صومالی طاقت تبدیل، آگے کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دو ہفتوں میں صومالیہ میں طاقت کی ڈرامائی تبدیلی نے صحافیوں، مبصرین اور فوجیوں سمیت ہر طبقے کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ دس دن پہلے تک دارالحکومت موغادیشو سمیت ملک کے بیشتر جنوبی شہروں کا کنٹرول محاکم الاسلامیہ کے ہاتھوں میں تھا۔ عبوری حکومت پسپائی کا شکار تھی لیکن کچھ ہی دن بعد حالات نے پلٹا کھایا۔ حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوئے کہ لوگوں کو یہ تک سوچنے کا موقع نہ ملا کہ آگے کیا ہو گا؟ موغادیشو سے لے کر اپنی طاقت کے گڑھ کسمایو تک اسلامی ملیشیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ جنگی حکمتِ عملی کے پیشِ نظر پیچھے ہٹ گئے اور وہ مذید خون خرابا نہیں چاہتے تھے۔ مستقبل میں بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ صومالیہ میں بھی افغانستان اور عراق کا عکس نظر آنے لگے۔ یعنی جلد شکست کے بعد چھوٹے پیمانے پر لگاتار مزاحمتی حملوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اتوار کو محاکم الاسلامیہ نے مزاحمت شروع کرنے کا اعلان کرکے ان شبہات میں مزید اضافہ کر دیا۔ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں موجود سفارتکار اس خدشے کو ممکنہ حقیقت سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول آئندہ کے حالات کا دارومدار عبوری حکومت کی حکمتِ عملی پر ہو گا۔
اسلامی تحریک نے ہر اس صومالی کو قتل کرنے کا عزم کیا ہے جو حکومت یا ایتھوپیا کے ساتھ تعاون کرے گا۔ محاکم الاسلامیہ کے کنٹرول سے پہلے صومالیہ میں طاقت کا خلاء موجود تھا۔ پچھلے سال جون تک موغادیشو پر جنگجو قبائلیوں کا قبضہ تھا اور لاقانونیت کی وجہ سے دارالحکومت کو خطرناک تصور کیا جاتا تھا۔ صومالی امور کے ماہر مبصر میٹ برائڈن کہتے ہیں: ’محکام الاسلامیہ نے موغادیشو میں اپنی جگہ عبوری حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے بنائی۔ عبوری حکومت اب بھی موغادیشو میں مقبول نہیں ہے۔ عبوری حکومت کا قبضہ بحال ہونے کے باوجود اسے قبائلی سرداروں کے تعاون کی ضرورت پڑے گی‘۔ بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ کہ ماضی کی طرح اب بھی طاقت کے خلاء کو پُر کرنا عبوری حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس خلاء کو قبائلی سرداروں اور محاکم الاسلامیہ کے ہتھیار ڈال کر حکومت میں شامل ہونے والے ملیشیا سے پُر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم چند مبصرین کے مطابق یہ اقدامات بھی مزاحمت کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ اگر ایتھوپیا کی فوج مدد نہ کرتی تو صومالیہ کی حکومت آج اس مقام تک نہ پہنچتی لیکن اب فتح کے بعد ایتھوپیا کا کیا کردار ہو گا؟ ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم مالے زیناوی نے اس تمام کارروائی کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایتھوپیا کی فوج کو جلد از جلد وطن واپس بلانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول ایتھوپیا کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ وہ تعمیرِ نو میں اپنے ہمسایہ ملک کی مدد کر سکے لیکن مزاحمت کے خطرے کی وجہ سے ممکن ہے کہ ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم کو دیرپا امن کے قیام کی خاطر غیر متوقع طویل مدت کے لیے اپنی فوج کو سرحد پر چھوڑنا پڑے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ صومالیہ میں اس ساری کارروائی میں ایتھوپیا کو محض اپنے مفادات کی حد تک دلچسپی تھی۔ ایتھوپیا کی حکومت ان خدشات کا شکار تھی کہ صومالیہ میں اسلامی شدت پسندوں کا عروج پورے شمالی افریقہ میں مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ایتھوپیا میں بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کی تعداد برابر ہے لیکن صومالیہ کے برعکس ان میں بھائی چارے کی فضا قائم ہے۔
ایتھوپیا کو خطرہ تھا کہ صومالیہ میں انتہا پسند مسلم ملیشیا کے عروج سے ایتھوپیا میں بھی باہمی یک جہتی کا توازن بگڑ سکتا ہے اور نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ تین ماہ قبل ادیس ابابا کے نزدیک ایک مسلم اکثریتی گاؤں میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے اور پندرہ افراد مارے گئے۔ ایڈس ابابا کی مداخلت کے بعد ایتھوپیا کی سرزمین پر خودکش حملوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں لیکن وزیرِ اعظم زیناوی جانتے تھے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے سے بھی مثبت نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ محاکم الاسلامیہ کی شکست کے باوجود صومالیہ کئی مسائل سے دو چار ہے۔ اس کے مستقبل کا انحصار فاتح حکومت کی فوری حکمتِ عملی اور بین الاقوامی برادری کے تعاون پر ہو گا۔ | اسی بارے میں کیسمایو بھی فوج کے کنٹرول میں 02 January, 2007 | آس پاس ’مارشل لاء خارج ازامکان نہیں‘29 December, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ 23 July, 2006 | آس پاس صومالیہ میں ’جہاد‘ کا اعلان 22 July, 2006 | آس پاس اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||