صومالیہ - مشرقی افریقہ کا افغانستان؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے اسلام پسندوں اور القاعدہ کے درمیان تعلقات بلا شبہ مبہم ہیں۔ لیکن یہ واضح ہے کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک مشرقی افریقہ، بالخصوص صومالیہ، کو اسلامی شدت پسندوں کی ممکنہ آماجگاہ سمجھتے ہیں۔ القاعدہ نے صومالیہ میں سرگرم اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کی حمایت میں کوتاہی نہیں برتی ہے، بلکہ اوسامہ بن لادن نے بارہا ان کی حمایت کی ہے۔ تاہم دنیا کی توجہ شدت پسند تنظیم ’اسلامی کورٹس‘ کی عسکری شاخ الشباب پر مرکوز ہے۔ اس تنظیم نے صومالیہ کے شہر موغادیشو میں دو ہزار چھ کے اواخر میں کچھ وقت کے لیے قبضہ کرلیا تھا۔ الشباب کا قبضہ اس وقت ختم ہوا جب صومالیہ کی افواج کی حمایت کے لیے ایتھوپیا نے فوجی مدد بھیجی۔ امریکہ کا الزام ہے کہ الشباب کے رہنماؤں کا تعلق القاعدہ سے ہے اور انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تنظیم کی قیادت سے رابطہ رکھا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صومالیہ کے بعض جہادی جنگجوؤں نے انیس سو نوے کے عشرے میں افغان تربیتی مراکز میں پروش پائی۔ امریکہ الشباب پر القاعدہ کے ان غیرملکی کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہے جو 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔ ان میں فضل عبداللہ محمد اور صالح علی صالح نبھان شامل ہیں۔ تو کیا صومالیہ مشرقی افریقہ میں ایک نیا افغانستان بن رہا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں فکرمند ہیں کہ جہادی بننے کے خواہش مند نوجوان صومالیہ کا رخ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہاں قانون کا کوئی نام و نشان نہیں، اور سرحد نام کی کوئی چیز وہاں باقی نہیں۔ بلکہ ایسا سمجھا جارہا ہے کہ صومالیہ میں دہشت گردوں کے لیے تربیتی مراکز موجود ہیں، لیکن شاید اس بڑے پیمانے پر نہیں جیسا کہ گیارہ ستمبر دوہزار ایک سے پہلے افغانستان میں تھے۔ لیکن حالات کچھ مختلف ہیں۔ ’اسلامی کورٹس‘ کے کمزور ہونے سے صومالیہ میں ممکنہ جہادیوں کی آزادی محدود ہوگئی ہے، بلکہ بعض جنگجو آس پاس کے علاقوں میں گم ہوگئے ہیں۔ ساتھ ہی صومالیہ کے قبائل اور برادریوں کے اندرونی تعلقات اتنے پیچیدہ ہیں کہ وہاں افغانستان کے مقابلے میں غیرملکیوں کے لیے پناہ لینا کافی خطرناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ عدن ہاشی آئیرو کی ہلاکت سے صومالیہ کی شدت پسند تحریک کیسے متاثر ہوگی؟ بعض امریکی اور صومالی حکام کا خیال ہے کہ اس ہلاکت سے شدت پسند تحریک کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدن ہاشی آئیرو کافی مقبول تھے کیونکہ وہ خودکش حملوں جیسی خطرناک کارروائیوں کی اجازت دیتے تھے۔ لہذا ان کی ہلاکت سے متعدل اسلام پسندوں کو حکومت سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔ لیکن ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اس ہلاکت سے بدلے کی کارروائیوں میں تیزی آسکتی ہے اور شدت پسند تحریک میں مزید افراد شامل ہوسکتے ہیں کیونکہ صرف یہی تحریک امریکہ اور ایتھوپیا جیسے اتحادی ممالک کو چیلنج کرسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں اسلامی ملیشیا موگادیشو سے پسپا28 December, 2006 | آس پاس ’القاعدہ رہنما کی موت نہیں ہوئی‘11 January, 2007 | آس پاس صومالیہ میں لڑائی پھر شروع 20 April, 2007 | آس پاس صومالیہ: لڑائی جاری، ساٹھ ہلاک22 April, 2007 | آس پاس صومالیہ: امریکی حملہ، متعدد ہلاک01 May, 2008 | آس پاس حملے مصدقہ اطلاع پر کیے: امریکہ09 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||