BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 December, 2006, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلامی ملیشیا موگادیشو سے پسپا
یو آئی سی کا موگادیشو پر چھ ماہ سے قبضہ تھا
یو آئی سی کا موگادیشو پر چھ ماہ سے قبضہ تھا
صومالیہ اور اتھوپیا کی افواج کے دار الحکومت کے قریب پہنچن
ے پر اسلامک ملیشیا ’یو آئی سی‘ کے دستے موگادیشو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
’یو آئی سی‘ کے شہر سے نکلنے پر مقامی جنگی سرداروں نے اہم تنصیبات کا کنٹرول اور قبضہ لینا شروع کر دیا۔

موگادیشوں پچھلے چھ ماہ سے اسلامک ملیشیا کے زیر کنٹرول تھا۔ اتھوپیا نے کئی روز پہلے صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔

اس ملیشیا کے ایک رہنما شیخ شریف احمد نے الجزیرہ ٹیلی وژن کو بتایا کہ ان کی افواج دارالحکومت سے اس لیے چلی گئی ہے کیونکہ اگر وہ یہ نہ کرتے تو اس شہر کو بھاری بمباری کا نشانہ بنایا جاتا کیونکہ بقول انکے’ اتھوپیا کی فوج صومالییوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔‘

موگادیشو میں بی بی سی کے نامہ مگار نے بتایا ہے کہ یو ائی سی کے شہر چھوڑنے پر مقامی قبیلوں کے افراد نے قبضہ اور لوٹ مار شروع کر دی ہے۔ شہر میں لاقانونیت اور عدم استحکام کا ماحول ہے اور دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یو آئی سی کے انخلاء سے ملک میں اقتدار کا بحران پیدا ہو گیاہے اور انہیں خدشہ ہے کہ دارالحکومت کی صورتحال مزید بگڑ کر سنہ نوے کی دہائی جیسے بن جائے گی جس میں شہر کے مختلف قبائلی گروہوں میں جنگ چھڑ گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد