BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ ہمارا لگتا کیاہے؟‘

احساس کمتری، لالچ، غصہ، نفرت، محبت یا شکرگذاری؟ آخران میں سے کونسا لفظ صیح معنوں میں پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کے نوعیت کااظہار کرپائےگا؟

یہ سوال پاکستان میں اس وقت بحث کا مرکز بن جاتا ہے جب بھی کوئی اہم امریکی شخصیت پاکستان کا دورہ کررہی ہوتی ہے۔

امریکی صدر بش کی آمد کے ساتھ ہی یہ بحث زور پکڑ گئی ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے صدر کلنٹن نے پاکستان کا دورہ کیا تھا لیکن تب اور اب میں بہت فرق ہے۔

اب غیر یقینیت بہت ہے۔

پہلے صرف ایک سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن تھا اور اب متعدد نجی ٹیلی ویژن چینل ہیں۔

اور انہی پر ہم نے صدر مشرف کے صدر بش سے دوستی کے دعوی داری کو سنا اوریہ بھی سنا کہ مہمانوں کے استقبال کےلیے اپنی صاحبزادی کو ایئرپورٹ بھجوانے پر مسڑ بش نے پاکستانی صدر کا شکریہ ادا کیا۔

لیکن ان سب سے پہلے ہم نے بالکل الٹ موڈ میں کی گئی باتیں بھی سنیں۔ حزب اختلاف کے ایک رہنما عمران خان نے ایک ٹی وی چینل کو کہا کہ’بش صرف جی حضوری کو سمجتھے ہیں اور صرف جی حضوری چاہتے ہیں۔‘

عمران خان صدر بش کی آمد کے خلاف ایک احتجاجی جلوس نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں اس سے پہلے ہی ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

ٹی وی چینل پر عمران خان جاننا چاہ رہے تھےکہ پاکستانی حکومت کیوں اس کے ’بوٹ چاٹنا چاہ رہی ہے‘ جس نے ان کےبقول ’عراق میں لاکھوں کو ہلاک کیا اور جان بوجھ کر پاکستانی علاقے میں بمباری کی۔‘

ان باتوں کے جواب میں ایک حکومتی سنیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ’یہ صرف اور صرف ہمارااحساس کمتری ہے۔‘ ان کاکہنا تھا کہ ’انڈیا نے پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ امریکہ کی باتیں تسلیم کی ہیں لیکن وہاں کسی نے ایسی بات نہیں کی۔‘

عمران خان نے انکی اس بات کو رد کی اور کہا کہ’ ہم کسی ایسے لالچی کتے کی طرح ان کے آگے پیچھے پھر رہے ہیں جوہڈی پھینکے جانے کے انتظارمیں ہو۔‘

کئی ایسے بھی ہیں جو اپنے ناظرین کو مسلسل یہ یاد کروائے جارہے ہیں کہ اگر امریکی ہوائی امداد نہ پہنچ پاتی تو شاید اکتوبر زلزلے کے مزید ہزاروں متاثرین ہلاک ہوجاتے۔

ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کی دنیا کے لیے پالیسیاں جو بھی ہوں لیکن اس نے ہمارے لیے جو کچھ کیا ہم اس کے لیے اس کی ناشکری کر رہے ہیں۔‘

ایک ٹی وی چینل نے تو چند ناظرین کے تبصرے بھی دکھائے مثال کے طور پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کہہ رہا ہے کہ ’بش ہمیں دے کیا سکتے ہیں ؟ ہاں اگر وہ ہمیں وہ کچھ دیں جو ہم چاہتے ہیں تو پھرانہیں خوش آمدید ہے۔‘

ایک طالبلعم جاننا چاہ رہا تھا کہ’ کیا صدربش کی پاکستان آمد سے امریکی ویزے کے حصول میں آسامی پیدا ہوگی؟‘جبکہ ایک پروفیشنل کارکن کا کہنا تھا کہ ’میں امریکہ سے محبت کرتا ہوں امریکی لوگ بہت محنتی ہوتے ہیں اور اگر ہم بھی ان کی طرح محنتی ہوجائیں تو ہمیں بھی کسی کی طرف مدد کے لیےدیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

جبکہ ایک غصیلے مولوی کا کہنا تھا کہ’ یہ سب ڈرپوک ہیں‘ان کا کہناتھا کہ ’ایک طرف صدر مشرف خود کو کمانڈو کہتے ہیں، کمانڈو کا مطلب ایک بہادر آدمی ہوتا ہے لیکن وہ تو امریکہ سے ڈرتے ہیں۔‘

ان تمام حالات میں اب پاک امریکہ تعلقات میں پاکستان کے لیے سب سے مشکل بات یہی ہے کہ وہ امریکہ سے اپنے تعلقات کوآخر کیا نام دے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد