صومالیہ: کون کس کا حامی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے چھ ماہ کے دوران صومالیہ کا زیادہ تر علاقہ المحاکم الاسلامیہ تنظیم کے زیر انتظام تھا لیکن اب ایتھوپیا کی مدد سے چلنے والی حکومت کی مزاحمت کی وجہ سے اس تنظیم کی شکست ہو گئی ہے۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المحاکم الاسلامیہ اور صومالی حکومت کے درمیان یہ کشیدگی پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لی گی۔ صومالیہ کی عبوری حکومت کو افریقی یونین، اقوام متحدہ اور بین الحکومتی اتھارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن اس حکومت کو سب سے زیادہ حمایت ایتھوپیا کی طرف سے حاصل ہے جیسا کہ ایتھوپیا کےوزیراعظم میلز زیناوی یہ نہیں چاہتے کہ ان کی سرحد کے پار کوئی اسلامی حکومت قیام میں آئے۔ صومالیہ کے عبوری صدر عبدولائی یوسف کے ہمیشہ سے ہی ایتھوپیا کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں۔ 2004 میں صدر بننے کے بعد ان کا پہلا بیرونی دورہ ادیس ابابا کا تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے درخواست کی تھی کہ انہیں اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے ایتھوپیا سے بیس ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔ ان کی عبوری حکومت دارالحکومت مورہ دیشو کی بجائے باوڈا میں قائم ہے۔ حکومت کے زیر اثر علاقے باوڈا میں موجود صومالی پارلیمنٹ نے مورہ دیشو میں موجود المحاکم الاسلامیہ کی شدید مخالفت کے باوجود بیرونی فوجوں کو ملک میں تعینات کرنے کا بل پاس کر دیا۔ کئی مہینوں تک ایتھوپیا اس بات سے انکار کرتا رہا کہ اس کی فوجیں صومالیہ میں موجود ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ صومالیہ میں صرف ان کی فوج حکومتی فوجوں کی تربیت کا کام سرانجام دے رہی ہے۔ لیکن دسمبر کے آخر میں ایتھوپیا نے ایک بہت بڑا حملہ کرتے ہوئے المحاکم الاسلامیہ کے زیر انتظام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ ایتھوپیا کہ کہنا ہے کہ صومالیہ میں طویل عرصے تک قیام کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ صدر یوسف کو ایتھوپیا کی طرف سے ملنے والی مدد کے علاوہ اس بات کی بھی اطلاعات ہیں کہ یمن سے بھی کئی جہاز اسلحہ اور بارود لے کر باودا میں آئے ہیں۔
یمن سے آسٹریلیا اور یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک گروہ پکڑا گیا جس پر الزام تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی طرف سے صومالیہ پر لگائی گئی اسلحہ کی پابندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ المحاکم الاسلامیہ نے کینیا پر بھی اس بات کا الزام لگایا ہے کہ وہ بھی صومالیہ کی عبوری حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔ المحاکم الاسلامیہ نے اپنی چھ ماہ کی حکومت کے دوران دارالحکومت مورہ دیشو میں نظم و ضبط نافظ کیا تھا۔اس تنظیم کو مالی امداد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے امراء کی طرف سے دی جاتی ہے۔ صومالیہ کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے اسلامی انتہا پسند المحاکم الاسلامیہ کی مالی مدد کرتے ہیں۔ جبکہ المحاکم الاسلامیہ نے اس بات اس بات کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایرٹریا جس کا ایتھوپیا کے ساتھ کئی سال پرانا سرحدی تنازعہ ہے، المحاکم الاسلامیہ کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق المحاکم الاسلامیہ کے ساتھ ایرٹریا کے دو ہزار مسلح فوجی کام کر رہے ہیں۔ ایرٹریا نے اس بات کی تردید کی ہے۔ المحاکم الاسلامیہ کے چیئر مین شریف شیخ احمد نے امریکہ اور اقوام متحدہ کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے چار صفحات پر مشتمل خط میں انہوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کی تنظیم اسلامی انتہا پسندوں اور وہ تنظمیں جو القاعدہ کی حامی ہیں، کو پناہ فراہم کرتی ہے۔
لیکن المحاکم الاسلامیہ کے ایک اہم رہنما شیخ حسان داہر کا شمار امریکہ کی طرف سے جاری کردہ اس لسٹ میں شامل ہے جس میں دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام موجود ہیں۔ اب اس بات کا خدشہ ہے کہ المحاکم الاسلامیہ ایک مزاحمت کار گروپ کی حیثیت سے اس علاقے میں کام کرے گی۔ افریقی یونین نے ایتھوپیا کی فوجوں سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حملے کے بعد اب صومالیہ سے باہر نکل جائیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یہ بیان جاری کرنے سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے بیرونی فوجوں کے صومالیہ سے انخلاء کی درخواست کی ہے۔ اس سے قبل دسمبر میں سلامتی کونسل نے ایک قرارداد پاس کی تھی جس کے تحت صومالیہ کی کمزور حکومت کو بچانے کے لیے آٹھ ہزار افریقی امن فوجیوں کی فراہمی کو ممکن بنانا تھا۔ اس کے بعد جون میں سفارت کاروں نے صومالیہ میں بین الاقوامی تعلقاتی گروپ کی تشکیل دی جس کو امریکہ، برطانیہ، ناروے، سویڈن، اٹلی، تنزانیہ اور یورپی یونین کی حمایت حاصل تھی۔اس میں عرب لیگ، افریقی یونین اور کینیا نے مبصرین کی حیثیت سے شمولیت کی۔ تعلقاتی گروپ کا قیام اس سے قبل اس امریکی حکمت عملی کی ناکامی کے بعد عمل میں آیا جس کے تحت ان فوجی کمانڈروں کو مدد فراہم کرنا تھا جو کہ کئی سالوں سے مورہ دیشو پر اپنا کنٹرول رکھے ہوئے تھے۔ امریکہ کی نمائندگی کرنے والی افریقی افیئز کی نائب سیکٹریری آف سٹیٹ جندائی فریزر نے دعویٰ کیا ہے کہ ریڈیکل نظریات رکھنے والوں نے المحاکم الاسلامیہ میں اعتدال پسندوں کو پیچھے کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’المحاکم الاسلامیہ کے بنیادی ڈھانچے میں اب انتہا پسند ہیں جو کہ دہشت گرد ہیں اور جنگ کرنے کے لیے اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں‘۔
درین اثناء تعلقاتی گروپ نے المحاکم الاسلامیہ اور صومالیہ کو آپس میں بات چیت کی دعوت دی۔ لیکن سوڈان کے دارالحکومت میں تین دور کی امن بات چیت کے باوجود یہ مزاکرات نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ ایک موقع پر مخالفین نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ فائر بندی کر دیں گے لیکن المحاکم الاسلامیہ کی طرف سے قبضہ جاری رہا اور دوبارہ جنگ جاری ہو گئی۔ صومالیہ کی عبوری حکومت کو اب عرب لیگ کی دخل اندازی پر اعتماد نہیں تھی اور یہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے بغیر نومبر میں ختم ہو گئی۔ | اسی بارے میں صومالیہ: امریکی بحریہ تعینات04 January, 2007 | آس پاس صومالی طاقت تبدیل، آگے کیا؟03 January, 2007 | آس پاس کیسمایو بھی فوج کے کنٹرول میں 01 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: تین ماہ کے لیے مارشل لاء29 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||