المحاکم الاسلامیہ کیسے بنی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ میں انیس سو اکیانوے میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اب تک وہاں کوئی حکومت اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکی جبکہ مختلف قبائلی سردار اپنے علاقوں کے حاکم بن بیٹھے ہیں۔ ملک میں افراتفری اور جرائم خاص طور سے چوری اور ڈاکہ زنی کے واقعات بڑھے تو مقامی تاجر اپنے علاقوں میں اسلامی عدالتیں قائم کر کے مجرموں کو شریعت کے تحت سزایں دینے لگے۔ سزاؤں کے اس عمل سے سے جرائم میں کمی آئی اور ان عدالتوں نے ایک مشترکہ اتحاد قائم کر کے اسکا نام المحاکم الاسلامیہ رکھا جس میں صومالیہ کی مسلح تنظیمیں بھی شامل ہوگئی اور یہ اتحاد عوام میں بہت مقبول ہوگیا۔ تنظیم کو اس وقت کون چلا رہا ہے سلفیہ اور قطبیہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں کوئی بھی حکومت امن امان لانے میں ناکام ہوچکی ہے لہذا اب یہ ان کی ذمہ داری ہے ۔ ریڈکل رہنما صومالیہ میں غیر ملکی اثر رسوخ کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور شیخ اویس نے فلموں موسیقی اور عشقیہ نغمے گانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ شیخ اویس امریکہ کی اس فہرست میں شامل ہیں جن کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے شیخ اویس نے اس الزام کو رد کر دیا ہے ۔خیال ہے کہ اس تنظیم کو سعودی اور خلیجی ریاستوں سے امداد حاصل ہورہی ہے۔ افریقی اور دوسرے ممالک کے صومالیہ کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں اتھوپیا کا مخالف ملک اریٹریہ محاکمل اسلامیہ کی حمایت کرتا ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ اس اسلامی تنظیم کو اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔ افریقی یونین میں اتھوپیا میں امن فوج بھیجنے پر اختلافات ہیں جبکہ اقوام متحدہ بھی صومالیہ کے ہمسایہ ممالک کی فوج بھیجنا نہیں چاہتی کیونکہ بقول اسکے ان ملکوں کا صومالیہ کے مختف دھڑوں سے رابطہ ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جب حال ہی میں امن فوج بھیجنے کی قرار داد پاس کی تو اسکی نہ صرف المحاکم الاسلامیہ نے مذمت کی بلکہ اسکے پڑوسی ملکوں نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی۔ اتھیوپیا اور صومالیہ کے درمیان کشیدگی کیسے ہوئی تھی دو ہزار چار میں اتھوپیا کے حامی رہنما عبداللہ یوسف نے صومالیہ میں عبوری حکومت سنبھالی مگر جب رواں سال میں اسلامی تنظیم دارالحکومت موگادیشو پر اپنا کنٹرول قائم کیا تو اتھیوپیا کی فوج ملک میں داخل ہو گئی۔ | اسی بارے میں اسلامی ملیشیا موگادیشو سے پسپا28 December, 2006 | آس پاس افریقی یونین: ایتھوپیا کی حمایت26 December, 2006 | آس پاس ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت25 December, 2006 | آس پاس صومالیہ، ایتھوپیا میں جنگ جاری 24 December, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||