حسن مجتبی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک |  |
 | | | جنرل مشرف اور بش انتظامیہ کے درمیاں رابطہ نہیں رہا:واشنگٹن پوسٹ |
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر بش کے مشیروں نے انہیں صدر مشرف کا فون نہ لینےکا مشورہ دیا ہے اور یہ بھی کہ کئي دنوں سے جنرل مشرف اور بش انتظامیہ کے درمیان رابطہ نہیں رہا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے صدر مشرف آئندہ چند دنوں میں مستعفی ہونے والے ہیں۔ اسی طرح واشنگٹن پوسٹ سمیت امریکی پرنٹ میڈیا نے اسی اختتام ہفتہ مختلف رپورٹوں میں لکھا ہے کہ صدر مشرف آئندہ چند دنوں میں پاکستان کی صدارتی کرسی چھوڑ نے والے ۔ ان رپورٹوں کے مطابق، صدر مشرف کو ’محفوظ راہداری‘ دینے کی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ بہرحال، 'واشنگٹن پوسٹ' نے لکھا ہے کہ صدر مشرف کیخلاف پاکستان میں نئے حکومتی اتحاد کی طرف سے مجوزہ مواخذے کی تحریک کی شکل میں ان پر سخت دباؤ بڑھتا جارہا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس صدر مشرف کی حمایت کرنےیا نہ کرنے کے معاملےپر بٹا ہوا ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے بش انتظامیہ میں اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ نائب صدر ڈک چینی اب بھی صدر مشرف کے حق میں ہیں جبکہ صدر بش کو ان کے مشیروں نے پرویز مشرف کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے اہم حلیف مانتے ہوئے بھی ان کے مواخذے کے معاملے پر فاصلہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک ایم این اے فرح ناز اصفہانی نے دعوی کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں صدر مشرف اپنا عہدہ چھوڑ رہےہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ، دو مرتبہ دہشتگردوں کے ہاتھوں قاتلانہ حملوں میں بھی بچنے میں کامیاب اور ماضی میں بحرانوں پر قابو پانیوالے صدر مشرف کو اس دفعہ اپنی سیاسی زندگی کے مواخذے کی صورت میں سب سے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ صدر مشرف کے بعد پاکستان مزید عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ دوسری طرف امریکی جردیدے ’یوایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ‘ نے لکھا ہے کہ صدر مشرف کے لیے وقت ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے۔ جریدے نے مزید لکھا ہے کہ صدر مشرف کوان کے قریبی ساتھیوں نے بھی استعفی کا مشور دیا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ سعودی جاسوسی ایجنسی کے سربراہ صدر مشرف کو محفوظ راہداری دلوانے کے لیےحکومتی اتحاد کے چوٹی کے رہنماؤں سے بات چیت کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی فوج کی جانب سے صدر مشرف پر واضح کردیا ہے کہ فوج ان کےخلاف مواخذے میں غیر جانبدار رہے گي۔ لیکن اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے صدر کے حمایتی سیاستدان چودھری شجاعت کے حوالے سےلکھا ہے کہ صدر مشرف نے استعٰفی دینے کے بجاۓ مواخذے میں ان کے خلاف عائد الزمات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ |