاعری کے متوالوں نے خوب یاد کیا اور دل کھول کر داد میں نے وصول کی۔ آچے کے سفر سے پہلے میرے دل میں جو اندیشے تھے کہ زلزلوں اور سونامی سے تباہ ہونیوالی سرزمین پر نہ جانے کیا بیتے گی اور لوگوں کا رویہ جانے کیسا ہوگا لیکن یہاں آ کر معلوم ہواکہ زندہ دل لوگ ہرحال میں خوشیوں کا سامان ڈھونڈ نکالتے ہیں اور زندگی کی جستجو کو کبھی مرنے نہیں دیتے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||