BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 October, 2008, 06:52 GMT 11:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کے ساتھ مذاکرات: اہم قدم یا

کرزئی
افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سعودی عرب میں خفیہ مذاکرات آئندہ انتخابات کے لیے ایک قدم ہو سکتا ہے
افغانستان آنے کا موقع ایک ایسے وقت ملا جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سعودی عرب میں خفیہ مذاکرات کے چرچے ہیں۔ اگرچہ ان مذاکرات سے کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آئی ہے لیکن ایک امید ضرور پیدا ہوئی ہے۔

کرزئی حکومت پر کافی عوامی دباؤ تھا کہ وہ اس طویل جنگ کا فوجی ذرائع کے علاوہ کوئی سیاسی حل بھی نکالیں۔ اب تک ان کی نہ تو جنگی کارروائیاں اور نہ ہی سیاسی کوششیں کسی ٹھوس پیش رفت کا باعث بنی ہیں۔

جنگ سے تباہ حال اس ملک میں آئندہ برس صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ اکثر علاقوں میں ووٹر اندراج جاری ہے۔ کرزئی حکومت اب تک بظاہر اتحادی افواج کی موجودگی کے نشے میں عوامی رائے کو کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہی تھی۔

پژمردہ دل سے انہوں نے ماضی میں بھی طالبان کو مذاکرات کی پیشکشیں کیں لیکن ان کو سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھایا۔ بات صرف بیانات کی حد تک ہی محدود رہی۔ لیکن اب چونکہ کرزئی حکومت نے آئندہ برس دوبارہ عوام کے پاس جانا ہے اور سیاسی فرنٹ پر اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنی ہے تو شاید اس وجہ سے اس نے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے۔

یہ مذاکرات ماضی سے مختلف ہوں گے یا نہیں یہ ابھی دیکھنا باقی ہے لیکن سعودی بات چیت کی پسندیدگی کا اظہار اتحادی اقوام اور افواج نے بھی گزشتہ دنوں ایک بیان کے ذریعے کر دیا کہ ’یہ جنگ محض فوجی طریقوں سے نہیں جیتی جاسکتی ہے۔‘لیکن اکثر افغانوں کو خدشہ ہے کہ یہ مذاکرات محض سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کی وجہ سے نہ کہ کسی بڑی سیاسی منصوبہ بندی کے تحت کئے جا رہے ہیں۔

 سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹریٹیجی نامی تھنک ٹینک کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مذاکرات کی میز پر کون بیٹھ سکتا ہے اور کون نہیں

مذاکرات کے کامیاب ہونے سے پہلے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان حکومت کو چند تلخ لیکن اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔ سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹریٹیجی نامی تھنک ٹینک کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مذاکرات کی میز پر کون بیٹھ سکتا ہے اور کون نہیں۔

آیا یہ مذاکرات تمام طالبان سے ہوں گے یا پھر محض درمیانہ رو طالبان سے۔

ماضی میں صدر کرزئی کہہ چکے ہیں کہ ملا محمد عمر اور حکمت یار جیسے شدت پسندوں کے ساتھ بات ممکن نہیں۔ تو آیا کیا اب اس کا امکان ہے یا نہیں؟

انہیں یہ بتانا ہوگا کہ آیا امریکی اور دیگر اتحادی ممالک کے علاوہ آیا پاکستان اور ایران جیسے کون کون سے ایسے اہم ممالک ہیں جنہیں اس عمل میں شامل کرنا ہوگا۔ کیا اس عمل میں بھارت کی شرکت بھی ضروری ہوگی یا نہیں۔

افغان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ باضابطہ مذاکرات کا یہ اہم موقع ہے یا پھر اسے مزید فوجی کامیابیوں کا انتظار کرنا ہوگا تاکہ ایک مضبوط فریق کے طور پر وہ اس میں شامل ہو۔

کئی لوگوں کے خیال میں اتحادی افواج سن دو ہزار ایک اور دو میں طالبان، جب وہ شکست خودہ اور انتہائی کمزور تھے ختم کرنے کا موقع ہاتھ سے کھو چکی ہے۔ اسے یہ خیال بھی رکھنا ہوگا کہ طالبان نے اکثر مذاکرات اور امن معاہدوں کو دوبارہ منظم اور مستحکم ہونے کے اپنے فائدے کے لیئے استعمال کیا ہے۔

اگر طالبان تشدد کی راہ چھوڑنے کا وعدہ کرتے ہیں تو ان کو آیا ایک سیاسی جماعت کے طور پر قومی دھارے میں لانا ممکن ہوگا یا نہیں اور آخری لیکن شاید سب سے اہم کہ موجودہ افغان آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ طالبان کے مطالبات کو اس میں جگہ دی جاسکے۔

طالبان کے مطالبات کہ جیسے افغانستان کو ایک اسلامی ریاست قرار دیا جائے

طالبان کے مطالبات کہ جیسے افغانستان کو ایک اسلامی ریاست قرار دیا جائے اور عورتوں کو نوکریوں سے دور رکھا جائے ان کو کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ طالبان کو وزارتیں دی جانی چاہیں یا نہیں، جنہوں نے سنگین جنگی جرائم کیے ہیں ان کو معاف کیا جائے یا پھر قید یا نظر بند۔ ماہرین کے مطابق صدر حامد کرزئی کو مذاکرات کی حدود پہلے سے واضع کرنی ہوں گی۔ تاہم اس جانب کسی سوچ کے ابھی اشارے نہیں مل رہے ہیں۔

امریکی اور دیگر اتحادی افواج کے طور طریقوں سے محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ کوئی قلیل مدت کے لیے افغانستان میں رہنے نہیں چاہ رہے بلکہ اب ان کی نظریں طویل مدتی موجودگی پر ہیں۔ جو بھی نیا امریکی صدر منتخب ہو اس نے عراق کی بجائے افغانستان پر تمام توجہ مرکوز کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

ان افواج میں ’چین آف کمانڈ‘ کا مسئلہ بھی اب پائیدار امن کی راہ میں ایک بڑی روکاوٹ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ کثر المکی امن فوج آئساف میں اکتالیس ممالک نے فوجیں بھیجی ہیں۔ ان سب کو ایک کمانڈ کے تحت لانے کی بھی بات کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے خیال میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی بحث اور مباحثے کا بندوبست کرے۔ اس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور سکیورٹی کی صورتحال میں بھی بہتری آنے کے امکانات ہیں۔

افغانستان ہجرت
باجوڑ میں لڑائی سے بچ کر لوگ کنڑ جا رہے ہیں
پرخطر راہوں پر
افغانستان کی سڑکوں پر کیٹ کلارک کا سفر
فائل فوٹوسات سال بعد
اتحادیوں کو افغانستان زیادہ خطرناک لگتا ہے۔
نیٹو کی فوجطالبان نیٹو جنگ
قندھار: جنگ کے خوف سے لوگ جا رہے ہیں
آئیرو کی ہلاکت
صومالیہ - مشرقی افریقہ کا افغانستان؟
اسی بارے میں
جگہ جگہ یادگاری تقریبات
11 September, 2008 | آس پاس
ایساف پر نظرثانی ضروری
26 August, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد