مشرف وردی کا فیصلہ خود کرینگے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان ڈی نیگرو پانٹے نے صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں کی کھل کر تعریف اور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وردی کا معاملہ صدر خود حالات کو دیکھ کر طے کریں گے۔ دو روزہ دورے کے دوران سنیچر کو صدر جنرل پرویز مشرف اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کے بعد امریکی سفارتخانے میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان سے مضبوط دوستی کا پیغام لائے ہیں۔ امریکہ کے تین اہم نمائندے جو علیحدہ علیحدہ طور پر پاکستان پہنچے مگر ایک ہی وقت میں پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملے ہیں، ان کی موجودگی کو خاصی اہمیت دی جار رہی ہے۔ چند روز قبل سٹیٹ ڈپارٹمینٹ کے ترجمان نے کہا تھا کہ صدر مشرف نے فوجی عہدہ چھوڑنے کا جو وعدہ کیا ہے وہ اس پر عمل کریں گے اور خود کو موجودہ اسمبلیوں کے بجائے نئی اسمبلیوں سے منتخب کروائیں گے۔ ترجمان کے اس بیان کے بعد سے ملکی و غیرملکی ذرائع ابلاغ میں امریکی حکام کی موجودگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔
لیکن جمعہ کو رچرڈ باؤچر نے چار ٹی وی چینلز کو مشترکہ انٹرویو دیتے ہوئے اور سنیچر کو نیگرو پانٹے نے نیوز کانفرنس میں جس طرح پاکستان اور صدر جنرل پرویز مشرف کی کھل کر حمایت کی اس سے امریکہ کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف پر دباؤ بڑھانے کی باتوں کی بظاہر نفی ہوتی ہے۔ نیگرو پانٹے سے جب پوچھا گیا کہ کیا چیف جسٹس کی معطلی پر صدر جنرل پرویز مشرف سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ’ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔‘ نیگرو پانٹے نے ایک سوال پر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فورسز نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور امریکہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے قبائلی علاقہ جات میں پاکستان حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی حکمت عملی کی حمایت کی اور فاٹا کے لیے پانچ برسوں میں پچہتر کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے امریکہ پندرہ کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اندرنی صورتحال کا انہیں علم ہے کہ حالات ٹھیک نہیں اور ایسے میں امریکہ پاکستان اور اس کے عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ بینظیر بھٹو اور صدر مشرف کے درمیان اقتدار کی شراکت کے لیے ثالثی سے انہوں نے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ انتخابات وقت پر شفاف انداز میں ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل احسان الحق، نائب آرمی چیف جنرل احسن سلیم حیات اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے بھی ملے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں امن کے قیام اور شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے پاکستان حکومت اور آئی ایس آئی کا نام لے کر تعریف کی۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لوگوں کے لاپتہ ہونے کے متعلق انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو آگے بڑھانے اور انسانی حقوق کا احترام کرنے کے بارے میں بات ہوئی۔ ’ہم مستقل طور پر اپنے سفارتخانوں کے ذریعے مانیٹر کرتے ہیں اور رپورٹ بھی کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر دیکھیں تو کچھ مثبت پہلو بھی ہیں جیسا کہ فری میڈیا بڑھا ہے، کئی ٹی وی چینل کھلے ہیں اور اس طرح کے دیگر پہلوؤں کو اگر دیکھیں تو انسانی حقوق کی صورتحال میں حال ہی میں مثبت چیزیں ہوئی ہیں۔‘ دریں اثناء امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر انچیف ولیم جے فالن نے بھی صدر جنرل پرویز مشرف اور دیگر اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ | اسی بارے میں ’فوج عوامی حکومت کی تابع‘ 05 April, 2006 | پاکستان ’پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر‘06 April, 2006 | پاکستان عدالتی بحران پر نظر ہے: امریکہ15 March, 2007 | پاکستان وردی پر امریکی کشمکش14 June, 2007 | پاکستان امریکہ پاکستان میں جمہوریت کاخواہاں14 June, 2007 | پاکستان باؤچرکی سیاسی و غیرسیاسی ملاقاتیں13 June, 2007 | پاکستان باؤچر پاکستان کے’انتخابی مشن‘ پر13 June, 2007 | پاکستان ’رچرڈ باؤچر کا بیان مداخلت نہیں‘19 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||