 | | | افغانستان میں جمہوریت پسندوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا: صدر بش |
امریکی صدر جارج بش نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان سے برسرِ پیکار امریکی فوجیوں کی مدد کے لیے کمک بھیج رہے ہیں۔انہوں نے عراق سے آٹھ ہزار فوجیوں کی واپسی کا بھی اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق میں سکیورٹی کی صورتِ حال میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ وہ فوجی جو عراق بھیجے جانے تھے، اب افغانستان روانہ کیے جائیں گے۔ صدر بش نے تسلیم کیا کہ طالبان اور القاعدہ میں ان کے حلیفوں نے افعانستان میں جمہوریت اور جمہوریت پسندوں کو دھچکا لگایا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ اور اس کے حلیف جمہوریت پسندوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور طالبان کو واپس ہونے سے روکیں۔ امریکی میرین فوجیوں کی ایک بٹالین جسے نومبر میں عراق بھیجا جانا تھا اب اسے افغانستان بھیجا جائے گا جس کے بعد لڑاکا فوج کے ایک بریگیڈ کو افغانستان روانہ کیا جائے گا۔ اس وقت ایک لاکھ تینتیس ہزار امریکی فوجی عراق میں ہیں جبکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد صرف تینتیس ہزار ہے۔ ایک لمبے عرصہ تک امریکی فوجوں کی عراق اور افغانستان میں تعیناتی سے متعلق فیصلہ نئے امریکی صدر پر چھوڑا جائےگا جو نومبر میں انتخابات کے بعد جنوری میں اپنا عہدے سنبھالے گا۔ |