صومالیہ میں نئے فضائی حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز صومالیہ میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے فوجی آپریشن کے بعد کوئی نئی امریکی بمباری نہیں کی گئی ہے۔ تاہم بدھ کے روز جنوبی صومالیہ میں نئے فضائی حملے کیے گئے ہیں اور متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی اہلکاروں کے مطابق امریکہ تازہ حملوں میں ملوث نہیں ہے۔ ادھر صومالیہ کے حکومتی اہلکاروں نے کہا ہے کہ فضائی حملوں میں مارے جانے والوں میں القاعدہ تنظیم کے اہم مشتبہ شخص فضل عبداللہ محمد بھی شامل ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ نو برس قبل مشرقی افریقہ میں اس کے سفارت خانوں پر حملوں میں فضل کا ہاتھ تھا۔ کیسماؤ کے قصبے میں لوگوں نے بتایا ہے کہ بدھ کو دو نئے فضائی حملے ہوئے ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔
اس اقدام کا فیصلہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں کیا گیا تھا جب اسلامی کورٹس ملیشیا کو ابھی دارالحکومت موگادیشو سے باہر نہیں نکالا گیا تھا۔ لیکن بدھ کو ہونے والا سلامتی کونسل کا اجلاس گزشتہ روز جنوبی صومالیہ میں امریکی فضائی حملوں کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکار پہلے ہی خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکی فضائی حملوں سے امن کے امکانات پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اس تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکی حملے سے صومالیہ میں تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ فضائی حملے کا نشانہ القاعدہ کے مشتبہ رہنما تھے جبکہ صومالی اہلکاروں کے مطابق فضائی حملوں میں کئی افراد ہلاک ہو ہوئے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے جنوبی صومالیہ میں القاعدہ کے مبینہ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں فضائی حملے کی تصدیق کے بعد اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس طرح کے حملوں سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل بدھ کے روز صومالیہ میں افریقی یونین کی امن فوج کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔ امریکہ حکام نےحملے جنوبی صومالیہ میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
پیر کے روز امریکہ طیاروں اے سی 130 نے صومالیہ میں القاعدہ کےایک مبینہ ’خفیہ ٹھکانے‘ پر کم از کم دو فضائی حملے کیے تھے۔ ادھر اسلامی ملیشیا، یونین اسلامی کورٹس کی دارالحکومت موگادیشو سے پسائی کے بعد پہلی مرتبہ اس عمارت پر راکٹ گرینیڈوں سے حملہ کیا گیا ہے جو ایتھوپیا کی فوج کے زیر استعمال ہے۔ صومالیہ کی عبوری حکومت کو ایتھوپیا کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ ایتھوپیا کی فوجی مدد سے واپس موگادیشو میں پہنچ پائی ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ پیر کے روز امریکی فوج نے مصدقہ اطلاعات کے بعد صومالیہ میں حملہ کیا تھا اور ان کا نشانہ القاعدہ کی قیادت تھی۔ صومالیہ کے عبوری صدر عبدالحی یوسف احمد نے امریکی حملے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کے خلاف برسرپیکار لوگوں کے خلاف کارروائی کر سکے۔
اطلاعات کے مطابق پہلے ان ٹھکانوں کی فضائی نگرانی کی گئی اور پھر ان پرگن شپ کے ذریعے جبوتی کے قریب واقع امریکی اڈے سے حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ ائر فورس اے سی 130 کے ذریعے کیا گیا تھا جس پر کافی تعداد میں ہتھیار نصب ہوتے ہیں اور یہ اندھیرے میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ صومالی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی حملے میں کم از کم انیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ایک مقامی شخص محمود برالی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا چار سالہ بیٹا امریکی حملے میں مارا گیا۔ امریکہ کہتا آیا ہے کہ صومالیہ کے اسلامی شدت پسندوں نے القاعدہ کے ان افراد کو بھی پناہ دی تھی جو 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔امریکہ اسی گروہ پر 2002 میں کینیا میں اسرائیلی ہوٹل پر حملے کی ذمہ دار عائد کرتا ہے جس میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عینی شاہدین نے بی بی سی صومالی سروس کو بتایا کہ منگل کو بمباری کے دوران کینیا کی سرحد اور افماڈو کےگاؤں کے درمیانی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ افماڈو کا علاقہ حملے کی جگہ راس قمبونی سے کوئی دو سو پچاس کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ |
اسی بارے میں صومالیہ: تین ماہ کے لیے مارشل لاء29 December, 2006 | آس پاس ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت25 December, 2006 | آس پاس صومالیہ: کون کس کی حمایت کرتا ہے؟04 January, 2007 | آس پاس صومالیہ:’امن فوج کی فوری ضرورت‘05 January, 2007 | آس پاس صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ 23 July, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||