صومالیہ میں لڑائی پھر شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے انتباہ کے باوجود صومالیہ کے دارالحکومت موغودیشو میں لڑائی پھر شروع ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایتھوپیائی افواج کی امداد سے دسمبر میں ایک اسلامی گروپ کو نکالے جانے والے کے بعد جنگ کے باعث شہر چھوڑ کر جانے والے لوگوں کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے رابطہ افسر برائے امورِ انسانی ایرک لاروچی کا کہنا ہے کہ ان میں اکثر لوگ باقابلِ بیان حالت میں رہ رہے ہیں اور انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیضے اور دوسری بیماریوں کے باعث ان میں سے سینکڑوں کی موت واقع ہو چکی ہے اور ’اب وقت آگیا ہے کہ موغودیشو تک رسائی حاصل کی جائے اور انہیں مدد فراہم کی جائے‘۔ موغو دیشو کے ایک رہائشی عیسیٰ غیدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میرا گھر ایتھوپیائی فوج کی گولہ باری سے ڈھے کر تباہ ہو چکا ہے‘۔ ا نہوں نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرا ایک بیٹا ہلاک ہو چکا ہے‘۔ جب وہ ٹیلی فون پر بات کر رہے تھے تو پس منظر میں گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی جا سکتی تھیں۔ موغودیشو میں یہ جھڑپیں باغیوں اور ان فوجی دستوں سے کے درمیان ہو رہی ہیں جنہیں ایتھوپیا کی مدد حاصل ہے۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب موغو دیشو میں یا تو فوجی دستوں سے لڑنے والے جنگجو ہیں یا وہ لوگ جو اپنی املاک کی حفاظت کے لیے شہر میں رکے ہوئے ہیں۔ ایک عرصے سے لوگ شہر چھوڑ چھوڑ کر جا رہے تھے لیکن شہر کے قریبی فوجی ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکے اور ایک ایتھوپیائی قافلے کو بارودی سرنگ سے اڑائے جانے کے بعد اب وہ بڑا راستہ بند کر دیا گیا ہے جسے شہر سے نقلِ مکانی کرنے والے استعمال کرتے تھے۔ مشرقی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نقلِ مکانی کرنے والے جنوبی وسطی صومالیہ میں رہ رہے ہیں اور ان کی حالت انتہائی بدتر ہے۔ تین ماہ قبل بنائے گئے ایک بین الاقوامی گروپ نے صومالیہ میں امن فوج کی تعیناتی کے لیے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل صومالیہ میں قیامِ امن کے لیے امریکی،یورپی اور افریقی وفود کی کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں صومالیہ کی عبوری حکومت کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد کی گئی تھی۔ ادھر القاعدہ کے دوسرے اہم ترین رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری نے ایک مبینہ آڈیو پیغام میں اسلامی شدت پسندوں سے کہا تھا کہ وہ صومالیہ میں گوریلا جنگ کی تکنیک استعمال کی جائے۔ | اسی بارے میں ’القاعدہ رہنما کی موت نہیں ہوئی‘11 January, 2007 | آس پاس حملے مصدقہ اطلاع پر کیے: امریکہ09 January, 2007 | آس پاس صومالیہ:’امن فوج کی فوری ضرورت‘05 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: کون کس کا حامی؟04 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: امریکی بحریہ تعینات04 January, 2007 | آس پاس صومالی طاقت تبدیل، آگے کیا؟03 January, 2007 | آس پاس کیسمایو بھی فوج کے کنٹرول میں 01 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: تین ماہ کے لیے مارشل لاء29 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||