BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 February, 2009, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی امریکی افغان پالیسی، طالبان کی نئی حکمت عملی

حال ہی میں طالبان نے پشاور میں سینکڑوں نیٹو ٹرکوں کو جلادیا تھا

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دو بڑے دشمن امریکہ اور القاعدہ اور اسکے اتحادی طالبان افغانستان میں ایک نئی جنگ کی حکمت عملیاں ترتیب دینے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے آغاز اپنی سابقہ غلطیوں کو درست کرنے یا انہیں پھر سے نہ دہرانے سے کردیا ہے۔

اکتوبر سنہ دو ہزار ایک میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب امریکہ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کے الزام کے تحت عراق پر چڑھائی کا فیصلہ کیا تو اس وقت بش انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ وہ افغانستان میں جنگ کو ادھورا چھوڑ کر عراق میں ایک نیا محاذ کھولنے کی غلطی نہ کرے۔

دلیل یہ دی گئی تھی کہ اس طرح امریکہ کی تمام تر توجہ عراق پر مرکوز ہو جائےگی اور افغانستان میں القاعدہ کو کمزور کرنے کے حوالے سے مقررہ اہداف حاصل نہیں کیے جاسکیں گے لیکن اس وقت بش انتظامیہ نے اس دلیل کو رد کردیا تھا لیکن آج چھ سال بعد امریکہ کے نومنتخب صدر باراک اوبامہ کے عراق سے توجہ سے ہٹا کر افغانستان پرمرکوز کرنے کا فیصلہ بظاہر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بش انتظامیہ کو خبرادر کرنے والوں کے خدشات درست تھے۔

جنرل کیانی کا دورۂ امریکہ
 پاکستان نئی امریکی پالیسی کے حوالے سے سخت مشکلات میں گھیرا ہوا نظر آرہا ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پر ویز کیانی سات روزہ سرکاری دورے پر امریکہ جا رہے ہیں جہاں وہ نہ صرف امریکی فوجی حکام سے بات چیت کریں گے بلکہ حکومتی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان کے اس دورے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اوبامہ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کے حوالے سے پاکستان کا نیا کردار بھی شاید متعین ہو سکے۔
اب امریکہ نے افغانستان میں ایک نئی جامع پالیسی اپنانے پر کام شروع کر دیا ہے جس کے لیے تیس ہزار مزید فوجی بھیجنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان ( جو دراصل قبائلی علاقوں کے لیے ہیں) کے لیے خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک کی تقرری اور ان کا افغانستان، پاکستان اور بھارت کے دورے سے نئی پالیسی کے حوالے سے امریکہ کی سنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔گویا اوبامہ انتظامیہ بش انتظامیہ سے سرزد ہونے والی غلطی کو درست کرنے میں جُٹ گئی ہے۔

اب آتے ہیں افغانستان میں طالبان کی اس غلطی کی جانب جو ان سے اس وقت سزد ہوئی جب وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان تھے جس سے امریکہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں مبینہ طور ملوث اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا تھا۔

دو سال قبل کابل میں طالبان دور کے پاکستان میں سفیر ملا ضعیف نے بات چیت کے دوران مجھے بتایا کہ جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تو انہوں نے ’امیر المومنین‘ ملا عمر سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ امریکہ کی دھمکی کو سنجیدگی سے لیا جائے اور جواب میں طالبان کو سفارت اور عسکری جنگ کی تیاری کرنی چاہیئے۔

مگر ملاضعیف کے بقول ملاعمر اس بات پر بضد تھے کہ امریکہ حملہ نہیں کرے گا تو انہوں نے ان سے کہا کہ ’ملا صاحب ایک ریاست جب حالتِ جنگ میں نہیں بھی ہو تب بھی وہ جنگ کی تیاری کرتی ہے جبکہ ہمیں ایک سپر پاور کا سامنا ہے اور ہم اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں کہ حملہ نہیں ہوگا۔ بہر حال میری بات نہیں مانی گئی۔‘

لیکن اب وہی افغان طالبان ملا عمر کی سربراہی میں بطور ایک مزاحمتی قوت کے اپنی غلطی کو نہ دہرانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں جس کا آغاز انہوں نے پاکستان کی سرحد پر واقع شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تین طاقتور طالبان گروپوں ملانذیر، حافظ گل بہادر اور بیت اللہ محسود کو متحد کرنے کی صورت میں کی ہے۔

رچرڈ ہولبروک نے حال میں افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کا دورہ کیا ہے
جمعہ کو ملا نذیر، بیت اللہ محسود اور حافظ گل بہادر نے اپنے اختلافات کو ختم کرکے متحد ہونے کا اعلان کیا اور ملا نذیر نے اسکی وجہ یہ بتائی کہ ’امریکی صدر اوبامہ اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے اتحاد سے لگتا ہے کہ ان کی طالبان کے متعلق نیت اچھی نہیں ہے۔‘

ذرائع کے مطابق ان تینوں طالبان رہنماؤں کے اختلافات ختم کرنے میں افغانستان کے طالبان کے ایک سات رکنی وفد اور امریکہ کو مطلوب مولانا جلا ل الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

یہ بظاہر افغان طالبان کی جانب سے امریکہ کی نئی پالیسی کے جواب میں اپنی صفوں کو منظم کرنے کے حوالےسے نئی حکمت عملی اپنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ حالانکہ ملا نذیر اور حافظ گل بہادر کے بیت اللہ محسود کے ساتھ اختلافات اتنے گہرے ہوگئے تھے کہ دونوں نے بیت اللہ محسود کے تحریکِ طالبان نامی تنظیم کے خلاف مقامی طالبان تحریک قائم کردی تھی۔

اصل اختلافات ملانذیر اور بیت اللہ محسود کے درمیان ازبکوں کی وجہ سے تھے جنہیں وانا سے بیدخل کرنے کے بعد بیت اللہ محسود نے پناہ دیدی تھی جس پر ملانذیر انتہائی سیخ پا تھے۔

جب دسمبر سنہ دو ہزار چھ میں صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں تمام طالبان گروپوں کو تحریکِ طالبان نامی تنظیم میں اکٹھا کیا گیا تو ملانذیر نے اس میں شمولیت اس لیے اختیار نہیں کی کہ وہ بیت اللہ محسود سے اپنے علاقے سے ازبک جنگجؤوں کو بیدخل کرنے کی ضمانت مانگ رہےتھے۔

افغانستان میں متوقع جنگ کے حوالے سے دونوں طرف سے تیاریوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اوبامہ انتظامیہ کے اہم عہدیدار رچرڈ ہولبروک، ہلیری کلنٹن، رابرٹ گیٹس اور ایڈمرل ہارنیتک نئی افغان پالیسی کے حوالے سے عالمی برادری کو قائل کرنے اور ان سے مدد حاصل کرنے کی کوششوں میں مختلف ممالک کے دوروں میں مصروف ہیں۔

 وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پولینڈ کے شہر کراکاؤ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے موقع پر نیٹو ممالک سے افغانستان کے لیے مزید فوجیوں بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ امریکی ایڈ مرل مارک ہارنیتک تاجکستان میں ہیں جہاں انہوں نے ازبکستان اور تاجکستان کو قائل کرلیا ہے کہ وہ افغانستان کے لیےغیرفوجی سازمامان لیجانے کے لیے راستہ فراہم کریں گے۔
خود نومنتخب امریکی صدر باراک اوبامہ اپنے سرکاری دورے پر کینیڈا جب پہنچے تو وہاں پر ان کی بات چیت افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی پر مرکوز تھی۔

وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پولینڈ کے شہر کراکاؤ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے موقع پر نیٹو ممالک سے افغانستان کے لیے مزید فوجیوں بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ امریکی ایڈ مرل مارک ہارنیتک تاجکستان میں ہیں جہاں انہوں نے ازبکستان اور تاجکستان کو قائل کرلیا ہے کہ وہ افغانستان کے لیےغیرفوجی سازمامان لیجانے کے لیے راستہ فراہم کریں گے۔

یہ اس لیے کہ پاکستان کا راستہ شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہوگیا ہے جبکہ کرغزستان کی حکومت نے سرکاری طور پر امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ اپنا فوجی اڈہ جو سنہ دوہزار ایک میں قائم کیا گیا تھا بند کردیں۔اوبامہ انتظامیہ نے افغانستان کے حوالے سے ایران کے کردار ادا کرنے کی بات کی ہے۔

امریکہ کا افغانستان کے لیے نئی پالسی اور طالبان کی جوابی جنگی حکمت عملی سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اگلی جنگ کا مرکز پاکستان کا قبائلی علاقہ ہوگا کیونکہ رچرڈ ہولبروک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انہیں پاکستان میں شدت پسندوں کے پناہ گاہوں کو تباہ کرنا ہے۔

گزشتہ ہفتے جو دو امریکی ڈرون حملے ہوئے ان دونوں میں کرم ایجنیسی اور جنوبی وزیرستا ن میں تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان سفارتی سطح پر ان حملوں کو روکنے میں اب تک ناکام رہا ہے لیکن بعید نہیں کہ نئی امریکی پالیسی میں بات ڈرون حملوں سے بڑھ کر بی باون کی بمباری تک نہ بڑھ جائے۔

پاکستان نئی امریکی پالیسی کے حوالے سے سخت مشکلات میں گھیرا ہوا نظر آرہا ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پر ویز کیانی سات روزہ سرکاری دورے پر امریکہ جا رہے ہیں جہاں وہ نہ صرف امریکی فوجی حکام سے بات چیت کریں گے بلکہ حکومتی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان کے اس دورے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اوبامہ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کے حوالے سے پاکستان کا نیا کردار بھی شاید متعین ہو سکے۔

طالبان کی سرکوبی
افغان مقامی ملیشیائیں تشکیل دینے کا منصوبہ
نگاہیں افغانستان پر
صدر اوباما کی حکمت عملی کتنی کامیاب ہوگی؟
’حلیفوں کے ساتھ‘
’اوباما کے ہنی مون کو افغانستان سے خطرہ‘
طالبان کی موجودگی
ستر فیصد افغانستان میں طالبان: رپورٹ
فائل فوٹواہم قدم یا سیاسی چال
افغان حکومت اور طالبان کے خفیہ مذاکرات
عراق کا تلخ تجربہ
’تعمیرنو کے اکیاون ارب ڈالر کا زیاں اور فراڈ‘
فائل فوٹوجنگ زدہ افغانستان
غربت اور بدعنوانی میں عوام کامستقبل کیا ہے
اسی بارے میں
کابل حملوں میں انیس ہلاک
11 February, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد