BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 03:13 GMT 08:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مارشل لاء خارج ازامکان نہیں‘
سرکاری فوج نے شہر کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے
سرکاری فوج نے شہر کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے
موگادیشو میں صومالیہ اور اتھوپیا کی افواج کے داخلے کے بعد اب صومالی حکومت دارالحکومت پر اپنی عملداری قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیراعظم علی محمد غیدی کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیحات میں ملکی استحکام اور ملیشیا جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنا ہے۔ انہوں نےصومالیہ میں مارشل لاء کے نفاذ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔


علی غیدی چار برس کے بعد دارلحکومت میں واپس آ سکے ہیں۔ اور ان کا ماننا ہے کہ’ یہ ملک انارکی کا شکار رہا اور سکیورٹی کے نفاذ کے لیے ہمیں خصوصاً فری لانس جنگوؤں سےسختی سے پیش آنا ہوگا‘۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پارلیمان سے مارشل لاء کے نفاذ کی اجازت بھی لے رہی ہے۔

اسلامی ملیشیا کے موگادیشو چھوڑ دینے کے بعد سے علاقے سے فائرنگ اور لوٹ مار کی اطلاعات بھی ملی ہیں اور یہ سوال اب سر اٹھا رہا ہے کہ اتھوپیائی حامیوں کے جانے کے بعد کیا حکومت سکیورٹی قائم رکھ سکےگی۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ خلیج عدن میں دو کشتیوں کے ڈوبنے سے کم از کم سترہ افراد ہلاک اور ایک سو چالیس لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو صومالیہ کے حالات سے تنگ آ کر ملک چھوڑ کر جا رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق یہ کشتیاں یمن کے ساحل پر لوگوں کو اتار رہی تھیں کہ یمنی ساحلی محافظوں نے انہیں دیکھ لیا اور ان پر فائرنگ کی۔ اس پر یہ کشتیاں واپس سمندر میں چلی گئیں جہاں خراب موسم اور کشتی میں موجود خوفزدہ مسافروں کی ہلچل کی وجہ سے یہ ڈوب گئیں۔

علی محمد غیدی چار برس کے بعد دارلحکومت میں واپس آئے ہیں۔

اس سے قبل صومالیہ اور اتھوپیا کی افواج کے دارالحکومت کے قریب پہنچنے پر اسلامک ملیشیا ’یو آئی سی‘ کے دستے موگادیشو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور مقامی جنگی سرداروں نے اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا تھا۔

موگادیشوں پچھلے چھ ماہ سے اسلامک ملیشیا کے زیر کنٹرول تھا۔ اتھوپیا نے کئی روز پہلے صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔

اس ملیشیا کے ایک رہنما شیخ شریف احمد نے الجزیرہ ٹیلی وژن کو بتایا کہ ان کی افواج دارالحکومت سے اس لیے چلی گئی ہے کیونکہ اگر وہ یہ نہ کرتے تو اس شہر کو بھاری بمباری کا نشانہ بنایا جاتا کیونکہ بقول انکے’ اتھوپیا کی فوج صومالییوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔‘

ادھر اتھوپیا کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کے فوجیوں کا مشن’یو آئی سی‘ کے خطرے کو ختم کرنا تھا۔ افریقی یونین نے بھی اتھوپین فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صومالیہ چھوڑ دے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایک ایسا بیان جاری کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں صومالیہ سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلاء کی بات کی گئی ہو۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یو آئی سی کے انخلاء سے ملک میں اقتدار کا بحران پیدا ہو گیاہے اور انہیں خدشہ ہے کہ دارالحکومت کی صورتحال مزید بگڑ کر سنہ نوے کی دہائی جیسے بن جائے گی جس میں شہر کے مختلف قبائلی گروہوں میں جنگ چھڑ گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد