صومالیہ: لڑائی جاری، ساٹھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایتھوپیا کی افواج اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی کے چوتھے دن مزید ساٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چار دن سے جاری لڑائی میں ایک اندازے کے مطابق اب تک دو سو کے قریب افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ فروری سے اب تک مزید تین لاکھ بیس ہزار صومالی لڑائی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ صومالی دارالحکومت کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں زخمیوں کو لایا گیا ہے اور شہر کی گلیوں میں لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ بی بی سی کے محمد مولیمو کے مطابق کچھ زخمیوں کو ہسپتالوں کے باہر درختوں کے نیچے بھی لٹانا پڑا۔ لڑائی کے چوتھے دن ایک بڑی جھڑپ البرکہ نامی بازار کے قریب ہوئی جس میں مارٹر گولوں کا استعمال کیا گیا۔ مقامی درائع کے مطابق اس جھڑپ میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور ان کی لاشیں مسخ ہوگئیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک مارٹر گولے نے ہودان کے علاقے میں ایک بس کو نشانہ بنایا جس سے چار افراد مارے گئے۔ ایک مقامی شخص علی حاجی کا کہنا تھا ’ایتھوپین اس لیے مجھے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ میں صومالی ہوں اور مزاحمت کار اس لیے ناراض ہیں کہ میں ان کے شانہ بشانہ لڑ نہیں رہا‘۔ ایتھوپیا کی افواج گزشتہ دسمبر سے صومالیہ میں موجود ہیں اور وہ اسلامی مزاحمت کاروں کو کچلنے میں حکومت کی مدد کر رہی ہیں۔ | اسی بارے میں صومالیہ میں لڑائی پھر شروع 20 April, 2007 | آس پاس اہم صومالی رہنما نے ہتھیار ڈال دیے22 January, 2007 | آس پاس صومالیہ میں نئے فضائی حملے10 January, 2007 | آس پاس صومالیہ:’امن فوج کی فوری ضرورت‘05 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: کون کس کا حامی؟04 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||