امریکی ڈالر کی موت؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم معاشی افراتفری کے عالم میں رہ رہے ہیں۔ بینک، مکانات، نوکریاں اور دکانوں کے بند ہوجانے کا خدشہ ہے۔ لیکن ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ امریکی ڈالر مستحکم ہے۔ ڈالر امریکی طاقت اور لیڈرشِپ کی صرف علامت ہی نہیں بلکہ اس کا محور بھی ہے۔ دنیا میں بیشتر معاشی سرگرمیوں کے لیے ڈالر ہی اسٹینڈرڈ کرنسی ہے۔ اور مشکل حالات میں ڈالر کو ہمیشہ محفوظ زرمبادلہ سمجھا گیا ہے۔ لیکن اب کچھ ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران ڈالر کی قسمت کے لیے شاید فیصلہ کن ثابت ہو اور ڈالر کی عظمت بڑی جلدی سے ختم ہونا شروع ہوجائے۔ ڈالر کی قیمت گزشتہ چند برسوں سے گرتی رہی ہے۔ اٹیلیجنس کیپیٹل لیمیٹڈ کے چیئرمین اویناش پرساد کہتے ہیں: ’میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ مالی بحران سے ڈالر کی زرمبادلہ کی حیثیت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ پہلی بار ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس امریکی گارنٹی (یعنی ڈالر) کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ کو پیسے لگانے پڑ رہے ہیں۔‘ لیکن کرنسی ریزرو یعنی عالمی سطح زر مبادلہ کی ڈالر کی حیثیت کے خاتمے سے امریکہ کا کافی نقصان ہوگا۔ ڈالر کی کرنسی ریزور کی حیثیت کیا ہے؟ چونکہ ساری دنیا ڈالر کا مطالبہ کرتی ہے اس لیے امریکہ کو صرف ڈالر چھاپنے ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال کچھ یوں سمجھیئے کہ امریکی حکومت کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں کہ کہا جائے کہ وہ اپنے ذرائع آمدنی سے زیادہ صرف کر رہی ہے، کیونکہ وہ ایسا کرسکتی ہے۔ ڈالر کی اس حیثیت سے امریکہ کو اتنی برتری حاصل ہوجاتی ہے کہ دنیا کی دیگر حکومتیں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی ہیں۔ تاریخی طور پر امریکہ کے حریف ممالک نے ڈالر کی وجہ سے حاصل ہونے والی امریکی برتری پر ہمیشہ ہی تنقید کی ہے۔ انیس سو ستر کے عشرے میں امریکی وزیر خزانہ جان کونلی نے بیرونی دنیا کو یہاں تک کہہ دیا کہ ’ڈالر ہماری کرنسی ہے، لیکن آپ کا مسئلہ‘ ہے۔ تب سے یورپ نے اپنی کرنسی بنائی ہے جسے یورو کہا جاتا ہے۔ یورو اب عالمی سطح پر مقبول ہونے لگا ہے۔ جیسے جیسے یورو مضبوط ہوتا گیا اس نے ڈالر کی پرکشش شہرت کو چیلنج کیا۔ نیو یارک میں سُپر ماڈلز نے ڈالر کے بجائے یورو میں اپنی ملازمت کے کنٹرکٹ کے مطالبے شروع کردیے۔ تاہم یورپی ممالک یورو کو دنیا کی ریزرو کرنسی کی حیثیت دلانے میں دلچسپی سے بہت دور ہیں۔ ڈیوِڈ مارش جنہوں نے حال ہی میں یورو کی پیدائش اور ترقی سے متعلق ایک کتاب تحریر کی ہے، کہتے ہیں: ’امریکہ کے مقابلے میں یورپ کے عزائم کا حجم بہت کم ہے۔‘ ڈیوِڈ مارش سمجھتے ہیں کہ یورو کا استعمال بغیر کسی عزائم کے شروع ہوا ہے۔
لیکن اویناش پرساد کہتے ہی کہ چین کے بارے میں یہ جو باتیں کہی جارہی ہیں وہ ایک صدی قبل امریکہ کے بارے میں بھی کہی جاتی تھیں۔ سن انیس سو تیرہ تک امریکہ میں ایک مرکزی بینک نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود چند عشروں کے دوران ہی ڈالر دنیا پر راج کرنے لگا۔ اب ڈالر کو اگر کچھ نقصان پہنچتا ہے تو چین کے پاس اچھے مواقع ہوں گے۔ کیونکہ چین نے ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ اکٹھا کر رکھا ہے۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کیوں کہ چین نے حالیہ برسوں میں کافی برآمدات کی ہے۔ اس سے چین کا فائدہ ڈالر میں سرمایہ کاری میں ہے لیکن ساتھ ہی اس سے چین کو یہ طاقت بھی مل جاتی ہے کہ وہ ڈالر کی حیثیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ ایسا چاہے۔ اسے ایک سابق امریکی وزیر خزانہ نے بیلنس آف فنانشیئل ٹیرر یعنی مالی دہشت گردی کا توازن قرار دیا ہے۔ سیاسیات کے ماہر بیری آئیچرگرین کہتے ہیں کہ اتنا خطرناک اقدام ہوگا جیسے دو حریفوں نے ایک دوسرے کے خلاف ایٹم بم کا استعمال کردیا ہو۔ لہذا کہا جا رہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نئی اقتصادی امریکی سفارتکاری جنم لے، بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ۔ خلیجی ممالک چین کی طرح ڈالر تو نہیں اکٹھا کرتے لیکن تیل کی قیمت ’پیٹرو ڈالرز‘ میں طے کرتے ہیں۔ امریکی حکومت پھنس گئی ہے۔ وہ ممالک جن کے زرمبادلہ کے ذخائر ڈالر میں ہیں وہ مضبوط امریکی ڈالر کے حق میں ہیں جوکہ امریکی برآمد کنندگان کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس سے امریکہ سے باہر فروخت ہونے کے لیے کار یا کمپیوٹر کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران خاموشی سے ڈالر کی قیمت کو نیچے گرنے دیا گیا ہے۔ کیونکہ کمزور ڈالر کی وجہ سے امریکی برآمدات کو فائدہ ہوا ہے۔ گولڈمین ساکس کے جِم اونیئل کہتے ہیں: ’ہم ایک ایسے پریشان کن اور دھندلے حالات میں داخل ہورہے ہیں جہاں کوئی واحد ملک دنیا کی قیادت نہیں کرسکتا جیسا کہ امریکہ نے کیا ہے۔ اور کوئی واحد کرنسی بھی یہ کردار ادا نہیں کرسکتی۔‘ لہذا چار نومبر کے انتخابات کے بعد نئے امریکی صدر کے لیے ایک انتہائی مشکل کام سامنے ہے۔ اگر ڈالر کو زرمبادلہ کے طور رکھنے والے ممالک امریکی معیشت میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے پسند نہیں کرتے تو وہ ڈالر کا متوازن تلاش کریں گے۔ اور سب کو یہ معلوم ہے کہ آئند برسوں میں ڈالر کی طاقت میں کمی ہی آئے گی، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر اقتصادی طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے۔ لہذا، ڈالر اب ان کی کرنسی نہیں، نہ اور ہم سب کا مسئلہ۔ ڈالر اب دنیا کی کرنسی ہے اور بیشتر طور پر امریکہ کا مسئلہ۔ |
اسی بارے میں مالیاتی بحران:’دنیا ہماری پیروی کرے‘22 September, 2008 | آس پاس امریکہ: 700ارب کا بیل آؤٹ بل منظور03 October, 2008 | آس پاس معاشی بحران،یورپی رہنماؤں کا اجلاس04 October, 2008 | آس پاس اہم یورپی بینک دیوالیہ کے قریب05 October, 2008 | آس پاس ہائپو کو بچانے کے لیے پیکج تیار06 October, 2008 | آس پاس معاشی مشکلات کا سامنا رہےگا:بش04 October, 2008 | آس پاس برطانیہ: بینکوں کے لیے امدادی پیکج08 October, 2008 | آس پاس دنیا کے حصص بازاروں میں کہرام24 October, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||