ممبئی میں بھوتوں کا ڈیرہ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ کو بھوت پریت کی فلمیں پسند ہیں؟ ڈراؤنے ماحول میں آپ کو ڈر نہیں لگتا اگر آپ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں تو بہت جلد اس کا امتحان بھی ہو جائے گا کیونکہ اب ممبئی میں بھی مادام تساد اور سنگاپور کی طرز پر 'ہاؤس آف ہوررز' اسی اتوار تیرہ مئی سے شروع ہو رہا ہے۔ ستیش ریڈی اور ڈاکٹر تناز ایرانی ممبئی کے ولے پارلے علاقہ میں ایک ایسا ہی ہاؤس بنا چکے ہیں۔جہاں اندر داخل ہونے پر آپ کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسنی پھیل سکتی ہے کیونکہ اس میں داخل ہونے پر آپ کو اندر اندھیرا ملے گا۔ پندرہ سے بیس منٹ کے دوران آپ کو ڈراؤنی آوازیں سنائی دیں گی کوئی ہاتھ پیچھے سے آپ کوچھوئے گا۔ پرانی انسانی کھوپڑی، ڈراؤنا ماحول، لٹکتی چمگاڈریں، خون کے دھبے یعنی ہر پل سنسنی خیز اور ڈراؤنا ہو گا۔ریڈی کا دعویٰ ہے کہ اس سے ہر وہ انسان محظوظ ہو سکے گا جو ڈراؤنی اور سپنس فلمیں دیکھنا پسند کرتا ہے۔ہاؤس میں داخلہ کی فیس دو سو روپیہ رکھی گئی ہے۔ ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنگاپور اور مادام تساد میوزیم میں ’ہاؤنٹیڈ ہاؤس' بہت وسیع ہے لیکن یہاں ممبئی میں جگہ کی قلت کی وجہ سے اتنی بڑی جگہ کا ملنا مشکل تھا اس کے باوجود یہاں اس ہاؤس میں وہ تمام چیزیں ہوں گی جو آپ کی رگوں میں سنسنی دوڑانے کے لیے ضروری ہیں۔ریڈی کا کہنا ہے کہ وہ اس ہاؤس کو دلچسپ بنانے کے لیے آئے دن اس میں تبدیلی کرتے رہیں گے تاکہ لوگوں کا تجسس برقرار رہے۔ریڈی نے بتایا کہ انہوں نے پہلے تجربہ کے طور پر پونے میں یہ ہاؤس شروع کیا تھا۔ تجربہ کے طور پر کامیاب رہا اس لیے انہوں نے اسے ممبئی میں بنایا۔ ریڈی کے مطابق غیر ممالک میں یہ ایک منافع بخش انڈسٹری ہے اور ایک اندازے کے مطابق تیس بلین ڈالر کا بزنس ہے۔ریڈی کویقین ہے کہ یہ ممبئی میں بھی کامیاب ہو گی کیونکہ لوگوں کے لیے ایک انوکھا تجربہ ہو گا۔ ریڈی نے بتایا کہ اس ہاؤس میں صرف چار لوگوں کو بیک وقت چھوڑا جائے گا۔ ہاؤس میں ٹی وی کیمرے لگے ہوں گے تاکہ اگر کوئی خوف زدہ ہو جائے تو اس کی فوری مدد کی جائے۔ ڈاکٹر تناز ایرانی جو ریڈی کی پارٹنر ہیں بتایا کہ اس ہاؤس میں ان افراد کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی جو دل کے مریض ہیں یا جن کا خون کا پریشر بڑھا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے لوگوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ڈاکٹر ایرانی کے مطابق اس کے باوجود کوئی خوفزدہ ہو جاتا ہے تو اسے فوری ڈاکٹر کی امداد مہیا کی جائے گی۔ ممبئی میں کئی نجی چینلز آئے دن کسی نہ کسی بھوت پریت کی کہانی اور سپسن سے بھر پور سیرئیل ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں۔ رامسے برادر ڈراؤنی فلمیں بنانے کے لیے مشہور ہیں اور ان کی فلمیں مقبول بھی ہوئی ہیں۔ دیکھنا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ |
اسی بارے میں جینیفر لوپیز پہلی مرتبہ ممبئی میں 05 April, 2006 | فن فنکار ممبئی میں پاکستانی فلم کی شوٹنگ16 July, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||