حملے مصدقہ اطلاع پر کیے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں القاعدہ کےایک’خفیہ ٹھکانے‘ پر کم از کم دو فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صومالیہ میں حملے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد کیے گئے اور ان کا نشانہ القاعدہ کی قیادت تھی۔ اطلاعات کے مطابق پہلے ان ٹھکانوں کی فضائی نگرانی کی گئی اور پھر ان پرگن شپ کے ذریعے جبوتی کے قریب واقع امریکی اڈے سے حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ ائر فورس اے سی 130 کے ذریعے کیا گیا جس پر کافی تعداد میں ہتھیار نصب ہوتے ہیں اور یہ اندھیرے میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ صومالی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع ایک گاؤں پر امریکی فضائی حملے میں کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عبوری حکومت کے ترجمان عبدالرحمان دیناری نے اے ایف پی کو بتایا ’علاقے میں بہت سے ہلاک شدگان کی لاشیں پڑی ہیں ہم یہ نہیں جانتے کہ مرنے والے کون ہیں تاہم حملہ کامیاب رہا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اصل نشانہ بادل نامی چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں دہشتگرد چھپے ہوئے تھے اور جہازوں نے صحیح ہدف پر نشانہ لگایا‘۔ صومالیہ کے صدر عبدالہٰٰی یوسف نے امریکی حملے کا دفاع کرتے ہوئے موگادیشو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’امریکہ کو ان دہشت گردوں پر حملہ کرنے کا حق ہے جنہوں نے کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کیے تھے‘۔ امریکہ کہتا آیا ہے کہ صومالیہ کے اسلامی شدت پسندوں نے القاعدہ کے ان افراد کو بھی پناہ دی تھی جو 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارتخانوں میں ہونے والے دھماکوں کے ذمہ دار ہیں۔ عینی شاہدین نے بی بی سی صومالی سروس کو بتایا کہ منگل کو بمباری کے دوران کینیا کی سرحد اور افماڈو کےگاؤں کے درمیانی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ افماڈو کا علاقہ حملے کی جگہ راس قمبونی سے کوئی دو سو پچاس کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ ایک مقامی شخص محمود برالی نے بی بی سی کو بتایا ’میرا چار سالہ بیٹا اس کارروائی میں مارا گیا‘۔ موگا دیشو سے اسلامی ملیشیا کے نکالے جانے کے بعد سے یہ علاقہ افراتفری کی حالت میں ہے۔ اسلامی ملیشیا کے اراکین نے چھ ماہ تک موگا دیشو کو اپنے قبضے میں رکھا تھا۔ نیروبی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بظاہر القاعدہ کے خفیہ ٹھکانے کو تباہ کرنے کی بروقت امریکی کارروائی محسوس ہوتا ہے۔ اس ٹھکانے پر امریکی کئی دنوں سے نظر رکھے ہوئے تھے۔ خیال ہے کہ اسی خفیہ ٹھکانے سے 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بموں سے حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکہ اسی گروہ پر 2002 میں کینیا میں اسرائیلی ہوٹل پر حملے کی ذمہ دار عائد کرتا ہے جس میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
اسی بارے میں صومالیہ: تین ماہ کے لیے مارشل لاء29 December, 2006 | آس پاس ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت25 December, 2006 | آس پاس صومالیہ: کون کس کی حمایت کرتا ہے؟04 January, 2007 | آس پاس صومالیہ:’امن فوج کی فوری ضرورت‘05 January, 2007 | آس پاس صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ 23 July, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||