BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہم صومالی رہنما نے ہتھیار ڈال دیے
شیخ شریف شیخ احمد
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ صومالی حکومت کو شیخ شریف شیخ احمد سے بات چیت کرنی چاہیے
کینیا کی پولیس کے مطابق صومالیہ کے اسلامی گروپ کے اہم رہنماء شیخ شریف شیخ احمد نے اپنے آپ کو کینیا کے حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

شیخ شریف شیخ احمد کو ایک اعتدال پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق انہیں شمال مشرقی کینیا کی سرحد کے قریب موجود واجیر کے شہر میں اپنی گرفتاری دی ہے۔

امریکہ اور اقوام متحدہ نے صومالی حکومت پر زور دیا ہے کے وہ شیخ شریف شیخ احمد اور اسلامی گروپ کے اعتدال پسند رہنماؤں ہیں سے مفاہمت کریں۔

اسلامی گروپ کو پچھلے ماہ صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے نکلنا پڑا تھا۔

ایتھوپیا کی فوجوں نے صومالی حکومت کی مدد کرتے ہوئے اسلامک ملیشیا ’یونین آف اسلامک کورٹس‘ کو اس علاقے سے بے دخل کر دیا تھا۔ اس گروپ نے جنوبی صومالیہ کے زیادہ تر حصے پر قبصہ کیا ہوا تھا۔

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی بھی دارالحکومت موغادیشو میں ساڑھے تین ہزار کے قریب اسلامی جنگجو موجود ہیں۔

موغادیشو میں سوموار کی صبح کو کم از کم دو افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب حکومت اور ایتھوپیا کی فوج نے مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔

ان فوجیوں نے شمالی موغادیشو میں اس علاقے میں گھروں پر حملہ کیا جہاں پر ایتھوپیا کے ایک قافلے پر سنیچر کے روز حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شہر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دو مشتبہ اسلامی جنگوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار اولد حسان کا کہنا ہے کہ آتش گیر مادے کے ذریعے ان گھروں کے دروازوں کو اڑایا گیا ہے۔ خیال ہے کہ مشتبہ اسلامی جنگجو چھپے ہوئے ہیں۔

اس حملے کے دوران علاقے کے مقامی لوگوں نے ایتھوپیا اور حکومت کے فوجیوں پر پتھراؤ اور فائرنگ کی۔

ایتھوپیا کے وزیراعظم نے جمعہ کو بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ’کچھ دنوں کے اندر‘ اپنی فوجوں کو صومالیہ سے واپس بلا لیں گے۔

ادھر ملاوی نے افریقی یونین کی امن فوج میں اپنے فوجی بھیجنے کی حامی بھری ہے۔ یہ فوجی صومالیہ میں ایتھوپیا کی فوجوں کی جگہ امن کی بحالی کا کام کریں گے۔

ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ اس کی فوج جلد صومالیہ سے واپس بلا لی جائے گی

ملاوی کے وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ وہ صومالیہ میں ایک ہزار افراد پر مشتمل اپنی پوری بٹالین بھیجیں یا پھر صرف پانچ سو فوجی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا انحصار اس بات پر ہے کہ اور کون سے ملک افریقی یونین کی اپیل کے تحت اپنی فوجیں بھیجیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ افریقی یونین اپنی فوج جلد از جلد صومالیہ میں بھیجنا چاہتی ہے تاکہ ایتھوپیا کی فوجوں کے وہاں سے جانے کے بعد جو طاقت کا خلا پیدا ہو اسے فورًا پُر کیا جا سکے۔

ملاوی کے علاوہ یوگینڈا وہ دوسرا واحد ملک ہے جس نے صومالہ میں اپنے آٹھ ہزار فوجی بھجنے کی پیشکش کی ہے۔

جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور نائجیریا ابھی تک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ انھیں افریقی یونین کے اس مشن میں حصہ لینا چاہیے کہ نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد