ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
| | اس منصوبے پر نو ہزار دو سو پچاس کروڑ روپے خرچ ہوں گے |
ہندوستان کے اقتصادی شہر ممبئی میں واقع ایشیاء کی ایک بڑی جھوپڑ بستی ’دھراوی‘ کو خوبصورت رہائشی اور تجارتی علاقے میں تبدیل کرنے کے لیے ٹینڈر طلب کر لیے گئے ہیں۔ پانچ سو پینتیس ایکڑ زمین پر آباد دھراوی کے لیے ٹینڈر عالمی سطح پر طلب کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک متحدہ عرب امارات سے دبئی برج اور امار پراپرٹیز کے علاوہ ہانگ کانگ، اسرائیل، سنگاپور، کی کمپنیوں نے ٹینڈر بھرے ہیں اور اس ماہ کے آخر تک بھارتی نامور کمپنیوں کے ساتھ دنیا کی مزید کمپنیوں کے شامل ہونے کے بھی امکانات ہیں۔ مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( مہاڈا ) کے نائب صدر اور دھراوی آبادکاری منصوبہ ( ڈی آر پی ) کے نگراں آئی ایس چہیل کے مطابق ’یہ پراجیکٹ نو ہزار دو سو پچاس کروڑ روپوں کا ہے اور اسے مکمل کرنے کے لیے کم سے کم سات سال کا عرصہ درکار ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ٹینڈر بھرنے کے لیے فارموں کی تقسیم جاری ہے اور اگست میں ٹینڈر کھولے جائیں گے۔
 | | | یہاں کم سے کم چھ سو عمارتیں بنیں گی |
دھراوی کے اس منصوبے میں صرف انیس سو پچانوے تک کے بننے والی جھوپڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے یعنی ستاون ہزار خاندانوں کی آبادکاری ہو گی جنہیں فی خاندان دو سو پچیس مربع فٹ کے پکے مکانات بنا کر دیے جائیں گے۔مسٹر چیہل کے مطابق انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سن دو ہزار تک کی جھوپڑیوں کو اس پراجیکٹ میں شامل کیا جائے کیونکہ ویسے بھی ان کی تعداد اب بڑھ کر کم سے کم سترہ ہزار ہو چکی ہے اور انہیں ایک ساتھ اجاڑ کر کہیں اور جگہ دینے سے بہتر ہے کہ انہیں یہیں بسایا جائے۔ ستاون ہزار سے زائد لوگوں کا بسانے کے لیے یہاں کم سے کم چھ سو عمارتیں بنیں گی، چار نئی سڑکوں کی تعمیر ہو گی اور سکول، پارک اور ہسپتال بنائے جائیں گے۔ ان کے علاوہ اہم بنیادی سہولیات جیسے گندے پانی کی نکاسی کے لیے پائپ لائن کے علاوہ پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
 | | | یہاں کی لیدر انڈسٹری کو بہت اہمیت حاصل ہے |
دھراوی میں ایک طرف جہاں ہزاروں کچے پکے مکانات بنے ہیں وہیں یہاں چھوٹی بڑی انڈسٹری سمیت پانچ ہزار کے قریب تجارتی مراکز ہیں۔ ان میں چمڑے اور چند کیمیکلز کی چھوٹی صنعتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں کمہار ہیں جو آج بھی یہاں کچی مٹی سے گھڑے، دیے اور گملے بناتے ہیں۔اس پراجیکٹ کی وجہ سے یہاں کے انڈسٹری مالکان اور مقامی افراد بھی ناخوش ہیں۔ پراجیکٹ کے تحت سب سے پہلے چمڑے کی صنعت کو یہاں سے منتقل کیا جائےگا۔ یہاں کی لیدر انڈسٹری کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہاں کے بنے بیگ، پرس اور جیکٹیں برآمد کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان اشیاء کی ممبئی میں بھی بڑی کھپت ہے اور اس صنعت سے وابسطہ لوگ سب سے زیادہ ناراض ہیں۔
 | | | کمہاروں کو البتہ اس جگہ سے منتقل نہیں کیا جائے گا | ہلال انصاری کا چمڑے کا کاروبار ہے اور وہ یہ کاروبار گزشتہ پچاس برس سے کر رہے ہیں۔ وہ حکومت کے اس منصوبے سے ناخوش ہیں۔ وہ اس بات پر ناراض نہیں ہیں کہ انہیں ممبئی سے باہر بھیج دیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں ’اب رفتہ رفتہ ہر انڈسٹری ممبئی سے باہر منتقل ہو رہی ہے کیونکہ یہ رہائشی علاقہ ہے، لیکن دکھ اس بات کا ہے حکومت ہمیں ہماری جگہ کے برابر جگہ نہیں دے گی اور اگر ایسا ہوا تو ہمارا نقصان ہوگا۔ دوسرے یہ کہ ممبئی سے دور ہونے کی وجہ سے ہمیں کئی دیگر تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘کمہاروں کو البتہ اس جگہ سے منتقل نہیں کیا جائے گا لیکن انہیں بھی ایک دکھ ہے کہ انہیں بھی اتنی جگہ نہیں مل سکے گی جتنی اس وقت ان کے پاس ہے۔ لکشمی کامبلے جانتی ہیں کہ حکومت کوئی منصوبہ بنا رہی ہے لیکن وہ نہیں جانتیں کہ وہ کیا ہے۔’ہمیں اپنے کام کے لیے بہت جگہ چاہیئے۔ مٹی رکھنی ہوتی ہے، پھرگھڑوں کو بنانا اور بعد میں انہیں بھٹی میں ڈالنا پڑتا ہے۔‘ چیہل کا کہنا ہے کہ ’پراجیکٹ کے مطابق جن کے پاس ایک ہزار مربع فٹ کی اپنی جگہ ہے انہیں اپنی جگہ کا صرف دس فیصد حصہ چھوڑنا ہوگا۔ لیکن اگر پندرہ سو مربع فٹ کی جگہ ہے تو انہیں بیس فیصد اور اس سے زیادہ کو تیس فیصد کا نقصان ہو گا اور اس کے بعد باقی جگہ کے لیے انہیں اپنے تعمیر کے اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔‘
 | | | دھاراوی میں چھوٹی بڑی انڈسٹری سمیت پانچ ہزار کے قریب تجارتی گالے ہیں |
صرف تاجر ہی نہیں یہاں کے رہائشی بھی اس منصوبے سے خوش نہیں ہیں۔ایک خاندان اور ایک جھوپڑی میں رہنے والوں نے تھوڑی سی جگہ پر اس جھوپڑی کو ایک منزلہ سے تین منزلہ تک بنا لیا ہے جس میں ان کا خاندان آباد ہے۔ اس کے علاوہ اسے انہوں نے کرایہ پر بھی دے رکھا ہے۔ایسے ہزارہا افراد دو سو پچیس مربع فٹ کے مکان میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔ حکومت جب یہ پراجیکٹ شروع کرے گی تو اسے لوگوں کی ناراضگی اور بہت سی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چیہل اس بات سے واقف ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی مخالفت کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ یہ پراجیکٹ مکمل ہوگا۔‘
|