BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 September, 2008, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج
جنرل ڈیوڈ پیٹرس
جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے حالات بہتر کرنے میں اہم کردار اد کیا ہے
عراق میں امریکہ کے چیف فوجی افسر جنرل ڈیوڈ پٹریئس اب سنٹر کمانڈ کی ذمے داری سنبھالنے جا رہے ہیں جہاں وہ مشرق وسطی، افغانستان اور پاکستان میں امریکی افواج کی کارروائیوں اور حکمت عملی کی نگرانی کریں گے۔

گذشتہ ہفتے ایک انٹریو کے دوران انہوں نے افغانستان میں نیٹو افواج کی مہم کے سلسلے میں کہا تھا ’وہاں صورتحال کی سمت غلط ہے۔‘

جنرل کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔

عراق میں صورت حال کافی حد تک قابو میں لانے کے لیے واشنگٹن میں کئی حلقے جنرل کی ستائش بھی کرتے رہے ہیں۔ عراق میں 2007 کے جون مہینے میں ایک دن میں 180 حملے ہوا کرتے تھے جو اب کم ہو کر پچیس فی دن تک ہو گئے ہیں۔

جنرل پٹریئس کی اس حکمت عملی کی کافی ستائش کی گئی۔ اس حکمت عملی میں عوام کی حفاظت کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی تھی۔

عراق ميں تجربہ کے بعد یہ حکمت علمی افغانستان میں بھی استعمال میں لائی جا سکتی ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کو ایک محفوظ علاقہ بنانے کے لیے مزید افواج کی ضرورت ہے اور دوسرا یہ کہ مقامی پشتون آبادی کی غیر ملکیوں کے لیے تاریخی نفرت اور طالبان کے لیے حمایت یہ ظاہر کرتی ہے کہ مزید افواج دیہی بغاوت میں اضافہ کر سکتی ہے۔

عراق میں ایک اور حکمت عملی اختیار کی گئی جس میں ان لوگوں کو منتخب کیا جاتا تھا جو شہریوں کی بہتری کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور انہیں ہتھیار تھما دیے جاتے ہیں۔

کچھ حد تک افغانستان میں بھی اس کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن افغانستان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایک افغانی کرائے پر تو لیا جا سکتا ہے لیکن اسے خریدا نہیں جا سکتا ہے۔

یوں تو عراق اور افغانستان کئی معاملات میں ایک دوسرے سے برعکس ہیں لیکن کچھ اہم نکات میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ اس برس عراق تیل کے ذریعے اسّی بلین ڈالر کا ریونیو حاصل کرنے والا ہے جبکہ افغانستان کی حکومت کا بجٹ محض ایک بلین ڈالر سے بھی کم ہے۔

عراقی حکومت بخوشی اپنی فوج میں بہتر ہزار فوجیوں کو شامل کر رہی ہے۔ (فی الوقت ان کی فوج تیس لاکھ پر مشتمل ہے) جبکہ نئی ٹیکنالوجی پر وہ اربوں روپے خرچ کرنے جا رہی ہے۔

جہاں تک افغانستان کی سکیورٹی فورسز کو پوری طرح سے تیار کرنے کی بات کی جا رہی ہے وہیں یہ کسی کو بھی نہیں پتہ کہ آخر ایسا کرنے کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔

اسی بارے میں
خودکش حملے میں 25 ہلاک
26 August, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد