خشونت کے لیئے پنجاب رتن ایوارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مشہور مصنف، تاریخ دان اور نقاد خشونت سنگھ کو پنجاب رتن ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ اس سلسلے میں اکتیس اگست کو دلی میں ہونے والی ایک تقریب میں پاکستانی پنجاب سے بھی ادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات شرکت کریں گی۔ بھارتی پنجا ب کی حکومت کی طرف سے پنجاب رتن ایوارڈ ایسے شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے جن کا ادب، فن اور کلچر کے شعبوں میں کام جغرفیائی سرحدوں سے بالاتر ہو۔ خشونت سنگھ اس وقت برصغیر کے مشہور مصنف، تاریخ دان ، نقاد اور کالم نگار ہیں۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امارندر سنگھ ان کو یہ ایوارڈ پیش کریں گے اور توقع ہے کہ پاکستان سے بیس کے قریب مشہور شخصیات اس تقریب میں شرکت کریں گی تاہم ابھی انہیں بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے ویزے جاری کیے جانے کا انتظار ہے۔ خشونت سنگھ انیس سو پندرہ میں پاکستانی پنجاب کے ضلع خوشاب کے قریب گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے جہاں انہوں نے سکول تک کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔ برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی اور انر ٹیمپل میں پڑھنے کے بعد انہوں نے واپس لاہور جا کر وکالت شروع کر دی تاہم تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت دلی میں بس گئے۔ وہ کچھ عرصہ وزارت خارجہ میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات رہے لیکن جلد ہی سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔ انیس سو اکیاون میں صحافی کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو میں نوکری اختیار کر لی جہاں سے ان کے تابناک کیریر کا آغاز ہوا۔ وہ بھارت کے مشہور جریدے نیشل ہیرلڈ جو کہ بعد میں السٹریٹڈ ویکلی کہلایا کہ ایڈیٹر رہے اور ان کے دور میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ خشونت سنگھ ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔
خشونت سنگھ نے تقریبًا تمام مشہور ملکی اور غیر ملکی اخبارات کے لیئے کالم لکھے۔ ان کی کتاب ’ہسٹری آف سکھ‘ یعنی سکھوں کی تاریخ اب تک اس سلسے میں ہونے والا سب سے منجمد کام سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کئی ناول بھی لکھے اور ان کی کتابوں کی کل تعداد 80 ہے۔ ان کے ناول ’ٹرین ٹو پاکستان‘ کو انیس سو چون میں عالمی شہرت یافتہ گروو پریس ایوارڈ دیا گیا۔ان کے دو کالم بھارت کی چالیس انگریزی اخباروں میں چھپتے ہیں۔ خشونت سنگھ کو انیس سو چوہتر میں پدم بھوشن ایورارڈ دیا گیا اور انیس سو اسی سے لے کر انیس سو چھیاسی تک وہ راجیہ سبھا کے ممبر بھی رہے۔ | اسی بارے میں انیس سالہ بھارتی مصنفہ کا اعتراف29 April, 2006 | فن فنکار پاکستانی خواتین مصنفین کی کتاب بھارت میں 10 February, 2005 | انڈیا بنگلہ دیش: معروف مصنف ہلاک13 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||