مقدمہ کی سماعت روک دیں: عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین سپریم کورٹ نےگجرات کے شہر راج کوٹ کی ایک عدالت میں معروف مصوّر مقبول فدا حسین کے خلاف زیرِ سماعت مقدمے کی کارروائی پر آئندہ حکم تک پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے مدھیہ پردیش کی اندور کی ایک عدالت کی طرف سے جاری کردہ ایم ایف حسین کے قابلِ ضمانت وارنٹ کے نفاد پر بھی پابندی لگائی ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ایم ایف حسین کے وکیل عدالت میں ان کی نمائندگی کر سکتے ہیں اور وہاں حسین کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔ راج کوٹ اور اندور میں فدا حسین کے خلاف ان کی بعض تخلیقات کی بنیاد پر مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات کے مدعیوں کا کہنا ہے کہ ایم ایف حسین نے اپنی بعض حالیہ تصاویر میں ہندو دیویوں اور دیوتاؤں کو برہنہ دکھا کر ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
ایم ایف حسین نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ان کے خلاف درج ان مقدمات کی سماعت کو دلیّ منتقل کر دیا جائے کیونکہ بقول ان کے ان دونوں مقامات پر ماحول خطرناک ہے۔ ایم ایف حسین کی تصاویر کے خلاف بعض ہندو تنظیموں کی طرف سےگزشتہ مہینے احتجاج میں اس وقت شدّت آ گئی تھی جب پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف انڈیا میں بھی مسلمانوں کی بعض مذہبی تنظمیں مظاہرے کر رہی تھیں۔ مقبول فدا حسین نے ماحول کی حساسیت دیکھ کر اپنی تصاویر کے لیئے معافی مانگ لی تھی لیکن بعض ہندو تنظیموں نے انہیں قتل کرنے اور ان کے ہاتھ کاٹنے پر انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ | اسی بارے میں ایف ایم حسین نے معافی مانگ لی08 February, 2006 | انڈیا بولی ووڈ: نجی زندگیوں پر فلمیں21 September, 2005 | فن فنکار ایم ایف حسین کی ایک ارب کی ڈیِل10 September, 2004 | انڈیا حسین کے کینوس سے ایک نئی فلم19 April, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||