صومالیہ: تین ماہ کے لیے مارشل لاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے وزیراعظم علی محمد غیدی بکتر بندگاڑیوں کے قافلے کی معیت میں دارالحکومت موغادیشو میں داخل ہوگئے ہیں۔ علی محمد غیدی نے اگلے تین ماہ کے لیے ملک میں مارشل لاء لگانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کی آمد کے موقع پر دارالحکومت کی گلیوں میں موجود عوام نے ان کا استقبال کیا تاہم ایتھوپیا کی فوج کی موجودگی کے ہزاروں مخالفین نے بھی شہر میں مظاہرہ کیا۔ کچھ مظاہرین نے وزیراعظم کے قافلے پر پتھراؤ بھی کیا تاہم قافلے میں موجود فوجیوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے بعد صورتحال قابو میں آ گئی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اپنے خطاب میں علی غیدی نے کہا کہ’ یہ ایک نئی زندگی، استحکام اور نئے صومالیہ کی شروعات ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق علی عیدی کی موگادیشو میں آمد سے ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ صومالی حکومت شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیحات میں ملکی استحکام اور ملیشیا کے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنا ہے۔ اس سے قبل صومالی فوج نے ایتھوپیا کی مدد سے ’یو آئی سی‘ کے دارالحکومت سے نکل جانے کے بعد اہم تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا تھا۔ موغادیشو پچھلے چھ ماہ سے اسلامک ملیشیا کے قبضے میں تھا۔ ایتھوپیا نے کئی روز قبل صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ فوج کے شہر میں داخل ہوتے ہی کچھ شہریوں نے ان پر پھول برسائے تاہم دوسروں نے چھپنے ہی میں عافیت جانی۔
اقوام متحدہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کی لڑائی میں سینکڑوں افراد مارے گئے۔موغادیشو میں حالات معمول پر تھے مگر امریکی پشت پناہی سے جنگی سرداروں کےاقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں لڑائی کا آغاز ہوا۔ علاوہ ازیں اسلامی ملیشیا کے رہنما شیخ شریف احمد نے الجزیرہ ٹیلی وژن کو بتایا تھا کہ ان کی افواج دارالحکومت سے اس لیے چلی گئی ہے کیونکہ اگر وہ یہ نہ کرتے تو اس شہر کو بھاری بمباری کا نشانہ بنایا جاتا کیونکہ بقول ان کے افریقی یونین نے بھی ایتھوپین فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صومالیہ چھوڑ دے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایک ایسا بیان جاری کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں صومالیہ سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلاء کی بات کی گئی ہو۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ’یو آئی سی‘ کے انخلاء سے ملک میں اقتدار کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ دارالحکومت کی صورتحال مزید بگڑ جائے گی اور سنہ نوے کی دہائی کے حالات پیدا ہو جائیں گے جب شہر کے مختلف قبائلی گروہوں میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ’مارشل لاء خارج ازامکان نہیں‘29 December, 2006 | آس پاس اسلامی ملیشیا موگادیشو سے پسپا28 December, 2006 | آس پاس المحاکم الاسلامیہ کیسے بنی؟28 December, 2006 | آس پاس افریقی یونین: ایتھوپیا کی حمایت26 December, 2006 | آس پاس ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت25 December, 2006 | آس پاس صومالیہ، ایتھوپیا میں جنگ جاری 24 December, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||