صومالیہ:’امن فوج کی فوری ضرورت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے حوالے سے بنائے گئے بین الاقوامی گروپ نے اس جنگ زدہ ملک میں امن فوج کی تعیناتی کے لیے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل صومالیہ میں قیامِ امن کے لیے امریکی،یورپی اور افریقی وفود کی کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں صومالیہ کی عبوری حکومت کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ صومالیہ کے عبوری صدر عبداللہ یوسف نے بھی افریقی یونین کی فوج کی تیزی سے تعیناتی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ سالہ تشدد کا شکار صومالیہ میں کسی حقیقی سیاسی پیش رفت کا امکان بہت ہی کم ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے بھی صومالیہ میں افریقی امن فوج بھیجنے کی حمایت کی ہے جبکہ ایتھوپیا کے وزیراعظم میلس زیناوی نے بھی کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں ایتھوپیا کی افواج صومالیہ سے واپس آجائیں۔ ادھر القاعدہ کے دوسرے اہم ترین رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری نے ایک مبینہ آڈیو پیغام میں بھی اسلامی شدت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ صومالیہ میں گوریلا جنگ کی تکنیک استعمال کریں۔ ایک ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’میں آپ سے اس وقت مخاطب ہوں جب ایتھوپیا کی صلیبی افواج نے مسلم ملک صومالیہ کی مٹی کا تقدس پامال کیا ہے۔ میں صومالیہ کے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میدانِ جنگ میں رہیں کیونکہ یہ جنگ ان صلیبی جنگوں میں سے ایک ہے جو امریکہ، اس کے حواریوں اور اقوامِ متحدہ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چھیڑی ہیں‘۔ دریں اثناء صومالیہ میں کینیا کی سرحد کے نزدیک حکومتی افواج اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ایتھوپیائی فوجوں کی مدد سے برسرِ پیکار ہیں۔ پندرہ دن قبل تک المحاکم الاسلامیہ کا صومالیہ کے ایک بڑے علاقے پر کنٹرول تھا۔ کینیا نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے تنقید کے باوجود صومالیہ سے ملنے والی اپنی سرحد بند کر دی ہے جبکہ صومالیہ کے ساحل پر امریکی بحریہ تعینات کی گئی ہے تاکہ المحاکم اسلامیہ کے رہنماؤں کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔ | اسی بارے میں صومالیہ: کون کس کی حمایت کرتا ہے؟04 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: امریکی بحریہ تعینات04 January, 2007 | آس پاس صومالی طاقت تبدیل، آگے کیا؟03 January, 2007 | آس پاس کیسمایو بھی فوج کے کنٹرول میں 01 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: تین ماہ کے لیے مارشل لاء29 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||