BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 April, 2007, 18:18 GMT 23:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی میں بے گھر بچوں کی پناہ گاہ

راجو داس
راجو داس کی عمر بارہ برس ہے۔ اسے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ کلکتہ میں ہاؤڑا برج کے پاس رہتا تھا
خوابوں کا شہر ممبئی صرف سپنے دیکھنے والے نوجوانوں کو ہی نہیں معصوم بچوں کو بھی کھینچ لاتا ہے۔ کچھ بچے اپنے پسندیدہ فلمی ستاروں اور کرکٹروں کودیکھنے کی چاہت میں تو کچھ والدین کی مار پیٹ، سکول جانے سے بچنے یا پھر بری صحبت کے نتیجے میں روزانہ مختلف ٹرینوں سے ممبئی پہنچتے ہیں۔

سر پر چھت نہیں اور پیٹ خالی۔ عام طور ایسے بچوں کا پہلا پڑاؤ پلیٹ فارم ہی ہوتا ہے جہاں وہ پہلے سے موجود آوارہ گرد بچوں کے ساتھ پانی کے لیے استعمال کی جانے والی پلاسٹک کی بوتلیں اور بیچا جا سکنے والا کچرا چُنتے ہیں۔ کچھ ٹرینوں میں جھاڑو لگا کر لوگوں سے پیسہ مانگتے ہیں۔جس کے بدلے انہیں گالیاں بھی دی جاتی ہیں اور جھڑکا بھی ملتی ہیں۔

وہ پلیٹ فارم پر بنے سٹال یا شہر کے کسی ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں اور جو یہ سب نہیں کرتے وہ بھیک مانگتے ہیں اور پیٹ بھرنے کے بعد کسی سڑک کے کنارے یا پلیٹ فارم پر ہی سو جاتے ہیں۔

یہ بچے آسانی سے بری صحبت کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ان میں سے کئی انتہائی کم عمری سے مختلف قسم کے نشوں سولیوشن، چرس، شراب اور تمباکو نوشی کے عادی ہو جاتے ہیں۔

وکٹوریہ ٹرمنس (چھتر پتی شیواجی ٹرمنس) پر سینٹرل ریلوے نے گھر سے بھاگ کر آنے والے بچوں کے لیے’آمچی کھولی‘ یعنی میرا گھر کے نام سے ایک پناہ گاہ بنائی ہے۔

یہ پناہ گاہ یا گھر اٹھارہ برس قبل قائم کیا گیا تھا۔ یہاں ایسے بچوں کو دن میں رہنے، آرام کرنے، نہانے اور کپڑے دھونے کی سہولت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایسے بچے محض دو روپیہ دے کر کھانا کھا سکتے ہیں۔اس گھر میں ٹی وی، کیرم بورڈ اور دوسرےگیم بھی ہیں۔ یہاں کے منتظم پرویز انصاری اور پروینہ جوشی ہیں جو ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

گوپال اور سرتاج: گوپال کرشنا گجرات سے ممبئی آیا تھا اور سرتاج احمد کانپور سے

اس ’گھر‘ میں رہنے والے ہر بچے کی اپنی ایک داستان ہے۔ کلکتہ سے بھاگ کر آیا راجو داس، مالی گاؤں سے ممبئی آنے والا اسرائیل محمد شیخ، بھیونڈی سے انیل ڈونگرے، کانپور سے سرتاج احمد اور گجرات سے آئے گوپال کرشنا جیسے کئی بچے اس گھر میں رہتے ہیں ان میں سے اکثر کی زندگی صرف پیٹ بھرنے اور نشہ کر کے سو جانے کا نام ہے۔

راجو داس
راجو داس کی عمر بارہ برس ہے۔ اسے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ کلکتہ میں ہاؤڑا برج کے پاس رہتا تھا۔باپ پلمبر تھا روز شراب پی کر آتا تھا اور ماں کو مارتا تھا۔ماں کھانا نہیں پکاتی تھی اور وہ روتے ہوئے سو جاتا تھا۔ ایک دن اسے قریب رہنے والا ایک لڑکا اپنے ساتھ ٹرین میں ممبئی لایا۔ اس وقت اس کی عمر پانچ سال تھی۔اسی پلیٹ فارم پر بھیک مانگ کر پیٹ کی آگ بجھاتے ہوئے اس نے دوسرے لڑکوں کی طرح نشہ کرنا شروع کیا۔اب وہ نشہ کی لت پوری کرنے کے لیے پلاسٹک کی بوتلیں چنتا ہے اور اسے بیچ کر اپنا ’شوق‘ پورا کرتا ہے۔ حالات نے اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ وہ دوستوں کے ساتھ نشہ کرتا ہے۔ فلمیں دیکھتا ہے اور سنیما میں بھی اورگرانٹ روڈ نامی علاقے میں ویڈیو پر فلمیں بھی۔

اس کا کہنا ہے ’زندگی نے میرے ساتھ بہت دھوکا کیا۔جب میں پانچ سال کا ہی تھا تبھی میرے ساتھیوں نے مجھے کچھ پلا دیا۔ پہلی مرتبہ جب نشہ کیا تو تین دن تک کانوں میں ٹرین کی آواز گونجتی رہی۔ میں نے پیٹ بھرنے کے لیے بھیک مانگی۔ لوگوں نے گالیاں دیں اورجھڑکا، پھر میں نے سوچا کہ اس طرح پیٹ نہیں بھر سکتا اس لیے کچرا چننے لگا۔

اسرائیل محمد شیخ پاور لومز کے شہر مالیگاؤں سے فرار ہو کر ممبئی آیا۔اس وقت اس کی عمر سات سال تھی

اب ہم تین دوست ہیں جو پلاسٹک کا سامان چن کر اسے پندرہ روپے کلو کے حساب سے فروخت کر دیتے ہیں اور اس طرح کبھی دو سو تو کبھی ڈھائی سو روپے مل جاتے ہیں جو آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔دن میں یہاں کھولی میں آکر نیند پوری کرتے ہیں کیونکہ رات میں تو پلیٹ فارم پر اکثر ریلوے گارڈز گالیاں دے کر بھگا دیتے ہیں۔میں نے رکشہ چلانے کا کام سیکھنے کی کوشش کی لیکن جسے پیسے دیے اس نے کھا لیے اور پولیس نے بھی مجھی پر چوری کا الزام لگا دیا۔ میں نے ایک بات سیکھی ہے کہ صحیح طریقہ سے یہ دنیا جینے نہیں دے گی اس لیے اپنی یہی زندگی صحیح ہے۔

اسرائیل محمد
اسرائیل محمد شیخ پاور لومز کے شہر مالیگاؤں سے فرار ہو کر ممبئی آیا۔اس وقت اس کی عمر سات سال تھی۔ شیخ کے والدین زندہ ہیں۔ باپ رکشہ چلاتا تھا اور ماں پاور لومز والے ایک کارخانے میں کام کرتی تھی۔ اسرائیل کو پڑھنے کا شوق نہیں تھا۔ اسے فلمیں دیکھنا پسند تھیں اور وہاں اس کے یہ شوق پورے نہیں ہوتے تھے اسی چکر وہ بس اور ٹرین کے ذریعہ ممبئی آ گیا۔

اب وہ ٹرین میں جھاڑو مارتا ہے۔ اسنے مانگنے کا ایک نیا ڈھنگ نکالا ہے۔ وہ سب کے سامنے وہ اپنی ٹی شرٹ اتارتاہے اور ٹرین کے ڈبے میں جھاڑو کے طور استعمال کرنے لگتا ہے۔ وہ ٹرین سے بھساول یا بنارس تک چلا جاتا ہے۔ کوئی کھانے کے لیے دے دیتا ہے تو کوئی نقد۔ شیخ بھی نشے کا عادی ہو چکا ہے۔ تنظیم نے اس کے گھر کا پتہ حاصل کر کے گھر بھیجا لیکن دو ہی دن بعد وہ پھر بھاگ کر واپس آگیا۔ اسے وہاں جا کر یہاں کی آزادی نہیں ملی۔

اس کا کہنا ہے ’ماں پڑھائی کے لیے مارتی تھی اور مجھے پڑھنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس لیے کچھ دوستوں کے ساتھ بھاگ آیا۔ یہاں پلیٹ فارم پر رہتا ہوں۔ممبئی سے باہر جانے والی ٹرنیوں میں جھاڑو مارتا ہوں اور پیسہ کماتا ہوں۔ان پیسوں سے کھانا کھاتا ہوں اور نشہ بھی کرتا ہوں۔مجھے فلمیں بہت پسند ہیں۔ میں سلمان خان کے بھائی سہیل خان کی طرح بننا چاہتا ہوں۔ مجھے اس کی فلمیں اچھی لگتی ہیں ابھی میں نے اس کی نئی فلم ’میں نے دل تجھ کو دیا‘ دیکھی ہے۔آپ مجھے سہیل خان سے ملا سکتے ہو؟‘۔

اس گھر میں ٹی وی، کیرم بورڈ اور دوسرےگیم بھی ہیں

گوپال کرشنا
گوپال کرشنا گجرات سے ممبئی آیا تھا۔ تب اس کی عمر دس برس تھی۔اس کے ماں باپ نہیں ہیں۔ اپنے بھائی کے پاس رہتا تھا۔ اس دوران وہ غلط صحبت میں پڑ گیا اور اور ایک روز اس کے ایک دوست نے اسے خوب شراب پلائی اور اسی نشے میں وہ سب ٹرین میں بیٹھ کر ممبئی چلے آئے۔ یہاں آنے کے بعد یہاں کا ماحول گوپال کو بہت اچھا لگا۔ اب گوپال وی ٹی پر ایک ہوٹل میں کام کرتے ہیں، وہیں کھانا کھاتے ہیں اور کھولی میں آکر رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ممبئی آنے کے بعد جانے کا من نہیں کرتا اس لیے واپس گھر نہیں گیا۔اب ہوٹل میں کام کرتا ہوں۔رات میں اکثر واڑی کام یعنی شادی بیاہ میں کیٹرنگ سروس کا کام کرتا ہوں۔ میں اپنا پیسہ کھولی کے منتظمین انصاری صاحب اور پروینہ میڈم کو دے دیتا ہوں جسے وہ بینک میں جمع کر دیتے ہیں۔ پہلے پلیٹ فارم کے سٹال کے مالک کے پاس پندرہ ہزار روپیہ جمع کرایا تھا وہ پیسہ لے کر بھاگ گیا۔ان پیسوں سے ایک دن میں اپنا ہوٹل کھولوں گا‘۔

سرتاج احمد
سرتاج احمد بچپن کے اس نازک دور سے نکل آئے ہیں اب ان کی عمر بیس سال ہے لیکن سات سال کی عمر میں بڑے بھیا کے ہاتھوں پٹائی کے بعد سرتاج غصہ میں ممبئی بھاگ آئے۔ ان کی کہانی بھی سڑک اور پلیٹ فارم پر رہنے والے ان سیکڑوں بچوں ایسی ہی ہے۔ چھوٹا موٹا کام کرنا، شراب اور دیگر نشہ آور ادویات کا استعمال ان کی عادت بن چکا تھا لیکن آج سرتاج بیس سال کے ہیں اور اب سمجھ دار ہو چکے ہیں۔ اسی لیے تنظیم نے انہیں اپنا حصہ بنا لیا ہے اور وہ اب ٹرین سے آنے والے بچوں کو کھولی تک لاتے ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ یہ بچے غلط راستے پر نہ نکل جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے والد کانپور میں سکول کا رکشہ چلاتے تھے۔ بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی۔ وہ مجھے ہر وقت مارتے تھے جس سے میں گھر چھوڑ کر چلا آیا۔یہاں پلیٹ فارم پر رہتا تھا۔ اکثر پولیس ہمیں گرفتار کر کے لے جاتی تھی اور بلا قصور بند کر دیتی تھی۔پولیس جب اصل مجرم کو پکڑ نہیں پاتی ہے تو اکثر ہم جیسے فٹ پاتھ پر رہنے والوں کو پکڑ کر دنیا کو بتاتی ہے کہ انہوں نے ملزم کو پکڑ لیا ہے۔ ایک بار مجھے اسی طرح چلڈرنس ہوم بھیجنے کی تیاری تھی کہ اس آمچی کھولی سے دیدی کیرل وہاں آئی میں نے انہیں رو رو کر بتایا کہ میں بے قصور ہوں۔انہوں نے مجھے پولیس کے چنگل سے نکالا اور تب سے میں آمچی کھولی میں رہتا ہوں۔

 پناہ گاہ یا گھر
یہ پناہ گاہ یا گھر اٹھارہ برس قبل قائم کیا گیا تھا۔ یہاں ایسے بچوں کو دن میں رہنے، آرام کرنے، نہانے اور کپڑے دھونے کی سہولت دی جاتی ہے

میں نے زندہ رہنے کے لیے بہت سے کام کیے۔ کبھی حمالی کی تو کبھی کھانے کے سٹال پر برتن دھوئے۔ کبھی شادی بیاہ میں کیٹرنگ گروپ کے ساتھ جاتا ہوں۔اس دوران میں نشے کا عادی ہو گیا۔ میں نے ہر قسم کا نشہ کیا۔ شراب سے لے کر ہیروئین تک لیکن جب میں نے نشہ کی لت سے اپنے دوست کی موت دیکھی تو میں نے نشہ چھوڑ دیا۔زندگی نے چاہے کوئی خوشی نہ دی ہو لیکن تجربہ بہت دیا اسی لیے میں بھاگ کر آئے لڑکوں کو سدھارنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بچہ بچے پھینکنے کے لیئے
بیس روپے کی رقم میں
غذائیت کی کمی کا شکار بچہممبئی کے کمزور بچے
ممبئی کے بچے غذا کی کمی یا امراض کا شکار
ہندوستانی لڑکیدلی ڈائری
ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور دلّی وہِیل
کوبراسانپ سے وعدہ
سانپ پٹاری میں مرے تو حقہ پانی بند
برانچی داسمیراتھن میں بچہ
بچے کے کوچ کی انکوائری شروع
جسم فروشوں کے بچے
کلکتہ میں ہوسٹل کے رہائشی ان پھولوں کا درد
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد