BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 January, 2007, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیسمایو بھی فوج کے کنٹرول میں
صومالی وزیراعظم نے ملک میں مارشل لاء لگانے کا اعلان کیا تھا
صومالیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فوج نے اسلامی ملیشیاء کے مضبوط گڑھ اور ساحلی شہر کیسمایو کا انتظام سنبھال لیا ہے۔


صومالیہ میں اسلامی ملیشیاء نے موگا دیشو کے بعد جمعرات کو كيسمايو کا علاقہ بھی خالی کر دیا تھا جو ان کا بڑا اور آخری مضبوط گڑھ تھا۔

موگادیشو پچھلے چھ ماہ سے اسلامی ملیشیا کے قبضے میں تھا۔ ایتھوپیا نے کئی روز قبل صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

صومالی وزیراعظم نے علی محمد غیدی نے ملک میں امن اور استحکام کے لیے افریقی یونین سے امن فوج کے دستے بھیجنے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے اسلامی ملیشیا کے ہتھیار ڈالنے والے کارکنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ملیشیا کو بین الاقوامی دہشت گروں نے گمراہ کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یو آئی سی کے رہنماؤں کومعافی نہیں دی
جائے گی۔

گزشتہ سال ملک بھر میں اسلامی ملیشیا کو قوت حاصل ہو گئی تھی اور کیسمایو ان کا خاص مرکز تھا۔

علی محمد غیدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کیسمایو اب حکومت کے زیر کنٹرول ہے اور اسلامی ملیشیاء وہاں سے چلی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایتھوپیا کی فوج بارودی سرنگوں اور خفیہ طور پر بچھائے دھماکہ مواد کے خطرے سے پیش نظر کیسمایو میں داخلے میں احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اسلامی ملیشیاء کے خلاف ایتھوپیا کی فوج صومالیہ کی حکومت کی مدد کر رہی تھی

كيسمايو کے ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملیشیاء کے افراد نے بغیر کسی وارننگ کے رات کو علاقہ چھو ڑدیا۔ کچھ رہائشیوں نے بتایا کہ ان کے جانے کے بعد گولیوں کی آوازیں سنی گئیں اور لوگوں نے لوٹ مار بھی کی جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکون رہا۔

اتوار کو ایتھوپیا کی فوج اور اسلامی ملیشیا کے درمیان ملک کے شمالی حصےمیں جلب نامی قصبے کے قریب شدید لڑائی ہوئی۔ ایتھوپیا کی فوج اسلامی ملیشیاء کے خلاف لڑائی میں صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کر رہی ہے۔

لڑائی کے باعث لاکھوں کی تعداد میں صومالی علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ مقامی امدای کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد ایسے ہیں کہ جنہیں کھانے پینے کی اشیا اور پناہ کی اشد ضرورت ہے۔

دوسری طرف کینیا کے صدر موائی کیباکی نے کہا ہے کہ وہ صومالیہ کی صورت حال پر بات چیت کے لیے مشرقی افریقہ کے ممالک کا اجلاس بلا رہے ہیں۔

اس سے قبل صومالیہ کے وزیراعظم علی محمد غیدی نے دارالحکومت موگا دیشو میں داخلے کے بعد اگلے تین ماہ کے لیے ملک میں مارشل لاء لگانے کا اعلان کیا تھا۔

صومالی جنگجوالمحاکم الاسلامیہ
اسلامی عدالتوں اور مسلح گرپوں کی جماعت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد