ایم ایف حسین کےمقدمےدلی منتقل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نےحکم دیا ہے کہ ملک کے مشہورمصور مقبول فدا حسین کے خلاف تمام مقدمات دلی منتقل کے جائیں۔ مسٹر حسین پر ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کر نے کے کئی مقدمات درج ہیں۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایم ایف حسین کی درخواست منظور کر تے ہوۓ یہ حکم دیا ہے کہ ان کے خلاف اندور، بھوپال ، راجکوٹ ، اور پندھار پور کی مقامی عدالت میں دائر کیۓ گئے سبھی مقدمات دلی کی ایک مقای عدالت میں منتقل کر دیۓ جائیں۔ مصور فدا حسین نے عدالت سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ 91 برس کے ہو چکے ہیں اور بڑھاپے کے سبب وہ مختلف عدالتوں میں مقدمات لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان مقدمات سے تنگ اکر ایم ایف حسین برطانیہ چلے گئے تھے اور کئی مہینوں سے وہیں قیام پزیر ہیں۔گزشتہ دنوں انہوں نےایک انٹر ویو میں وطن واپسی کی خواہش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ان مقدمات سے پریشان ہو گئے ہیں۔ ایم ایف حسین ملک کے اولین مصّورں میں شمار کیۓ جاتے ہیں۔ ان کی اکثر پینٹنگز میں ہندو دیوی دیوتاؤں اور اساطیری کردار وں کی عکاسی کی گی ہے۔ بعض ہندو دیوی دیوتاؤں کی بر ہنہ تصویروں پر کئی حلقوں کی جانب سے اعتراض ہوا تھا اور پیغمبر اسلام کے خاکے کے تنازعے کے بعد ہندوستان میں حسین کے خلاف بھی اعتراضات میں شدت آگئی تھی۔ بی جے پی کے اقتدار والی بعض ریاستوں میں ان کے خلاف ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مقدمات درج کرائے گئے تھے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں بنیادوں پر ایم ایف حسین کے سوانحی خاکے کو نصابی کتابوں سے نکال دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ حسین اس ملک کے سب سے بڑے مصور ہیں اور ملک کے بچوں کو ایک بہترین مصور کے بارے میں جانے کا حق حاصل ہے ۔ | اسی بارے میں مقدمہ کی سماعت روک دیں: عدالت10 April, 2006 | انڈیا ایف ایم حسین نے معافی مانگ لی08 February, 2006 | انڈیا ایم ایف حسین کی ایک ارب کی ڈیِل10 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||