BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 February, 2006, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف ایم حسین نے معافی مانگ لی
مقبول فدا حسین
مصور ایم ایف حسین نے اپنی متنازعہ تصویر پر معافی مانگی ہے
بھارت کے مشہور مصور مقبول فدا حسین نے اپنی متنازعہ پینٹگ ’عریاں بھارت‘ پر معافی مانگ لی ہے۔

اس تصویر میں انہوں نے بھارت کو ایک’ برہنہ دیوی‘ کے روپ میں پیش
کیا تھا۔

مقبول فدا حسین نے کہا ہے کہ وہ اس متنازعہ تصویر کو چیریٹی میں نیلامی کے لیے بھی نہیں رکھیں گے۔

انہوں نے مذکورہ تصویر ایک چیریٹی کو بطور عطیہ کردی تھی اور اس تصویر
کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم جنوب مشرقی ایشیا میں زلزلے سے متاثرہ افراد کو دی جانی تھی۔

اس سے قبل ہندو نظریاتی تنظیم وی ایچ پی یعنی وشو ہندو پریشد نے مشہور مصور مقبول فدا حسین کی ایک پینٹگ پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کے نام پر یہ ہندوؤں کے جذبات کے ساتھ مذاق ہے۔

وی ایچ پی کا کہنا تھا کہ مصور مقبول فداحسین نے انڈیا ایز اے نیوڈ یعنی ’عریاں بھارت‘ کی جو تصویر پیش کی ہے اس سے ان کے ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔

دلی میں وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری پروین توگڑیا نے کہا کہ اس تصویر سے ملک کی خواتین کی بے حرمتی ہوئی ہے۔

انہوں نے ایف حسین کو چیلنج کیا کہ ’اگر ان میں ہمت ہے تو عریاں نہیں بلکہ کپڑوں میں پیغمبر اسلام کی ایک تصویر بنا کر دکھائیں تو ہم سمجھیں کہ ان میں آزادی اظہار کا کس قدر جذبہ ہے‘۔

مسٹر توگڑیا کا کہنا تھا کہ ایم ایف حسین کی پینٹگز سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے منموہن سنگھ حکومت پر بھی سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ وفاقی حکومت نے اقلیتی وزارت قائم کرے کے بھارت کو پاکستان بنانے کا کام کیا ہے۔

توگڑیا نے کہا ’غزنوی نے تلوار سے ہمارے مندر گرائے تھے تو وہ ہندوؤں کے خلاف تلوار سے جہاد کرتا تھا اور حسین اپنے برش کے ساتھ ہندوؤں کے خلاف جہاد کررہے ہیں‘۔

تاہم ایران کے خلاف ووٹ دینے پر پروین توگڑیا نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو مبارک باد دی اور کہا کہ حکومت نےجوہری امور پرایران کا ساتھ نا دیکر قابل تعریف کام کیا ہے۔

مسٹر حسین نےاس قبل بھی بعض ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصاویر بنائی تھیں جس کے سبب ان کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ انکی مذکورہ پینٹنگ ایک عریاں عورت کی تصویر ہے جسکے بدن کے مختلف حصوں پر ہندوستان کے مختلف ریاستوں کے خاکے بنے ہوئے ہیں۔

مسٹر توگڑیا نے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں دیے ہیں جب ملک کے کئی علاقوں میں پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کے خلاف مسلمان احتجاج کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
دِلّی میں اردو کا جشن
20 November, 2005 | انڈیا
بولی ووڈ: نجی زندگیوں پر فلمیں
21 September, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد