’انخلاء کے فیصلے پر محفوظ راستہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کے سپریم لیڈر ملا عمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں سرگرم اتحادی افواج یا تو انخلاء کا فیصلہ کر لیں ورنہ انہیں ایسی ہی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جیسی شکست سوویت افواج کو ہوئی تھی۔ ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے ملا عمر سے قیامِ امن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ ملا عمر نے امریکی و نیٹو افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ اپنے غلط قبضے کے غلط فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور اپنی افواج کے لیے محفوظ راستہ تلاش کریں‘۔ ان کے مطابق اگر قبضہ جاری رہا تو’ آپ سابق سوویت یونین کی طرح دنیا کے تمام خطوں میں شکست کھائیں گے‘۔ ملا عمر نے اپنے اس بیان میں اپنے طالبان جنگجوؤں سے کہا ہے کہ ’دشمنوں کے سامنے فولادی دیوار بن کر کھڑے رہیں‘ لیکن شہری ہلاکتوں سے بچیں۔ انہوں نے حکمتِ عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے طالبان کو مساجد اور پرہجوم مقامات کو نشانہ نہ بنانے کا حکم بھی دیا۔ طالبان لیڈر کے اس بیان کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے اخباری نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چند دن قبل میں نے ان کے رہنما ملا عمر سے پرزور انداز میں کہا ہے کہ میرے بھائی، میرے عزیز اپنے وطن میں واپس آؤ اور امن اور اپنے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرو اور اپنے بھائیوں کو مارنا بند کردو‘۔ افغان صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ طالبان کے ساتھ سعودی عرب میں بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے بادشاہ سے بذریعہ خط اپیل کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان اور خطے میں قیامِ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ | اسی بارے میں افغان پولیس سربراہ کو قتل کر دیا28 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس ’مزید دس ہزار فوجی چاہئیں‘17 September, 2008 | آس پاس فوج عراق سےکم افغانستان میں زیادہ09 September, 2008 | آس پاس سویلین ہلاکتوں کی ازسرنو تحقیق08 September, 2008 | آس پاس افغانستان: طالبان مزاحمت پرتشویش04 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||