حسین کی جائیداد: ضبطی کے نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے ہندوستان کے مایۂ ناز مصور ایم ایف حسین کی جائیداد کی ضبطی کا نوٹس ممبئی میں ان کی رہائش گاہ پر چسپاں کیا گیا ہے۔ ڈپٹی پولیس کمشنر برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس نے یہ اقدام اترپردیش کی ایک عدالت کے حکم پر کیا ہے۔ ایم ایف حسین اس وقت ملک سے باہر ہیں اور ممبئی کے پوش علاقے میں واقع جولی میکرز نامی عمارت میں ان کا فلیٹ ہے جس میں ان کے بیٹے شفاعت حسین رہتے ہیں۔ ڈی سی پی سنگھ کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس کلکٹر کے ذریعے حسین کی دیگر جائیداد کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اکیانوے سالہ حسین اس وقت لندن میں ہیں اور وہ وہاں سے اکثر دبئی جاتے رہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حسین کی طبیعت ناساز ہے اور وہ علاج کے لیے لندن میں مقیم اپنے بیٹے کے پاس رہتے ہیں۔ مارچ سن دو ہزار چھ میں اترپردیش کے شہر ہردوار کے ایک وکیل اروند شری واستو نے حسین کی ایک پینٹنگ پر اعتراض کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ پینٹنگ میں ہندو دیوی کو برہنہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ حسین کی اسی پینٹنگ کے خلاف کئی علاقوں میں ہندو شدت پسند تنظیموں نے مظاہرے بھی کیے اور ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں پانچ مقدمات ہیں جن میں ہریدوار کے اس کیس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں دو، مہاراشٹر کی عدالت میں ایک اور ایک مقدمہ دہلی کی عدالت میں ہے۔
مسٹر حسین نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ وہ چونکہ ضعیف ہو چکے ہیں اور ملک کی ہر عدالت میں نہیں جا سکتے اس لیے ان کے تمام معاملات کو ایک ساتھ کر دیا جائے۔ عدالت نے ان کی اس اپیل کو منظور کر لیا تھا اور انہیں عدالت میں حاضری سے بھی مشتثنی قرار دیا تھا۔ ہریدوار کی عدالت کے سپیشل جوڈیشیل مجسٹریٹ کے ایس شکلا نے ممبئی کے پولیس کمشنر کو بھی اس کیس کے سلسلہ میں تیرہ اپریل کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے پولیس کمشنر کی غیر حاضری پر بھی جواب طلب کیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت تیرہ مئی کو ہو گی۔ قانونی ماہرین نے عدالت کی کارروائی پر تعجب کا اظہار کیا۔ سابق آئی پی ایس افسر اور وکیل وائی پی سنگھ کا کہنا تھا کہ جائیداد کی ضبطی کسی بھی کیس کا آخری حربہ ہے۔ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے بعد ملزم اگر عدالت میں
شکیب کا کہنا تھا کہ اتر پردیش میں پیشگی ضمانت کا بھی قانون نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ایم ایف حسین کےمقدمےدلی منتقل04 December, 2006 | انڈیا مقدمہ کی سماعت روک دیں: عدالت10 April, 2006 | انڈیا ایف ایم حسین نے معافی مانگ لی08 February, 2006 | انڈیا ایم ایف حسین کی ایک ارب کی ڈیِل10 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||