اسلامی ملیشیا موگادیشو سے پسپا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ میں دارالحکومت موگادیشو سے اسلامی ملیشیا ’یو آئی سی‘ کے انخلاء کے بعد حکومت کی افواج موگادیشو میں داخل ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتھوپیا کے فوجی دستے بھی صومالی فوج کے ہمراہ تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ شہر کے لوگوں نے فوج کا پر جوش استقبال کیا۔ صومالی وزیر اعظم موگادیشو کے تقریباً بیس کلومیٹر دوسر آفگویے میں ہیں۔ فوج کے آنے سے کئی گھنٹے پہلے ہی اسلامک ملیشیا ’یو آئی سی‘ کے دستے موگادیشو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ’یو آئی سی‘ کے شہر سے نکلنے پر مقامی جنگی سرداروں نے اہم تنصیبات کا کنٹرول اور قبضہ لینا شروع کر دیا۔ موگادیشوں پچھلے چھ ماہ سے اسلامک ملیشیا کے زیر کنٹرول تھا۔ اتھوپیا نے کئی روز پہلے صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس ملیشیا کے ایک رہنما شیخ شریف احمد نے الجزیرہ ٹیلی وژن کو بتایا کہ ان کی افواج دارالحکومت سے اس لیے چلی گئی ہے کیونکہ اگر وہ یہ نہ کرتے تو اس شہر کو بھاری بمباری کا نشانہ بنایا جاتا کیونکہ بقول انکے’ اتھوپیا کی فوج صومالییوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔‘ موگادیشو میں بی بی سی کے نامہ مگار نے بتایا ہے کہ یو ائی سی کے شہر چھوڑنے پر مقامی قبیلوں کے افراد نے قبضہ اور لوٹ مار شروع کر دی ہے۔ شہر میں لاقانونیت اور عدم استحکام کا ماحول ہے اور دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یو آئی سی کے انخلاء سے ملک میں اقتدار کا بحران پیدا ہو گیاہے اور انہیں خدشہ ہے کہ دارالحکومت کی صورتحال مزید بگڑ کر سنہ نوے کی دہائی جیسے بن جائے گی جس میں شہر کے مختلف قبائلی گروہوں میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ | اسی بارے میں افریقی یونین: ایتھوپیا کی حمایت26 December, 2006 | آس پاس ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت25 December, 2006 | آس پاس صومالیہ، ایتھوپیا میں جنگ جاری 24 December, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||