BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 December, 2006, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت
صومالیہ
ایتھوپیا صومالیہ کی حکومت کی عسکری مدد کر رہا ہے (فائل فوٹو)
ایتھوپیا کی فضائیہ نےصومالیہ کی ملیشیا اسلامک کورٹس یونین کے خلاف جاری جنگ میں صومالیہ کے دو ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ایتھوپیا کے ہوائی جہازوں نےمیگادیشو ہوائی اڈے پر بمباری کی۔اسلامک کورٹس یونین کے رہنما شیخ حسن داہر اویس داہر تھوڑی دیر پہلے ہی وہاں موجود تھے۔

موگادیشو کے ہوائی اڈے کے علاوہ ایتھوپیا کے ہوائی جہازوں نےصومالیہ کے جنوبی شہر بیلی ڈیگو کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

صومالیہ کی اسلامی ملیشیا، اسلامک یونین کورٹس کا ملک کے بیشتر حصے پر قبضہ ہے جبکہ صومالیہ کی عبوری حکومت ایتھوپیا کے مدد سے ملک کے ایک چھوٹے سے علاقے میں موجود ہے۔

ایتھوپیا کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسلامک یونین کورٹس کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔ حلال احمر کی تنظیم نےدونوں فریقوں سے کہا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

اسلامک یونین کورٹس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دشمن ان کے شہریوں پر بم برسا رہے ہیں۔ اس علاقے کے رہائشی ایک شخص نے بتایا کہ وہ اپنے سروں پر بم برساتے جہازوں کو دیکھ رہے ہیں اور میدان میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔

یو آئی سی کے رہنما شیخ شریف (فائل فوٹو)

یو آئی سی نے ایتھوپیا کی فوج کو صومالیہ سے نکالنے کا اعلان کیا ہے جو اس کے مطابق کئی ماہ سے حکومتی فوج کے ساتھ مل کر اس کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔

اسلامک گروپ نے سنیچرکو ایتھوپیا کے خلاف مذہبی جنگ میں غیر ملکی جنگجوؤں سے ساتھ دینے کی ایپل کی تھی۔ دارالحکومت موگادیشو سمیت ملک کے جنوبی علاقوں کا بڑا حصہ یو آئی سی کے کنٹرول میں ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صومالیہ میں اسلامی انتہا پسندوں اور عبوری حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔ سلامتی کونسل نے صومالیہ کی عبوری حکومت اور اسلامی شدت پسندوں پر زور دیا کہ وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کریں۔

ریڈ کراس کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل ایتھوپیا نے کبھی بھی اس بات کا اقرار نہیں کیا ہے کہ اس نے اپنی فوج ایتھوپیا بھیجی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق اس وقت صومالیہ میں ایتھوپیا کے آٹھ ہزار فوجی موجود ہیں جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مخالف ملک اریٹریئن اسلامی گروہ کی مدد کے لیے دو ہزار فوجی بھیجے گا۔ تاہم اریٹریئن کے صدر نے صومالیہ میں فوج بھیجنے کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد