BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 December, 2006, 07:11 GMT 12:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افریقی یونین: ایتھوپیا کی حمایت
فوجی
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اتھیوپیا کے تقریباً آٹھ ہزار فوجی صومالیہ میں لڑ رہے ہیں
افریقی ممالک کی تنظیم افریقی یونین نے صومالیہمیں جاری لڑائی میں اتھیوپیا کی حمایت کی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں تنظیم کے ترجمان پیٹرِک مازیمھاکا نے کہا کہ افریقی یونین بر وقت اقدامات کر کے تشدد کو روکنے میں نا کام رہی ہے لیکن پھر بھی اتھیوپیا کو خطرے کی صورت میں فوجی کارروائی کرنے کا حق تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اتھیوپیا کو اس لیے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا کہ اس نے بہت پہلے سے کہا تھا کہ اس کو صومالیہ کی اسلامک کورٹس ملیشیا سے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہر ملک کو اپنی خود مختاری کا دفاع کرنے کا حق ہے اور اس خودمختاری کو درپیش خطرے کا اندازہ لگانا بھی اس ہی کا حق ہے۔‘

پیر کو اتھیوپیا کی فضائیہ نے صومالیہ کے دو ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

ساتھ اتھیوپیا نے صومالیہ کی عبوری حکومت کی اسلامک ملیشیا ’یونین آف اسلامک کورٹس‘ (یو آئی سی) کے خلاف لڑائی میں عبوری حکومت کی حمایت میں بھی اضافہ کیا ہے۔

اتھیوپیا کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اب اسلامسٹ گروہوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک صومالیہ میں حکومت قائم کرنے یا وہاں کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ حالات نے اسے فوجی کارروائی پر مجبور کر دیا تھا۔

یو آئی سی کا صومالیہ کے وسطی اور بیشتر جنوبی علاقوں پر کنٹرول ہے جبکہ صومالی حکومت کا جنوبی شہر بائیدوا کے قریب علاقوں پر کنٹرول ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس وقت اتھیوپیا کے تقریباً آٹھ ہزار فوجی صومالیہ میں لڑ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد