افریقی یونین: ایتھوپیا کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افریقی ممالک کی تنظیم افریقی یونین نے صومالیہمیں جاری لڑائی میں اتھیوپیا کی حمایت کی ہے۔ بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں تنظیم کے ترجمان پیٹرِک مازیمھاکا نے کہا کہ افریقی یونین بر وقت اقدامات کر کے تشدد کو روکنے میں نا کام رہی ہے لیکن پھر بھی اتھیوپیا کو خطرے کی صورت میں فوجی کارروائی کرنے کا حق تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اتھیوپیا کو اس لیے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا کہ اس نے بہت پہلے سے کہا تھا کہ اس کو صومالیہ کی اسلامک کورٹس ملیشیا سے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہر ملک کو اپنی خود مختاری کا دفاع کرنے کا حق ہے اور اس خودمختاری کو درپیش خطرے کا اندازہ لگانا بھی اس ہی کا حق ہے۔‘ پیر کو اتھیوپیا کی فضائیہ نے صومالیہ کے دو ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ساتھ اتھیوپیا نے صومالیہ کی عبوری حکومت کی اسلامک ملیشیا ’یونین آف اسلامک کورٹس‘ (یو آئی سی) کے خلاف لڑائی میں عبوری حکومت کی حمایت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اتھیوپیا کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اب اسلامسٹ گروہوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک صومالیہ میں حکومت قائم کرنے یا وہاں کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ حالات نے اسے فوجی کارروائی پر مجبور کر دیا تھا۔ یو آئی سی کا صومالیہ کے وسطی اور بیشتر جنوبی علاقوں پر کنٹرول ہے جبکہ صومالی حکومت کا جنوبی شہر بائیدوا کے قریب علاقوں پر کنٹرول ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس وقت اتھیوپیا کے تقریباً آٹھ ہزار فوجی صومالیہ میں لڑ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت25 December, 2006 | آس پاس صومالیہ، ایتھوپیا میں جنگ جاری 24 December, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||