BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسین کی جائیداد: ضبطی کے نوٹس

مصور ایم ایف حسین کے خلاف احتجاج
انڈیا شدت پسند ہندوں نے پینٹنگ اور مصور ایم ایف حسین کے خلاف احتجاج
پولیس نے ہندوستان کے مایۂ ناز مصور ایم ایف حسین کی جائیداد کی ضبطی کا نوٹس ممبئی میں ان کی رہائش گاہ پر چسپاں کیا گیا ہے۔ ڈپٹی پولیس کمشنر برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس نے یہ اقدام اترپردیش کی ایک عدالت کے حکم پر کیا ہے۔


ایم ایف حسین اس وقت ملک سے باہر ہیں اور ممبئی کے پوش علاقے میں واقع جولی میکرز نامی عمارت میں ان کا فلیٹ ہے جس میں ان کے بیٹے شفاعت حسین رہتے ہیں۔ ڈی سی پی سنگھ کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس کلکٹر کے ذریعے حسین کی دیگر جائیداد کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اکیانوے سالہ حسین اس وقت لندن میں ہیں اور وہ وہاں سے اکثر دبئی جاتے رہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حسین کی طبیعت ناساز ہے اور وہ علاج کے لیے لندن میں مقیم اپنے بیٹے کے پاس رہتے ہیں۔

مارچ سن دو ہزار چھ میں اترپردیش کے شہر ہردوار کے ایک وکیل اروند شری واستو نے حسین کی ایک پینٹنگ پر اعتراض کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ پینٹنگ میں ہندو دیوی کو برہنہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ حسین کی اسی پینٹنگ کے خلاف کئی علاقوں میں ہندو شدت پسند تنظیموں نے مظاہرے بھی کیے اور ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں پانچ مقدمات ہیں جن میں ہریدوار کے اس کیس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں دو، مہاراشٹر کی عدالت میں ایک اور ایک مقدمہ دہلی کی عدالت میں ہے۔

جائیداد کی ضبطی آخری حربہ
 سابق آئی پی ایس افسر اور وکیل وائی پی سنگھ کا کہنا تھا کہ جائیداد کی ضبطی کسی بھی کیس کا آخری حربہ ہے

مسٹر حسین نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ وہ چونکہ ضعیف ہو چکے ہیں اور ملک کی ہر عدالت میں نہیں جا سکتے اس لیے ان کے تمام معاملات کو ایک ساتھ کر دیا جائے۔ عدالت نے ان کی اس اپیل کو منظور کر لیا تھا اور انہیں عدالت میں حاضری سے بھی مشتثنی قرار دیا تھا۔

ہریدوار کی عدالت کے سپیشل جوڈیشیل مجسٹریٹ کے ایس شکلا نے ممبئی کے پولیس کمشنر کو بھی اس کیس کے سلسلہ میں تیرہ اپریل کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے پولیس کمشنر کی غیر حاضری پر بھی جواب طلب کیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت تیرہ مئی کو ہو گی۔

قانونی ماہرین نے عدالت کی کارروائی پر تعجب کا اظہار کیا۔ سابق آئی پی ایس افسر اور وکیل وائی پی سنگھ کا کہنا تھا کہ جائیداد کی ضبطی کسی بھی کیس کا آخری حربہ ہے۔ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے بعد ملزم اگر عدالت میں

اتر پردیش کا قانون الگ ہے
 اتر پردیش کا قانون الگ ہے وہاں اگر ملزم عدالت میں حاضر نہیں ہوتا ہے تو اسے مفرور قرار دے کر اس کی جائیداد کی نیلامی ہو جاتی ہے
حاضر نہ ہو اور اوراگر پولیس ملزم کو تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عدالت جائیداد کی ضبطی کا حکم دے سکتی ہے لیکن حیسن کا کیس الگ ہے۔ وہ ایک نامور ہستی ہیں اور پولیس کو یہ پتہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں لیکن ایڈوکیٹ شکیب خان کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کا قانون الگ ہے وہاں اگر ملزم عدالت میں حاضر نہیں ہوتا ہے تو اسے مفرور قرار دے کر اس کی جائیداد کی نیلامی ہو جاتی ہے۔

شکیب کا کہنا تھا کہ اتر پردیش میں پیشگی ضمانت کا بھی قانون نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد