’القاعدہ رہنما کی موت نہیں ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی صومالیہ میں ایک اعلی امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سوموار کو کیے گئے فضائی حملے میں مشتہ القاعدہ رہنما کی موت نہیں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے صومالیہ کے اہلکاروں نے کہا تھا کہ سن 1998 میں مشرقی افریقہ کے ممالک کے سفارت خانوں پر حملہ کرنے کی شازش رچنے والے فضل عبداللہ محمد کی موت ہو گئی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے پیرکو صومالیہ میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے بعد امریکہ کی مذمت کی گئی تھی جب کہ امریکہ نے ان حملوں کو یہ کہتے ہوئے مناسب ٹھرایا تھا کہ القاعدہ کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی۔ صومالیہ کے ایک مقامی ایم پی کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں 27 شہری ہلاک ہو گئے تھے جب کہ صومالیہ میں امریکی سفیر نے اس کی تردید کی تھی۔ بدھ کوایتھوپیا کے وزیر اعظم میلیس زیناوی نے کہا تھا کہ ان حملوں میں متعدد انتہا پسند یا تو مارے گئےیا گرفتار کر لیےگئے ۔ درین اثنا برطانوی حکومت اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ ہلاک ہونے والےانتہا پسندوں میں سے کوئی برطانوی شہری تھا یا نہیں کیوں کہ رپورٹوں میں یہ کہا گیا تھا کہ حملوں کے بعد کئی ممالک کے لوگوں کے پاسپورٹ برآمد کیے گئے تھے۔ امداد پہنچانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ صومالیہ میں گزشتہ دسمبر سےاب تک ایک ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں کیسمایو بھی فوج کے کنٹرول میں 02 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: امریکی بحریہ تعینات04 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: کون کس کا حامی؟04 January, 2007 | آس پاس صومالیہ:’امن فوج کی فوری ضرورت‘05 January, 2007 | آس پاس حملے مصدقہ اطلاع پر کیے: امریکہ09 January, 2007 | آس پاس صومالیہ میں نئے فضائی حملے10 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||