’سمندر ہماری زمین تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(’دریا کہانی‘ کے نام سے ہم آج سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔) ایک زمانہ تھا جب میرا وقت کراچی کے مچھیروں کے ساتھ گزرا کرتا، دن رات باجے اور ڈھولک پر قصے سنتے ہوئے۔ میں لٹھ بستی، ریڑھی اور ابراہیم حیدری کے ساحلوں سے ان جزیروں تک سفر کرتا جو اب گمنام ہوچکے۔ میرے ہمسفر مچھیروں کے بازؤوں کی مچھلیاں کراچی کے سمندر کی مچھلیوں کے ساتھ تڑپا کرتیں۔ یہاں دلربا آنکھوں والی خاصخیلی مچھیرنیں رہتی تھیں جن کے دانتوں کے سچے موتی ہمیشہ گٹُکے سے جلے ہوتے، وہ ظالم تمباکو جسے ان علاقوں کا ہر بچہ اپنی خوراک کا حصہ سمجھتا ہے۔ لیکن ان کی مسکراہٹ میں آج بھی وہ جان ہوتی ہے جو مجھے پاکستان بھر میں اور کہیں نہ دکھائی دی۔ خاصخیلی بزرگ جو یہاں کے قدیم لوگ ہیں، مجھے بتایا کرتے تھے کہ وہ مچھیرے نہیں کسان تھے، تربیلا ڈیم کے بننے سے پہلے تک۔ وہ سمندر کے کنارے ایک ڈیڑھ میل تک پھیل جانے والے اس میٹھے پانی کے بارے میں بتاتے جو سندھ کے ایک اورسمندر سندھو دریا سے بہتا ہوا آتا اور اپنے ساتھ مٹی کی وہ تہہ لاتا جس میں چاول کی فصل بوئی جاتی تھی۔ ان دنوں بھی کسی سمندر کے ساحل پر لہلہاتی فصل کا تصور محال تھا۔
ریڑھی بستی میں ہی میں سلیمان سے ملا تھا جو پاکستان بننے کے بعدکے اپنے چوری اور سمگلنگ کے قصے مزے لے لے کر سناتا اور ماہی گیر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ وہ سناتا کہ کیسے نیوی اور کوسٹ گارڈ کے پنجابی اہلکاروں کو سمندر کی سرحدوں اور رازوں کا کچھ پتہ نہ تھا۔ کیسے وہ اور اس کے ساتھی ایک طرف سے مال اٹھاتے اور اگر کوسٹ گارڈ ان کے پیچھے آجاتے تو مال سمندر میں پھینک دیتے۔ بعد میں جب چاند گھٹنے کے ساتھ پانی اتر جاتا تو یہ لوگ وہیں جاکر مال اٹھالیتے۔ اس کا کہنا تھا کہ سمندر ہماری زمین ہے اور اس کے انچ انچ کو ہم جانتے ہیں۔ ہم اسے سنتے اور دیکھتے ہیں اور بتادیتے ہیں کہ کہاں کون سی مچھلی ہے۔ وہ کہا کرتا کہ ہم مچھلی کے بچے واپس سمندر میں پھینک دیتے ہیں کہ اگلی بار وہی بڑی ہوکر ہمارے ہاتھ آئیں گی۔ یہ گاؤں کہنے کو سندھ میں تھے لیکن یہاں کے رسم و رواج میں گھٹن نہیں تھی۔ یہاں کارو کاری نہیں ہوتی تھی، عورتیں ٹھٹھہ مار کر ہنستیں اور اونچی آواز میں بات کرتی تھیں۔ یہاں مردوں، عورتوں دونوں میں زیادہ شادیاں کرنے کا رواج عام تھا۔ اسی سمندر میں ایک دن میں نے سینکڑوں اونٹوں کو تیر کر اس جزیرے کی طرف جاتے دیکھا جہاں ان کی چراگاہ تھی۔ ان کے پیچھے پیچھے ایک عجیب سی کشتی آ رہی تھی، جس میں دو مانجھی لڑکے بیٹھے تھے۔ وہ اونٹوں کو اونچی آواز میں ہنکاتے تھے۔ مقامی طور پر بنایا گیا ایک ٹینکر سا اس کشتی پر نصب تھا اور اس میں جانوروں کے پینے کا پانی تھا۔
اس سفر میں اکثر اِبًو میرے ساتھ ہوتا۔ اِبًو مجھے باجے کی سنگت پر ان علاقوں کے سورما مورڑو کا قصہ سناتا جو لنگڑا تھا اور جب اس کے بھائی ہفتوں کے لیے سمندر میں شکار پر چلے جاتے تھے، تو گاؤں کا خیال رکھا کرتا اور جس نے اس خطرناک آدم خور مچھلی کو مارا تھا جو اس کے بھائی اور گاؤں کے بہت سے مچھیروں کو نگل گئی تھی۔ اِبًو روزی کمانے کے لیے کشتی بنانے کا کام کیا کرتا تھا اور مچھیروں کے مقبول ترین گانے والے استاد مٹھو کچھی کا شاگرد تھا۔ یہ سفر عموماً چھوٹی کشتی میں ہوتا تھا جو پتلی گزرگاہوں میں چل سکے اور عموماً ان ’جہازوں‘ کے کپتان وہ ننھے مانجھی ہوتے جن کے باپ ان کی تربیت کررہے ہوتے۔ کبھی کبھی جب ہمیں ایک جنگل سے نکل کر دوسرے میں گھسنے کے لیے کھلے سمندر میں آنا پڑ جاتا تو یہ ننھی کشتیاں چار چار فٹ اوپر تک جھولتیں اور وہ جو میں فن لینڈ کی رائڈز سے ہمیشہ ڈرا کرتا تھا، وہی موت کا منظر میرے سامنے لے آتیں۔ میں نے ایسے ہی ایک چکا چوند کردینے والے لمحے میں وہاں ایک ڈولفن کو غروب ہوتے آفتاب کے سامنے قلابازی کھاتے دیکھا تھا۔ ہم اکثر سمندر کے دلدلی علاقوں پر پھیلے تمر کے جنگلات میں سے بہتی پتلی نہروں سے گزرتے ہوئے ان جزیروں تک جا پہنچتے جہاں یہ مچھیرے رہا کرتے تھے۔ کشتی کے دونوں اطراف تمر کے درخت اپنی ٹہنیاں جھکائے ان راستوں کو تصور کے بہشتی دروازوں میں بدلائے ہوتے۔ یہاں قدرت، پنچھی، جانور، مچھلیاں اور جھینگے سب ایک طرح کی ہنسی خوشی چین کی بانسری بجانے والی زندگی گزارتے تھے جیسے کہ صرف کہانیوں کے انجام پر ہوتی ہے۔ لیکن ہر کہانی کے انجام سے آگے بھی کہانی ہوتی ہے۔
آگے کی کہانی اس سمندر کی تباہی کا آغاز تھا، اور تقسیم کے بعد اس کراچی کی آبادی تھی جس نے ان بستیوں کو مضافات میں بدل دیا۔ پھر تربیلا ڈیم کے بعد سمندر میں میٹھا پانی آنا بند ہوا، سمندر کے اندر وہ جزیرے ویران ہوئے جہاں بسنے والے مچھیرے اس پانی سے گزارا کرتے تھے اور تمر کے جنگلات ختم ہونا شروع ہوئے۔ پھر لاکھوں بنگالی مہاجروں نے جو اپنے حالات کی وجہ سے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے، سمندر سے ہر قسم اور عمر کی مچھلی شکار کرنا شروع کی۔ پھر پاکستان کی حکومت نےاس سمندر میں ان دیو ہیکل ٹرالروں کو چھوڑ دیا جن کے جال ایک کلو میٹر سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں، سمندر کے نیچے تک شکار کرتے ہیں اور جن کے رستے میں آنے والی ہر چیز مچھلی کی طرح تڑپتی ہے اور اوپر پہنچنے تک مرجاتی ہے۔ یہ ہفتوں سمندر میں رہتے ہیں، ان کے پاس سٹوریج کی جگہ کم ہوتی ہے اور انہیں صرف ایک یا دو قسم کی مچھلی چاہئے ہوتی ہے۔ باقی ہر جانور کی لاش یہ واپس سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ دو سال قبل اگست میں تیل لانے والا ایک یونانی جہاز انہی ساحلوں پر ٹوٹ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا اور اس میں سے ہزاروں ٹن تیل بہہ کر ساحلوں اور سمندر کو آلودہ کر گیا۔ کئی دن کی محنت کے بعد سمندر سے لوٹنے والے صادق ملاح نے ایک رپورٹر کو اپنی لانچ کے پیندے پر لگا ہوا تیل اور جال دکھائے جو کالے ہو چکے تھے۔ اس نے کہا ’یہ سیاہی ہم پر ملی جا چکی، خالی جال ہمارا مقدر بن چکا ہے۔‘ آج سلیمان مرچکا اور اِبًو بےروزگار ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تھوڑے ہی دن ہیں، نہ تو یہ ماہی گیر بچیں گے، نہ ہی مورڑو کی کہانی۔ کہانی ختم۔
| اسی بارے میں سیف الملوک اور کہار کا کیا ہوگا؟08 April, 2006 | Blog ’سندھو ہمالیہ سےنہیں قراقرم سے‘14 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||