ایم ایف حسین کی ایک ارب کی ڈیِل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا سے تعلق رکھنے والے دنیا کے مشہور پینٹر مقبول فدا حسین نے ایک ارب روپے کے عوض ایک سو پینٹنگز بنانے کا ایک معاہدہ طے کیا ہے جسے انڈیا کی تاریخ میں آرٹ کا سب سے بڑا معاہدہ کہا جا رہا ہے۔ یہ معاہد ہ معروف مصور ایم ایف حسین اور ممبئی کے ایک ایکسپورٹر گرو سوروپ شریواستو کے درمیان ہوا ہے۔اور اس کے تحت حسین آئندہ ایک برس میں سو پینٹگس مسٹر سوروپ کے لیۓ بنائیں گے ۔ یہ سبھی پینٹنگس ’ہمارا سیارہ زمین‘ کے مرکزی خیال سے ماخوذ ہونگی اور یہ سب چار بائی چھ فٹ کی ہونگي۔ مسٹر سوروپ کا کہنا ہے کہ سو کروڑ روپے کی سرمایا کاری مصوری کے فن پاروں میں کرنے کا خیال انہیں اس وقت آیا جب انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ انتہائی فائدے مند اور محفوظ سرمایا کاری ہے۔ ممبئی کے صنعت کار مسٹر سوروپ کا کہنا ہے وہ مسٹر حسین کو پہلے ہی ایک کروڑ روپے دے چکے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے اور وہ اس سے پہلے بھی حسین کی 25 تخلیقات خرید چکے ہیں۔ ایم ایف حسین کا کہنا ہے وہ اس رقم سے ایک بڑی فلم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جس میں ممبئی کے سبھی بڑے اداکار کام کریں گے۔ وہ اس سے پہلے بھی فلمیں بنا چکے ہیں لیکن کامیاب ثابت نہیں ہوئی ہیں وہ اس وقت مشہور بین الاقوامی کمپنی پیئیر کارزیں کے لیۓ کاما سوترا کی تھیم پر کچھ تصویریں بنا رہے ہیں۔ حسین کا شمار اعلیء ترین عصری مصوروں میں ہوتا ہے انکی ابسٹریکٹ اور جدید طرز کی مصوری گھوڑے کی شبیہ نمایاں ہے۔وہ اکّثر اپنی تصویروں میں ہندوستان کے اساطیری کرداروں کو استعمال کرتے ہیں اور ایسی ہی انکی بعض تصویریں تنازعہ کا سبب بھی بن چکی ہیں۔ تجارتی اعتبار سے وہ ہندوستان کے سب سے کامیاب مصور ہیں۔ نوے برس کے حسین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کا صرف ایک فیصد حصہ ہی استعمال کر سکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مصوری میں اتنا کچھ کرنے کے لیے ہے کہ ایک ہزار سال کی عمر بھی کم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||